1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولیورپ

شدید گرمی کی لہر پر جرمنی میں گرما گرم سیاسی بحث

جاوید اختر (ژینس تھوراؤ)
4 جولائی 2026

ماہرین کے مطابق جرمنی میں ابھی ایسا کوئی قانون موجود نہیں، جس کے تحت اداروں میں کولنگ سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی جائے۔

https://p.dw.com/p/5GOPP
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جاری شدید گرمی کی لہر کے دوران شہری برانڈن برگ گیٹ کے قریب پولیس کی واٹر کینن سے چھڑکے گئے پانی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں
شدید گرمی کے دوران شہریوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے فواروں کے ساتھ ساتھ پولیس کی واٹر کینن (پانی پھینکنے والی گاڑیوں) کا بھی استعمال کیا گیتصویر: Axel Schmidt/REUTERS

حالیہ شدید گرمی کی لہر پر جرمنی میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی حکومتی تیاریوں پر سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی جرمن حکومت کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مستقبل میں شدید گرمی کے دوران انسانی جانوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کا بہتر تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جرمنی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جسے ماہرین نے خاص طور پر بزرگوں کے نگہداشت مراکز، نرسنگ ہومز اور ایسے ہسپتالوں کے لیے خطرناک قرار دیا جہاں ایئر کنڈیشننگ کا مناسب انتظام موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق جرمنی میں اب تک ایسی کوئی قومی قانون سازی موجود نہیں، جس کے تحت ان اداروں میں کولنگ سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہو۔

شدید گرمی نے نقل و حمل کے نظام کو بھی متاثر کیا۔ کئی علاقوں میں ٹرینیں اور ٹرام سروس متاثر ہوئیں جبکہ سڑکوں پر بچھا اسفالٹ بھی جگہ جگہ پگھلنے  لگا۔

ایک دکان پر لگا ہوا حرارت پیما، جس میں درجہ حرارت 42 ڈگری سے زیادہ درج ہوا
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر جرمنی میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا،تصویر: teutopress/picture alliance

شہروں میں گرمی کا مسئلہ زیادہ شدید

جرمن وفاقی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران جرمنی میں روزانہ اوسطاً 50 ہیکٹر قدرتی زمین کو رہائشی، تجارتی یا ٹرانسپورٹ کے مقاصد کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ زمین کا کی یہ رقبہ تقریباً 70 فٹ بال میدانوں کے برابر بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر کنکریٹ اور اسفالٹ بچھانے سے بارش کا پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا، جس سے شدید بارشوں کے دوران سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے بخارات بن کر اڑنے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں شہری علاقوں کا درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے اور اربن ہیٹ آئی لینڈ کا مسئلہ شدت اختیار کرتا ہے۔

حکومت اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کا معاملہ

جرمنی کے وزیر ماحولیات کارسٹن شنائیڈر نے سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی بنیادی ذمہ داری وفاقی ریاستوں اور بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ وفاقی حکومت پر۔

انہوں نے کہا، ''میں براہِ راست مالی معاونت بھی فراہم نہیں کر سکتا کیونکہ جرمنی کا بنیادی قانون (آئین) اس کی اجازت نہیں دیتا۔‘‘

البتہ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ آئین میں ممکنہ ترمیم پر بات کریں گے تاکہ وفاقی حکومت اس شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکے۔

ایک چرچ کے اوپر  سورج
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برقرار رہیں گتصویر: Florian Gaertner/IMAGO

کاربن اخراج کے اہداف کا حصول مشکوک

جرمنی نے 1990 کے مقابلے میں 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 65 فیصد کمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جس میں اب تک تقریباً 48 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے۔

تاہم متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ رفتار کے ساتھ حکومت اپنے مقررہ اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ مؤثر موسمیاتی پالیسیاں ضروری ہیں لیکن گزشتہ برسوں میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اثرات کی وجہ سے آنے والے برسوں میں بھی شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات برقرار رہیں گے۔

دریں اثنا چانسلر فریڈرش میرس کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت نے ایک مرتبہ پھر تیل اور گیس سے چلنے والے ہیٹنگ سسٹمز کی تنصیب کی اجازت دی ہے ۔

برلن میں بچے پانی سے کھیلتے ہوئے
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کی بنیادی ذمہ داری وفاقی ریاستوں اور بلدیاتی اداروں پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ وفاقی حکومت پرتصویر: Ebrahim Noroozi/AP Photo/picture alliance

عوامی ترجیحات میں موسمیاتی تبدیلی پیچھے

ادھر حالیہ کئی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمن عوام کی بڑی تعداد اب موسمیاتی تبدیلی کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دے رہی۔

جون کے آغاز میں ایک ادارے کی  جانب سے کیے گئے ملک گیر سروے کے مطابق صرف 10 فیصد افراد نے ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کو اپنی اولین یا دوسری بڑی ترجیح قرار دیا۔

اس کے برعکس معاشی سست روی اور امیگریشن جیسے مسائل عوامی ترجیحات میں سرفہرست رہے۔

تاہم یہ سروے جرمنی میں حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر سے قبل کیا گیا تھا، جس کے بعد ماہرین کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عوامی بحث دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

ادارت: شکور رحیم

یہ مضمون پہلی بار جرمن زبان میں شائع ہوا۔

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔