1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غلاظت کی سیاست

شاہ زیب جیلانی
3 اگست 2020

مزید بارشوں سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور فوج کا ذیلی ادارہ ایف ڈبلیو او ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں برسوں کا گند کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے متحرک ہوگئے۔

https://p.dw.com/p/3gKan
Bildergalerie Monsun in Pakistan
تصویر: AFP/Getty Images/A. Hassan

پیر کو شہر میں صبح چھہ بجے سے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے اپنی ہیوی مشنری کے ساتھ گجر نالے کی صفائی شروع کی۔ ایف ڈبلیو او کے لفٹرز کو سیاہ رنگ کے گندے نالوں سے گاڑیوں کے ٹائر، بستر، پلاسٹک کا سامان اور دیگر گند کچرا نکالتے دیکھا گیا۔ اس موقع پر پولیس،رینجرز کے اہلکار تعینات نظر آئے۔

پاکستانی حکام کے مطابق صفائی کا کام کور کمانڈر کراچی کے زیر نگرانی عمل میں لایا جا رہا ہے۔

مزید بارشوں کی پیش گوئی

 پاکستان کے محکمہ موسمیات نےکراچی سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں سات اگست سے مون سون کی مزید بارشوں کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔

پچھلے ہفتے کی بارشوں کے بعد کراچی کے کئی علاقے اور راستے برساتی پانی میں ڈوب گئے تھے۔ مون سون کی ان بارشوں کے دوران کئی علاقوں میں سڑکوں پر پانی کے ریلے بہتے نظر آئے اور نشیبی علاقوں میں پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو گیا تھا۔

وفاق میں حکمراں پی ٹی آئی نے ان حالات کے لیے پیپلز پارٹی کو مورد الزام ٹھہرایا اور سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت کی بارہ سالہ کارکردگی پر کڑی تنقید سامنے آئی۔

پیر کو وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اپنے وزرا سمیت شہر کے نالوں کا دورہ کیا اور متوقع بارشوں سے پہلے ہنگامہ بنیادوں پر صفائی کے احکامات دیے۔

پیپلزپارٹی کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے دور حکومت میں کراچی کے انفراسٹرکچر پر کام کیا ہے، جس کی بدولت شہر کی بڑی شاہراؤں سے بارش کا پانی چند گھنٹوں کے اندر نکل جاتا ہے۔ صوبائی وزرا کے مطابق شہر کے نالوں اور بعض نشیبی علاقوں میں ناجائز تجاوزات اور قبضوں کے باعث صفائی کے کام میں مشکلات آتی ہیں۔

غلاظت کی سیاست یا سیاست کی غلاظت؟

کراچی شہر کے بڑے بڑے نالوں میں لوگوں کی طرف سے ہر قسم کا فضلہ پھینکنے اور مطلوبہ صفائی نہ ہونے کے باعث بارشوں کے دوران کئی نشیبی علاقے مصیبت میں گھر جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور اس سے پہلے ایم کیو ایم پر شہر میں لسانی سیاست اور ترقیاتی فنڈز خُردبرد کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے پچھلے ہفتے بدھ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور افواج پاکستان کو کراچی میں صفائی کا کام شروع کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ 

پیپلزپارٹی کی حکومت کا کہنا ہے کہ کراچی میں جس حساب سے پورے ملک سے لوگوں کی ہجرت ہوئی ہے، صوبائی حکومت تنہا شہر کی ترقی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور اس کے لیے وفاق کو وسائل مہیا کرنے ہوں گے۔ صوبائی حکومت کے مطابق پی ٹی آئی نے شہر سے ووٹ لیے لیکن کراچی کی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹانے کی بجائے اس کی حالت پر سیاست اور الزام تراشی کو ترجیح دی ہے۔

کراچی سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل کا کہنا ہے کہ تیز بارش کے بعد لاہور جیسے شہر کی بھی سڑکوں اور انڈر پاسز پر پانی جمع ہوجاتا ہے لیکن میڈیا اسے نظر انداز کر کے کراچی کو اچھالتا ہے کیونکہ بغض پیپلزپارٹی سے ہے۔