1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نئی تحقیق: کئی سائنسدان کورونا ویکسین بوسٹرز لگانے کے خلاف

19 ستمبر 2021

بین الاقوامی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ نئی تحقیق کے مطابق کورونا ویکسین کے بوسٹرز اشد ضروری نہیں اور اب تک دستیاب ویکسینز عام لوگوں کو پہلے ٹیکے لگانے کے لیے استعمال کی جانا چاہییں۔

https://p.dw.com/p/40JvE
Impfen von Kindern Corona-Impfung
تصویر: MiS/imago images

سائنسدانوں کے ایک بین الاقوامی گروپ نے عام شہریوں کو کووڈ ویکسین کا بوسٹر لگانے کی مخالفت کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ کورونا ویکسین کا درست اور مثبت استعمال پہلی مرتبہ لگانے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جن کو ابھی تک ویکسین نہیں لگی ہے انہیں بھی ویکیسن لگانا وقت کی ضرورت ہے۔

یہ ریسرچ رپورٹ پیر تیرہ ستمبر کو شائع ہونے والے معتبر سائنسی جریدے لینسیٹ کے شمارے میں شامل ہے۔

کورونا ویکسین کا بوسٹر ضروری؟ طبی مطالعے کے نتائج زیر غور

ریسرچ رپورٹ کے مرتبین

لینسیٹ جریدے میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کو سولہ سائنسدانوں نے مرتب کیا ہے۔ یہ کسی حد تک ایک  نظرثانی رپورٹ بھی قرار دی گئی ہے۔ ان سائنسدانوں نے ایسی کئی ریسرچ رپورٹس پر نظرثانی کی ہے، جن میں کورونا ویکسین کی تیار کردہ ویکسینوں کے آزمائشی دور اور کلینیکل آبزرویشن شامل ہیں۔

USA Schulanfang Schule Coronavirus Impfung
​​اسرائیل میں بالغ افراد کے ساتھ ساتھ بارہ سال تک کے بچوں کو بھی بوسٹر لگوانے کی پیشکش کر دی گئی ہےتصویر: Paul Hennessy/Zumapress/picture alliance

سولہ سائنسدانوں میں امریکی خوراک اور ڈرگ ادارے (ایف ڈی اے) کے سائنسی و طبی ماہرین اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سائنسی ریسرچرز بھی شامل ہیں۔

سولہ سائنسدانوں کی رائے

نظرثانی رپورٹ کے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ ویکسینیشن کا موجودہ سلسلہ حوصلہ افزا ہے کیونکہ اس نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ شدید بیماری کی کیفیت کو کم کر دیا ہے۔

ان کے مطابق خطرناک ڈیلٹا ویریئنٹ کے خلاف بھی یہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور ویکسین شدہ افراد میں ڈیلٹا وائرس کے حملے سے ان میں کووڈ انیس بیماری کی شدید علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

تیسری خوراک کی جگہ غریب ممالک کو ویکسین فراہم کریں، ڈبلیو ایچ او

ان ماہرین کا خیال ہے کہ ویکسینیشن کے موجودہ سلسلے سے واضح ہوتا ہے کہ عام آبادی کو بوسٹر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان میں وائرس کے شدید حملے میں بھی مدافعتی عمل مناسب سطح پر رہا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ کورونا وائرس کے حالیہ اضافے سے ویکسین شدہ افراد کے مدافعتی عمل میں کمی واقع ہونا ممکن ہے۔

Kuwait | WHO Generaldirektor Tedros Adhanom Ghebreyesus
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ ٹیڈروس گھبرائسس بھی بوسٹر کی مخالفت کر چکے ہیںتصویر: Jaber Abdulkhaleg /AA/picture alliance

غیر ویکسین شدہ افراد

رپورٹ کے ریسرچرز کی لیڈر اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنسی تحقیقی شعبے کی سربراہ انا ماریا ہیناؤ ریسٹریپو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد دستیاب نہیں کہ عام لوگوں کو بوسٹر لگانے کی فی الحال ضرورت ہے اور اسے درست بھی قرار دیا جائے۔ ہیناؤ ریسٹریپو کے مطابق ویکسین کا بنیادی مقصد لوگوں کے اندر وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنا ہے اور مختلف اقوام میں ویکسینیشن کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔

اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ غریب ممالک کی آبادیوں کو اس وقت ویکسین درکار ہے کیونکہ ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے ان غریب اقوام کا مدافعتی نظام مسلسل کمزور سے کمزور تر ہوتا جا رہا ہے۔

کورونا کا بُوسٹر: دوا ساز اداروں پر سونے چاندی کی برسات

نئی تحقیقی رپورٹ میں ریسرچرز نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کورونا وائرس کی موجودہ افزائش کا سبب وہ لوگ ہیں، جنہوں نے ابھی تک ویکسین نہیں لگوائی یا وہ اس کو لگوانے سے دانستہ طور پر گریز کر رہے ہیں کہ وہ سازشی نظریات کے زیر اثر رہتے ہوئے خوف زدہ ہیں۔ ماہرین نے غیر ویکسین شدہ افراد کو وائرس کی منتقلی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

Nigeria Kinder
افریقہ کی غریب اقوام کو کورونا ویکسین کی اشد ضرورت ہےتصویر: Imago Images/Zuma

بوسٹر لگانے والے ممالک

جرمنی اور فرانس میں بوسٹر کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ ابھی تک صرف بزرگ اور بیمار افراد کو لگائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے بارہ سال تک کے بچوں کو بھی بوسٹر لگانے کی پیشکش کر رکھی ہے۔

یونان اور اٹلی کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملکوں میں بھی جلد بوسٹر دستیاب ہو گا۔ دوسری جانب لینسیٹ میگزین میں چھپنے والی رپورٹ میں غریب ملکوں کو ویکسین کی عدم دستیابی کو زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

ع ح/ ک م (روئٹرز، ڈی پی اے، اے ایف پی)