شمالی روس سے جہادیوں کی شام روانگی
14 نومبر 2013
خبر رساں ادارے روئٹرز کے ایک تبصرے کے مطابق ایک طرف روسی حکومت شامی صدر بشار الاسد کی سب سے بڑی حامی ہے تو دوسری طرف شمالی روس کے علاقے قفقاز سے تعلق رکھنے والے اسلام پسند نوجوان شام میں باغیوں کی مدد کرنے کے لیے براہ راست جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
قفقاز صوبہ داغستان کے قریب واقع ہے۔ وہاں کے گاؤں نووسَسِتلی کی ہر گلی میں شامی باغیوں حق میں نعرے درج ہیں۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ یہاں سے تعلق رکھنے والے 2000 سے زائد نوجوان اسد حکومت کے خلاف باغیوں کا ساتھ دینے کے لیے شام لڑ رہے ہیں۔ نووسَسِتلی کی ضلع کونسل کے ایک رکن کا اس حوالے سے کہنا ہے: ’’ ہمارے لڑکوں کی ایک پوری برگیڈ شام میں حکومت کے خلاف لڑ رہی ہے۔‘‘
اس صورت حال پر ماسکو حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پوٹن انتظامیہ کو اب یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد یہ جنگجو روس واپس پہنچ کر مقامی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ 23 ستمبر کو دیے گئے ایک بیان میں روسی صدر کا کہنا تھا، ’’عسکریت پسند کہیں باہر سے نہیں آئے اور نہ وہ کہیں ہوا میں غائب ہو جائیں گے۔‘‘
جنوبی قفقاز اور داغستان کے علاقوں میں پہلے ہی ایک تحریک موجود ہے۔ وہاں اسلام پسند لوگ اپنی ایک الگ ریاست چاہتے ہیں۔ وہاں کے لوگ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست بدعنوان ہے لہٰذا وہ شریعت کے مطابق اپنے قوانین کے تحت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
ایک مقامی عالم کا کہنا ہے یہاں موجود لوگوں پر یہ فرض نہیں کہ وہ شام میں جا کر باغیوں کے خلاف لڑیں لیکن اگر کوئی اپنی مرضی سے جانا چاہتا ہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔
شمالی روس میں پیدا ہونے والے ان نوجوانوں میں بہت زیادہ احساسِ محرومی پایا جاتا ہے۔ ان کی زندگی خطروں سے کھیلتے ہوئے گذری ہے۔ اس علاقے میں پُرتشدد کارروائیاں اب روز کا معمول بن چکا ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں صرف نووسَسِتلی کے علاقے میں روسی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے پندرہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
حکام نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ جنگجو 2014ء کے سرمائی اولمپک کھیلوں کے دوران دہشت گردانہ کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی ساکھ ان کھلیوں کی وجہ سے داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ انہیں بھی اندازہ ہے کہ شام سے واپسی پر یہ عسکریت پسند ان کے لیے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں۔