1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتاسرائیل

غزہ پر فضائی حملے: جہاد اسلامی کے تین کمانڈر، دس شہری ہلاک

9 مئی 2023

غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے پر اچانک کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں عسکریت پسند تنظیم جہاد اسلامی کے تین سرکردہ کمانڈر اور دس عام فلسطینی شہری مارے گئے۔ یہ فضائی حملے اسرائیل پر کیے گئے راکٹ حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

https://p.dw.com/p/4R5WU
Gazastreifen | israelische Luftangriffe
تصویر: Fatima Shbair/AP Photo/picture alliance

غزہ پٹی سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے یہ فضائی حملے منگل نو مئی کے روز کیے گئے۔ ان حملوں کے بعد جہاد اسلامی نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے جبکہ مصر نے، جس نے ماضی میں اس فلسطینی علاقے میں عسکریت پسندوں کے ساتھ فائر بندی میں ثالثی کی تھی، ان نئے اسرائیلی حملوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

اسرائیلی شہریوں کو گھروں پر رہنے کی ہدایت

خبر رساں ادارے روئٹرز نے لکھا ہے کہ اسرائیل نے جہاد اسلامی کی طرف سے جوابی حملوں اور کشیدگی میں اضافے کے خدشے کے پیش نظر غزہ پٹی کے قریبی اسرائیلی قصبوں میں تمام سڑکیں بند کر کے وہاں کے رہائشی باشندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں اور بم دھماکوں کے دوران سلامتی کو یقینی بنانے والی پناہ گاہوں کے قریب ہی رہیں۔

فلسطین: فنڈ کی قلت کے سبب اقوام متحدہ کا فوڈ پروگرام معطل

Gazastreifen | Zerstörung nach israelischen Luftangriffen in Gaza Stadt
غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں اسرائیل نے گزشتہ ماہ بھی غزہ سٹی پر فضائی حملے کیے تھےتصویر: 07.04.2023Mohammed Salem/REUTERS

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے اپنے کچھ ریزرو فوجیوں کو طلب کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ اسرائیلی فوجی آئرن ڈوم نامی فضائی دفاعی نظام میں استعمال کے لیے راکٹوں کی بیٹریاں ٹرکوں پر لاد رہے تھے۔

ایرانی صدر رئیسی کا پہلی بار غزہ میں فلسطینی ریلی سے خطاب

غزہ سٹی سے ملنے والی دیگر خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق غزہ پٹی میں فلسطینی عسکریت پسندوں اور اسرائیل کے مابین اس تازہ کشیدگی میں مزید شدت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ آیا اس کشیدگی میں اس فلسطینی علاقے پر حکمران اور مغربی دنیا کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس بھی ویسے ہی شامل ہو جاتی ہے، جیسا اس نے 2021ء کی جنگ میں کیا تھا۔

غزہ میں ممکنہ جنگی جرائم کی انکوائری کرائی جائے، ایمنسٹی

Gazastreifen | Zerstörung nach israelischen Luftangriffen in Gaza Stadt
غزہ سٹی پر ایک حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد زمین میں بننے والا گڑھاتصویر: Mohammed Salem/REUTERS

سکیورٹی کابینہ کے اسرائیلی وزیر کا موقف

اسرائیل کے ساتھ جہاد اسلامی کے اس جھگڑے میں حماس شامل نہ ہو، اپنی طرف سے اس حوالے سے حماس کو تنبیہ کرتے ہوئے اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے وزیر کاٹز نے تل ابیب کے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ حماس کی قیادت کو بھی ممکنہ طور پر ہدف بنا کر ہلاک کیا جا سکتا ہے۔

مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے اور یروشلم میں تو گزشتہ ایک سال کے دوران کافی زیادہ بدامنی دیکھنے میں آتی رہی ہے، تاہم اب غزہ پٹی کے علاقے سے سرحد پار اسرائیلی علاقے میں راکٹ فائر کیے جانے کے واقعات بھی کافی زیادہ ہو چکے ہیں۔

غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملوں میں خاص طور پر گزشتہ ہفتے اس وقت سے مزید تیزی آ چکی ہے، جب اسرائیلی حراست میں جہاد اسلامی کے ایک رہنما کی بھوک ہڑتال کے بعد موت واقع ہو گئی تھی۔

اسرائیل کا کمیشن آف انکوائری کے ساتھ تعاون سے انکار

Gazastreifen | israelische Luftangriffe
تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں میں جہاد اسلامی کے تین اہم کمانڈر اور چار بچوں اور پانچ خواتین سمیت دس فلسطینی شہری بھی مارے گئےتصویر: Mohammed Salem/REUTERS

مارے گئے عسکریت پسند کمانڈر کون تھے؟

جہاد اسلامی نے منگل کے روز بتایا کہ اس کے جو تین کمانڈر تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں مارے گئے، وہ جہاد غنام، خلیل البہتینی اور طارق عزالدین تھے۔ یہ تینوں جہاد اسلامی نامی اس فلسطینی عسکریت پسند تنظیم کے سینیئر کمانڈر تھے، جسے ایران کا تعاون حاصل ہے اور جسے مغربی دنیا کی طرف سے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر ’آہنی دیوار‘ مکمل کر لی

طبی ذرائع کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں جہاد اسلامی کے ان تین کمانڈروں کے علاوہ مارے جانے والے دس عام فلسطینی شہریوں میں چار بچے اور پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ شہری ہلاکتیں اس لیے ہوئیں کہ اسرائیلی حملوں کی زد میں غزہ کے عام رہائشی علاقے بھی آ گئے تھے۔

اسرائیلی وزیر کا دورہ بیت المقدس، مسلمان ممالک کا احتجاج

طویل عرصے سے ہر طرف سے مسلسل ناکہ بندی کا شکار غزہ پٹی کے فلسطینی علاقہ ایک ایسا انتہائی گنجان آباد خطہ ہے جہاں صرف 365 مربع کلومیٹر یا 140 مربع میل رقبے پر 2.3 ملین فلسطینی رہتے ہیں۔

م م / ع ا، ش ر (روئٹرز، اے ایف پی، اے پی)