فرینڈز آف سیریا کا اجلاس، شام میں بحرانی صورتحال برقرار
22 مئی 2013
اردن کے دارالحکومت عَمان میں ہونے والے فرینڈز آف سیریا کے اجلاس میں برطانیہ، مصر، فرانس، اٹلی، جرمنی، فرانس، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ امریکا سے تعلق رکھنے والے گیارہ اعلیٰ ترین مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس اجلاس کے دوران اہم علاقائی طاقتوں کے ساتھ ساتھ یورپی اور امریکی مندوبین مل کر کسی ایک حکمت عملی پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اس دوران دراصل جائزہ لیا جائے گا کہ شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے حوالے سے ہم کہاں پہنچ سکیں ہیں۔‘‘
نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اجلاس سے قبل عالمی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے امریکی وزیر خارجہ جان کیری ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جبکہ سات بجے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ بھی صحافیوں کو بریفنگ دیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر شامی صورتحال کے بارے معلومات فراہم کرنے کے لیے اردن میں تعینات شامی سفیر بہجت سلیمان بھی میڈیا سے مخاطب ہوں گے۔
حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مداخلت، امریکا کی تنقید
ادھر متعدد واچ ڈاگ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے متعدد جنگجو لبنان کے سرحدی راستوں سے شام میں داخل ہو گئے ہیں تاکہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑ سکیں۔ واشنگٹن حکومت نے حزب اللہ کی طرف سے شام میں مبینہ مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ لبنان کی اس تنظیم کے عسکری ونگ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ بنا رہی ہے۔
متعدد سکیورٹی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ شام میں گزشتہ 26 ماہ سے جاری سیاسی بحران کے اثرات ہمسایہ ممالک پر پڑنے لگیں ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیل اور شامی فورسز نے گولان کی متنازعہ سرحدی پہاڑیوں پر فائرنگ کا تبادلہ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شامی فورسز اس علاقے سے اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ بند نہیں کرتیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
’صورتحال انتہائی ابتر‘
اسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شیعہ تنظیم حزب اللہ کے عسکریت پسند صوبہ حمص میں واقع قصیر نامی علاقے میں جاری لڑائی میں حکومتی فورسز کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے، ’’ یہ واضح ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو اس لڑائی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ شامی فضائیہ نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور بہت سا علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔
رامی عبدالرحمان کے بقول قصیر میں اتوار سے جاری لڑائی میں حزب اللہ کے 31 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران 70 باغی اور 9 شامی فوجی بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں قصیر میں قریب 25 ہزار شہری پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی بچوں کے لیے کام کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ قصیر میں محصور ہونے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس ایجنسی کی خاتون ترجمان نے جینوا میں بتایا کہ اس علاقے کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔
اس بحرانی صورتحال میں دمشق حکومت کے ایک اہم حامی شیعہ ملک ایران نے کہا ہے کہ وہ شام کے بارے میں امریکا اور روس کی طرف سے تجویز کردہ امن مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ جون میں جینوا میں ہونے والے ان مذاکرات کے لیے شام نے کچھ ممالک کے رہنماؤں کو نامزد کیا ہے۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ شامی حکومت اور باغی دونوں ہی اس مذاکراتی عمل کے لیے بااعتماد ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ موجودہ ابتر صورتحال میں بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
ab/ah(AFP,Reuters)