1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لخضر براہیمی شام کے لیے نئے عالمی مندوب ہوں گے، اقوام متحدہ

18 اگست 2012

اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ الجزائر کے سفارت کار لخضر براہيمی شام کے لیے نئے بین الاقوامی مندوب ہوں گے۔ وہ کوفی عنان کی جگہ لیں گے، جو رواں ماہ کے آخر میں یہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/15sB3
تصویر: picture-alliance/dpa

نوبل امن انعام یافتہ 78 سالہ لخضر براہیمی گزشتہ کئی دِنوں سے شام کے لیے عالمی مندوب کا کردار نبھانے سے ہچکچا رہے تھے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ترجمان ادواردو ڈیل بیئی نے جمعے کو ایک بیان میں کہا: ’’سیکرٹری جنرل (اقوام متحدہ کے) اس اہم کام کے لیے قابلِ ذکر صلاحیتیں اور تجربہ فراہم کرنے پر براہیمی کی رضامندی کو سراہتے ہیں۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کام کے لے براہیمی کو سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری کی متفقہ معاونت کی ضرورت ہو گی۔

ادواردو ڈیل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے براہیمی کی تقرری کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بحران کے سفارتی حل تک پہنچنا اقوامِ متحدہ کی اوّلین ترجیح ہے۔ ادواردو ڈیل نے بتایا ہے کہ براہیمی جلد ہی بات چیت کے لیے نیویارک پہنچیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے براہیمی کو ایک منجھا ہوا اور باصلاحیت سفارت کار قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا براہیمی کو دیے گئے اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہے۔

Kofi Annan
اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنانتصویر: Reuters

اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے رواں ماہ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنی چھ ماہ کی مہم کے دوران عالمی برادری کی جانب سے تعاون میں کمی کی شکایت کی تھی۔

براہیمی 1991-93ء کے عرصے میں الجزائر کے وزیر خارجہ تھے۔ بعدازاں وہ افغانستان اور عراق کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب بھی رہے۔

عرب لیگ کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے 1980ء کی دہائی میں شام میں اس وقت کی حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے لبنان میں خانہ جنگی ختم کروانے میں مدد کی تھی۔

شام میں پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ گزشتہ 17 ماہ سے جاری ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اب شام کے صدر بشار الاسد دارالحکومت دمشق اور حلب میں باغیوں کو دبانے کے لیے فضائی حملوں پر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازعے کے نتیجے میں اب تک 18 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور تقریباﹰ ایک لاکھ 70 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

ng/aba (Reuters, AFP)