1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

قطر میں پہلی بار قانون ساز مجلس شوریٰ کے لیے انتخابات

2 اکتوبر 2021

قطر ميں قانون ساز شورٰی کونسل کے انتخاب دو اکتوبر بروز ہفتہ انتخابات منعقد ہوئے۔ اس پيش رفت کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے تاہم ساتھ ہی الیکشن میں خواتین امیدواروں کی تعداد نہایت کم ہونے کا شکوہ بھی کیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/41Azd
Saudi Arabia | Landung des Flugzeugs mit dem Emir von Katar
تصویر: Amr Nabil/AP/picture alliance

قطر ميں قانون ساز شورٰی کونسل کے ارکان کے انتخاب کے ليے تاريخ ميں پہلی مرتبہ اليکشن ہوئے۔ پينتاليس رکنی مجلس شورٰی کی دو تہائی يعنی تيس نشستوں کا انتخاب رائے دہی کے ذريعے ہو رہا ہے جبکہ بقيہ پندرہ ارکان کی تقرری قطری امير خود کريں گے۔ ہفتے کو ووٹنگ کے دوران عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ ليا۔ قطر میں پہلی بار الیکشن کے انعقاد کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے تاہم ساتھ ہی الیکشن میں خواتین امیدواروں کی تعداد نہایت کم ہونے کا شکوہ بھی کیا جا رہا ہے۔

قطر: پہلے عام انتخابات دو اکتوبر کو، خواتین امیدوار بہت کم

افغانستان کی مالی مدد: چین، پاکستان اور قطر سب سے آگے

قطری تنازعہ ختم، خلیجی عرب رہنماؤں کے معاہدے پر دستخط

خليجی رياست قطر میں کوئی سیاسی جماعت نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی مرحلے ميں تمام امیدوار بحيثت آزاد اميدوار حصہ لے رہے ہیں۔ امیدواروں کے لیے 30 سال سے زائد عمر اور قطری شہری ہونا لازمی ہے۔ قطر کی شہریت رکھنے والے 18 سال سے زائد عمر کے افراد ہی ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔

قطر کے وزیر اعظم شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز الثانی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قطر کی تاریخ میں منتخب شوریٰ کونسل کی تشکیل کے لیے ہونے والے پہلے انتخابات میں بھرپور طريقے سے حصہ لیں۔ کویت فی الحال واحد خلیجی بادشاہت ہے، جو ایک منتخب پارلیمنٹ کو خاطر خواہ اختیارات دیتی ہے، جو قوانین کو روک سکتی ہے اور وزراء سے سوالات بھی کر سکتی ہے۔ حتمی فیصلہ سازی وہاں بھی ہمسایہ ریاستوں کی طرح حکمران پر ہی منحصر ہے۔

مجلس شوریٰ قطر کی قانون ساز اسمبلی کی مانند ہے۔ يہ باڈی پاليسيوں کے تعين اور بجٹ کی منظوری جيسے معاملات کی نگران ہے۔ دفاع، سلامتی، اقتصادی اور سرمايہ کاری سے متعلق امور  مجلس شوریٰ   کے دائرہ اختيار ميں نہيں آتے۔

انتخابات ميں تيس اضلاع سے دو سو چونتيس اميدوار شامل ہيں، جن ميں سے خواتين کی تعداد صرف چھبيس ہے۔ انتخابی مہم سوشل ميڈيا پر چلائی گئيں جب کہ کميونٹی ميٹنگز اور سڑکوں پر اشتہاری بورڈز کی صورت ميں بھی اميدواروں نے عوامی تائيد بٹوری۔

قطر ميں غير ملکی ملازمين کی تعداد بہت زيادہ ہے۔ ملکی آبادی لگ بھگ دو اعشاريہ آٹھ ملين ہے، جس ميں قطری شہريوں کا تناسب صرف دس فيصد ہے۔ ليکن ان ميں سے بھی تمام شہريوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہيں تھی۔ ايک قانون کے تحت صرف ان شہريوں کو حق رائے دہی حاصل تھا، جن کے اہل خانہ سن 1930 سے قبل بھی قطر ميں تھے۔ ہيومن رائٹس واچ نے بھی ہزاروں قطری شہريوں کے ووٹ نہ ڈال سکنے پر تحفظات کا اظہار کيا ہے۔

ع س / ع ح (روئٹرز)