مکہ کانفرنس: شام کا تنازعہ زیر بحث
15 اگست 2012
سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ میں ستاون ملکوں کی تنظیم او آئی سی کی سمٹ چودہ اگست سے شروع ہے۔ اس دو روزہ سربراہ اجلاس میں کئی ملکوں کے رہنما ایک خصوصی ہنگامی میٹنگ میں شریک ہیں۔ آج بدھ اس چوتھی غیر معمولی سمٹ کا آخری دن ہے۔ اس سے قبل تیسری غیر معمولی سمٹ کا انعقاد سن 2005 میں کیا گیا تھا اور میزبان ملک سعودی عرب ہی تھا۔ دو روزہ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بیشتر مسلمان ملکوں کے سربراہان حکومت و مملکت پیر سے ہی مکہ پہنچ چکے تھے۔ سعودی عرب پہنچنے والے لیڈروں کا شاندار استقبال کیا گیا۔
مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس منگل کی شب مکہ میں شروع ہوا۔ اس اجلاس میں بحران زدہ عرب ملک شام کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز دی گئی، جس کی ایران نے سخت مخالفت کی۔ اسلامی تعاون کی تنظیم OIC کے وزرائے خارجہ شام کی رکنیت معطل کرنے پر پہلے ہی متفق ہو چکے ہیں۔ اجلاس کی صدارت سعودی شاہ عبداللہ کر رہے ہیں جبکہ ایران کے صدر احمدی نژاد بھی اس میں شریک ہیں۔ ستاون رکنی او آئی سی میں کسی فیصلے کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شام کی معطلی کے فیصلے سے اسلامی دُنیا میں پائے جانے والے اختلافات کھل کر سامنے آ جائیں گے۔
دو روزہ غیر معمولی سربراہ اجلاس میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد، سوڈانی صدر عمر حسن البشیر، ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق، لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس کے نو منتخب صدر محمد یوسف المقریف، پاکستان کے صدر آصف زرداری، بنگلہ دیشی صدر ظل الرحمٰن، افریقی ملک سینیگال کے صدر مکی سال سمیت کئی دوسرے رہنما اس وقت مکہ پہنچے ہوئے ہیں۔ بیشتر صدور نے کانفرنس میں شرکت سے قبل مکہ میں عمرہ بھی کیا۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک مکہ میں شروع ہونے والی دو روزہ سمٹ کی بنیادی وجہ شام کا خونی تنازعہ اور جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار ہے۔ اس کے علاوہ افریقی ملک مالی میں پرتشدد فسادات میں شریک انتہاپسندوں کا معاملہ بھی زیر غور رہے گا۔ امریکا کے شہر نیو یارک میں قائم اہم تھنک ٹینک کونسل برائے خارجہ امور (Council on Foreign Relations) کے بنگلہ دیشی نژاد برطانوی تجزیہ نگار محمد محبوب حسین المعروف ایڈ حسین (Ed Husain) کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس سے ماضی کی طرح بنیادی حقائق کی مناسبت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ ایڈ حسین کا مزید کہنا ہے کہ علاقائی سرد جنگ کا عمل جاری ہے۔ تجزیہ نگار کی سرد جنگ سے مراد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں پائی جانے والی سردمہری ہو سکتی ہے۔ ایڈ حسین مزید کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا بدستور چیلنج ہے کہ وہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی قیادت کا حامل ملک ہے اور اس نظریے کو اس وقت ایرانی چیلنج کا سامنا ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیہ نگار کے نزدیک مسلمان ملکوں کی تنظیم، مختلف ملکوں میں جد و جہد، انقلاب اور پھر ہونے والے انتخابات کی آئینہ دار نہیں ہے۔
امریکی صدر باراک اوباما کے مسلمان ملکوں کی تنظیم کے لیے مقرر خصوصی ایلچی راشد حسن بھی مکہ کانفرنس میں شریک ہیں۔ راشد حسن کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے اور انہیں سن 2010 میں اوباما نے او آئی سی کے لیے امریکی مندوب مقرر کیا تھا۔ شام اور برما کی صورت حال کے بارے ہونے والی ڈسکشن میں وہ امریکی مؤقف پیش کریں گے۔ وہ اس کانفرنس میں بطور ایک مبصر کے شریک ہیں۔
ah/ng (AFP, Reuters)