1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فوجی عدالتیں: آئین میں ترمیم کا فیصلہ

امجد علی2 جنوری 2015

پاکستانی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ مبینہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کی غرض سے قومی ایکشن پلان کے تحت خصوصی عدالتوں کے قیام کے لیے ملکی قیادت نے آئین میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1EEPj
Pakistan Islamabad All parties conference 02.01.2015
تصویر: picture alliance/ZUMA Press

پرویز رشید نے کہا کہ یہ فیصلہ اتفاقِ رائے کے ساتھ آج پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے اُس ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس کی قیادت وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کی اور جس میں ملک کی پوری سویلین اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم آئندہ پیر کے روز پارلیمان میں پیش کی جائے گی تاہم مقامی میڈیا کے مطابق ہفتہ تین جنوری کو تعطیل ہونے کے باوجود اسپیکر ایاز صادق نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستانی وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ مجوزہ خصوصی عدالتیں اُن تمام عناصر کے خلاف مقدمات سن سکیں گی، جن پر عام شہریوں، سلامتی کے اداروں کے ارکان یا پھر فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے اتفاقِ رائے تک پہنچنے کے معاملے میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ’قائدانہ کردار‘ کو سراہا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اس ہنگامی اجلاس کے اختتام پر جمیعت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے قومی ایکشن پلان کی کامیابی کے لیے دعا کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق پرویز رشید نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے آج کی کثیر الجماعتی کانفرنس میں لیے گئے فیصلوں کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور کہا کہ معصوم اور بے گناہ عورتوں اور بچوں کے قاتلوں کے مقدموں کی سماعت روایتی عدالتوں میں نہیں ہو سکتی۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ خصوصی عدالتوں کے قیام کا مطالبہ پاکستانی فوج کا نہیں ہے تاہم یہ کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں اِن کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس ایکشن پلان پر اب تک کافی بحث ہو چکی ہے اور ’پارلیمان میں اس پر مزید بحث کی گنجائش نہیں ہے‘۔

اس اجلاس میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی شرکت کی، جس کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد کہا کہ حکومت کے ’غیر سنجیدہ رویے‘ کے باوجود پی ٹی آئی نے کھلے دل کے ساتھ قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دسمبر میں پشاور میں قائم آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے ایک ہولناک حملے میں ایک سو سے زائد طلبہ کی ہلاکت کے بعد ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرنے اور مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری اور اُن کے خلاف قانونی کارروائی کو آسان بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔