عالمی کم ترین کارپوریٹ ٹیکس معاہدے پر دستخط ہو گئے
2 جولائی 2021
جرمنی نے جمعرات کے روز ہونے والے اس عالمی ٹیکس معاہدے کی تعریف کرتے ہو ئے کہا کہ اس سے بڑی کمپنیوں کی جانب سے مناسب ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی اور یہ ٹیکس کے وسیع تر منصفانہ نظام کی جانب ایک ”بڑا قدم" ہے۔
ایک سو تیس سے زائد ملکوں نے 15 فیصد کے کم ترین کارپوریٹ ٹیکس معاہدے پر دستخط کیے۔ پیرس میں قائم اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کا کہنا ہے کہ اس سے ہر سال دنیا میں ٹیکس کے ذریعہ 150 ارب ڈالرکی اضافی آمدن ہوسکے گی۔ او ای سی ڈی اقتصادی ترقی اور عالمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے 1961میں قائم کی گئی تھی۔
جرمن وزیر خزانہ اولاف شلز نے معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا،”کم ترین عالمی کارپوریٹ ٹیکس پر اتفاق رائے ٹیکس کے وسیع تر منصفانہ نظام کی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ کم ترین ٹیکس رکھنے کی دوڑ اب ختم ہوگئی۔"
انہوں نے مزید کہا،”مستقبل میں بڑی کمپنیاں ہمارے مشترکہ مفاد میں اپنے منافع کا منصفانہ حصہ مالی مدد کے طور پر ادا کریں گی۔"
امریکا نے او ای سی ڈی معاہدے کا خیر مقدم کیا
امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا،”عالمی کم ترین ٹیکس نافذ ہوجانے کے بعد ملٹی نیشنل کمپنیاں ٹیکس کی شرحوں کو کم کرنے کے لیے اب ملکوں پر دباو نہیں ڈال سکیں گی۔ وہ اب امریکا یا کسی دوسرے ملک، جہاں ٹیکس کی شرحیں کم ہیں، میں حاصل ہونے والے منافع کو چھپا نہیں سکیں گی اور اس کا خاطر خواہ حصہ ادا کرنے سے انکار نہیں کرسکیں گی۔"
او ای سی ڈی کی ثالثی میں ہونے والی میٹنگ میں ملکوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ 888 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ ٹرن اوور والی کمپنیوں پر 15 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کی جائے گی۔
جی سیون کے وزرائے خزانہ کی میٹنگ، کارپوریٹ ٹیکس کا معاہدہ
صرف جہاز رانی کی صنعت کو اس سے مستشنی رکھا گیا ہے کیونکہ کوئی ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جہاز رانی کی کمپنیاں اس ملک کے قوانین کے مطابق ٹیکس ادا کرتی آرہی ہیں جہاں وہ رجسٹرڈ ہیں۔
جن ملکوں نے اس معاہدے کی حمایت کی ہے وہ عالمی جی ڈی پی کے 90 فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرتی ہیں تاہم کچھ ملکوں نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔
آئر لینڈ کو عالمی ٹیکس معاہدہ منظور نہیں
آئر لینڈ نے 15 فیصد کی عالمی ٹیکس شرح کی حمایت کرنے سے انکار کردیا۔ وہ دنیا کی کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں مثلاً ایپل اور فیس بک کو لبھانے کے لیے اپنے یہاں 12 فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنے کی رعایت دیتی ہے۔
آئرلینڈ کے وزیر خزانہ پاسکل ڈونوہوئے نے کہا کہ ان کی حکومت”اس معاہدے میں شامل ہونے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور بالخصوص عالمی ٹیکس کی کم ترین شرح 15 فیصد رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔"
انہوں نے مزید کہا،”میں آئرلینڈ کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتا ہوں تاہم ایسا کوئی راستہ تلاش کرنے کا وعدہ کرتا ہوں جس سے کہ آئرلینڈ بھی اس معاہدے کی حمایت کر سکے۔"
عالمی ٹیکس قوانین میں ’انقلاب‘ چند ہفتوں میں، جرمن وزیر خزانہ
فن سین فائلز: ’بڑے بینکوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے‘
جن دیگر ملکوں نے اس معاہدے کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ان میں ہنگری، اسٹونیا اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔
برطانیہ، جس نے حال ہی میں جی سیون کی صدارت سنبھالی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں پر سخت ضابطے نافذ کرنے کی حمایت کرتا رہا ہے تاکہ ان کمپنیوں کواپنے منافع وسرے ملکوں میں منتقل کرنے سے روکا جا سکے۔
برطانوی وزیر خزانہ رشی سناک نے کہا،”یہ معاہدہ عالمی ٹیکس اصلاحات کے ہمارے مشن میں مزید ایک اور قدم ہے۔"
او ای سی ڈی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کی تکنیکی تفصیلات اکتوبر تک شائع کردی جائیں گی تاکہ نئے ضابطوں کو سن 2023 سے نافذ کیا جا سکے۔
ج ا/ ص ز (اے پی، روئٹرز)