میزائل ٹیسٹ کرنے کی کوشش شمالی کوریا کی سنگین غلطی ہو گی: جان کیری
13 اپریل 2013
جان کیری نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں کہا کہ اگر پیونگ یانگ حکومت میزائل ٹیسٹ کا فیصلہ کرتی ہے، خواہ اس کی سمت بحیرہ جاپان کی جانب ہو یا کسی اور طرف، یقینی طور پر یہ بین الاقوامی کمیونٹی کو نظر انداز کر کے کیا جائے گا اور یہ ایک سنگین غلطی ہو گی اور اس باعث شمالی کوریا عالمی سطح پر مزید تنہا ہو جائے گا۔ جنوبی کوریائی وزیر خارجہ یُون بییُونگ سی (Yun Byung Se) نے بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف سیئول اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہے اور پیونگ یانگ کو کسی طور پر بھی جوہری طاقت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ یون بیونگ سی کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے اتحادیوں کا دفاع کرے گا۔
جزیرہ نما کوریا میں پیدا شدہ جنگی کیفیت کے باعث جنوبی کوریا اور جاپان میں سکیورٹی کا لیول انتہائی چوکس رکھا گیا ہے۔ سکیورٹی کو ان اطلاعات کے بعد بڑھا دیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کسی وقت موسودان بیلاسٹک میزائلوں کا ٹیسٹ کرنے والا ہے۔ اسی جمعے کو شمالی کوریا کی حکومت نے ٹوکیو حکومت کو متنبہ کیا کہ جنگ کی صورت حال میں جاپان پہلا ٹارگٹ ہو گا۔ اس کشیدگی کی صورت حال میں امریکا کی جانب سے شش ملکی بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے اشارے بھی آئے ہیں۔ جنوبی کوریا کی خاتون صدر پارک گیون ہَے (Park Geun-Hye) نے شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔
جان کیری آج چین پہنچیں گے۔ اس سے قبل جنوبی کوریا میں امریکی وزیر خارجہ نے صدر پارک گیون ہَے سے بھی بات چیت کی تھی۔ جنوبی کوریائی دارالحکومت سیئول میں اپنے قیام کے دوران کیری نے وہاں کی عوام کو امریکی حمایت کا پیغام بھی پہنچایا۔ کوریائی خطے میں پیدا شدہ صورت حال کے حوالے سے کیری کا کہنا ہے کہ چین کے پاس یہ استعداد ہے کہ وہ ان حالات میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ماحول کی سنگینی کو کم کرے۔ چینی دارالحکومت میں کیری اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ چینی صدر شی جِن پِنگ سے بھی ملیں گے۔
چین میں قیام کے بعد جان کیری کے دورے کی اگلی منزل جاپان ہے۔ جاپان میں بھی کیری ٹوکیو حکومت کے ساتھ شمالی کوریا کے جارحانہ عزائم کے تناظر میں بات چیت کریں گے۔ جاپان نے اسی ہفتے کے دوران شمالی کوریائی جنگی بیان بازی کو دیکھتے ہوئے دارالحکومت ٹوکیو کے گردا گرد پیٹریاٹ میزائل نصب کر دیے ہیں۔ کیری نے چین اور جاپان کی خطے میں اہمیت کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکا ان دونوں ملکوں کے ساتھ یونٹی قائم کر کے ایسی تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے گی کہ موجودہ صورت حال میں آگے کیسے بڑھا جا سکتا ہے۔
شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کے حوالے سے امریکی خفیہ اداروں کی متضاد رپورٹیں سامنے آئی ہیں۔ اس مناسبت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واضح کرتا ہے کہ امریکی ایجنسیوں کے ایجنٹوں کے لیے پیونگ یانگ کے اندرونی حلقوں اور ماہرین تک رسائی اتنی سہل نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا کے انتہائی بہترین جاسوسی آلات کے حامل اداروں کو جزیرہ نما کوریا میں پیدا شدہ صورت حال کے حوالے سے اندازوں اور قیاس آرائیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ امریکا کے نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے اس کا اعتراف کیا ہے کہ شمالی کوریا جاسوسی کے لیے انتہائی مشکل ٹارگٹ ہے۔ کلیپر کے مطابق شمالی کوریا کے نوجوان لیڈر کِم ژُونگ اُن ابھی تک ایک پراسراریت کے لبادے میں ہے اور ان کے ارادوں اور خیالات کو جاننا خاصا مشکل ہے۔
(ah/as(dpa, AFP