1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شوگر کے مریضوں کے پاؤں کے زخم بھرنے میں معاون صوتی لہریں

مقبول ملک ، روئٹرز کے ساتھ
16 نومبر 2025

ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق ذیابیطس یا شوگر کے مریضوں کے پاؤں کے دیرینہ زخموں کے بھرنے کے عمل میں خاص قسم کی صوتی لہریں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایسی ہائی انرجی ساؤنڈ ویوز زخموں کے بھرنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہیں۔

https://p.dw.com/p/53RzP
ایک نوجوان مریض کے پاؤں کی انگلیاں جن پر زخموں کو ان کی ابتدائی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے
ذیابیطس کے مریضوں کو ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں صاف رکھیں اور ان پر کوئی چوٹ نہ لگنے دیںتصویر: Courtesy of Dr. Amy Paller/Northwestern University via AP/picture alliance

ماہرین کے مطابق زیادہ توانائی والی صوتی لہریں خاص طور پر شوگر کے مریضوں کے پاؤں کے ایسے زخموں کے مندمل ہونے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جن کے علاج کے لیے تھیراپی کے دیگر معیاری طریقے کارگر ثابت نہ ہوئے ہوں۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس موضوع پر نئی تحقیق اسپین کے طبی محققین کی ایک ٹیم نے کی، جس کے نتائج حال ہی میں 'میڈیکل سائنسز‘ نامی طبی تحقیقی جریدے کی تازہ اشاعت میں ایک رپورٹ کا حصہ بنے۔

پاکستان میں ہر 20 میں سے نو افراد ہائی بلڈ پریشر کا شکار

اس تحقیق کے دوران ماضی میں صحت سے متعلق مختلف اوقات میں مکمل کیے گئے پانچ تجرباتی منصوبوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ایک جگہ جمع کر کے اس کا تجزیہ کیا گیا۔

ایک نرس ایک مریض کے زخمی پاؤں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے
شوگر کے مریضوں کے پاؤں کے زخم بھرنے میں بہت دیر لگتی ہےتصویر: Norbert Försterling/dpa/picture alliance

ای ایس ڈبلیو ٹی تھیراپی

ہسپانوی محققین کی ٹیم اس طبی تحقیقی جائزے کے دوران اس نتیجے پر پہنچی کہ اگر مروجہ طریقہ علاج اور معیاری تھیراپیز کے ساتھ ساتھ مریضوں کی صوتی جھٹکوں کی صورت میں ماورائے جسم آوازوں کے ساتھ تھیراپی کی جائے، تو ذیابیطس کے مریضوں کے پاؤں کے دیرینہ زخموں کے مندمل ہو جانے کا امکانات کو بڑھا کر تقریباﹰ تین گنا کیا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی ذیابیطس کی افزائش میں اہم ہے، ریسرچ

اس طرح کی تھیراپی کو extracorporeal shock wave therapy یا مختصراﹰ ESWT کہا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی تھیراپی میں صوتی توانائی یا ساؤنڈ انرجی کو خون کی نئی شریانوں کی نشوونما، پٹھوں کے دوبارہ بننے اور سوزش میں کمی کو تحریک دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ہائی انرجی ساؤنڈ ویوز کے ساتھ مریضوں کی ایسی تھیراپی ان کے کسی بھی ہسپتال میں 'آؤٹ پیشنٹ‘ کے طور پر مختصر قیام کے دوران کی جاتی ہے اور اس کے لیے مریضوں کو پہلے بے ہوش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

شوگر کے کئی مریضوں کو روزانہ خود کو ایک سے زائد مرتبہ انسولین کے انجیکشن (تصویر) لگانا پڑتے ہیں
شوگر کے کئی مریضوں کو روزانہ خود کو ایک سے زائد مرتبہ انسولین کے انجیکشن لگانا پڑتے ہیںتصویر: Niehoff/IMAGO

شاک ویو ساؤنڈ تھیراپی کے اثرات کتنے مثبت؟

اس ریسرچ کے دوران ذیابیطس کے زیر مطالعہ مریضوں کی مجموعی تعداد 672 تھی۔ ان سب کے پاؤں پر زخم تھے، جو پرانے تھے اور تمام مریضوں کے ایسے زخموں کی طبی دیکھ بھال معیاری طریقوں سے کی گئی۔

لیکن ان 672 مریضوں میں سے نصف یعنی 336 کے زخموں کی دیکھ بھال کے لیے معیاری طریقوں کے ساتھ ساتھ ان کی ای ایس ڈبلیو ٹی تھیراپی بھی کی گئی، جس کا انفرادی دورانیہ تین ہفتوں سے لے کر 20 ہفتوں تک رکھا گیا۔

موٹاپا اور ذیابیطس بھی سرطان کا سبب بن رہے ہیں

اس تھیراپی کے بعد ریسرچرز نے دیکھا کہ اسٹینڈرڈ میڈیکل کیئر والے مریضوں کے گروپ کے مقابلے میں ساؤنڈ ویوز شاک تھیراپی والے مریضوں میں ان کے پاؤں کے زخموں میں بہتری کے امکانات تین گنا ہو گئے تھے۔

ایک شخص جس کی ایک ٹانگ گھٹنے سے نیچے مصنوعی ہے
شوگر کے مریضوں کے پاؤں کے زخم پھیلنے لگیں، تو ان کی جان بچانے کے لیے ڈاکٹروں کو ان کے پاؤں یا ٹانگ کا ایک حصہ کاٹنا بھی پڑ جاتا ہےتصویر: Winfried Rothermel/IMAGO

شوگر کے مریضوں میں فٹ السرز کتنا بڑا مسئلہ؟

ذیابیطس کے مریضوں کو دنیا بھر میں ڈاکٹر ہمیشہ یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اور پاؤں صاف رکھیں اور ان پر کوئی چوٹ نہ لگنے دیں۔ ایسا اس لیے کہا جاتا ہے کہ کوئی چوٹ لگنے سے یا بظاہر کوئی چوٹ نہ لگنے کے باوجود ایسے مریضوں کے پاؤں پر جو زخم بن جاتے ہیں، وہ بالعموم بھرتے نہیں۔

کینسر، ذیابیطس اور پارکنسنز کا علاج جلد ہی، اسٹیم سیلزکا کلینیکل ٹرائل

ان زخموں کو ڈاکٹر فٹ السرز (foot ulcers) کہتے ہیں اور وہ ذیابیطس کے مرض کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سب سے عام لیکن انتہائی سنجیدہ پیچیدگی قرار دیے جاتے ہیں۔

پاؤں پر ایسے دیرینہ اور نہ بھرنے والے زخم دنیا بھر میں تقریباﹰ 463 ملین انسانوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے زخم پھیلتے جانے کی صورت میں 40 فیصد تک مریضوں کی زندگیاں بچانے کی کوشش میں ان کے پاؤں کاٹ دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں تقریبا 33 ملین لوگ ذیابیطس کا شکار

محققین پُرامید کیوں؟

اس میڈیکل ریسرچ کے نتیجے میں ہسپانوی محققین کے لیے ایسے زخموں کے مندمل ہو جانے کے امکانات کا تین گنا ہو جانا بہت امید پسندی کی وجہ بنا۔

اس ریسرچ ٹیم کی طرف سے کہا گیا، ''ذیابیطس کی بیماری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فٹ السرز، جن کا ایک طبی پیچیدگی کے طور پر علاج اکثر بہت ہی مشکل ہوتا ہے، یہ ساؤنڈ ویو تھیراپی ایسے السرز کے علاج میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت کا اشارہ دیتی ہے۔‘‘

جنوبی ایشیائی باشندوں میں ذیابیطس کا خطرہ زیادہ، نئی تحقیق

ساتھ ہی اس ٹیم کی طرف سے کہا گیا، ''اس تھیراپی سے ثابت ہونے والی بہتری اس لیے بھی بہت خوش آئند ہے کہ فٹ السرز شوگر کے مریضوں کی روزمرہ زندگی اور ان کے معیار زندگی کو واضح طور پر متاثر کرتے ہیں۔‘‘

ادارت: شکور رحیم

لبلبہ کیا ہوتا ہے

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔