1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شامی بحران اور ادویات کی اسمگلنگ

Imtiaz Ahmad4 جولائی 2012

بحرانی حالات کے شکار ملک شام میں ہلاک اور زخمی ہونے والے اسد مخالفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث وہاں طبّی ساز و سامان اور ادویات کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اب یہ چیزیں ترکی کے راستے اسمگل ہو کر باغیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

https://p.dw.com/p/15QtZ
تصویر: DW/G.Anderson

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسمگلر ایک گھنٹے تک پیدل چلتے ہوئے خفیہ راستوں کے ذریعے شام کی سرحد پر پہنچتے ہیں اور پھر امدادی طبّی اشیاء وہاں پر پہلے ہی سے موجود اپنے دیگر ساتھیوں کے حوالے کر دیتے ہیں، جس کے بعد یہ امداد گاڑیوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچائی جاتی ہے۔

یہ سفر انتہائی پُرخطر ہے۔ اسمگلروں کو نہ صرف حراست میں لیا جا سکتا ہے بلکہ شامی فوج کی طرف سے گولیوں کا نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔

لبنان میں شامی پناہ گزینوں کی مدد گار کمیٹی اور شام کے متاثرہ علاقوں کے لیے طبّی امداد اکٹھی کرنے والے خالد مصطفیٰ کہتے ہیں، ’’ادویات کے ساتھ پکڑے جانا ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے مترادف ہے۔‘‘

اسد حکومت کے مخالفین کے مطابق ترکی کے راستے ادویات کی اسمگلنگ، لبنان کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ ان کارکنوں کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں لبنان حکومت کی بجائے ترک حکومت کی زیادہ حمایت حاصل ہے۔

Syrien 06.02.2012
تصویر: dapd

خالد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ عطیات لبنان سے بھی اکٹھے کیے جاتے ہیں اور ادویات کی خریداری بھی اسی ملک سے کی جاتی ہے لیکن انہیں اسمگل ترکی کے راستے کیا جاتا ہے۔

اس کارکن کے مطابق امداد کی اسمگلنگ میں ایک دن سے لے کر ایک ہفتہ تک کا وقت بھی لگ سکتا ہے۔ اِس وقت کا انحصار سرحد کے ساتھ ساتھ شامی افواج کے نقل و حرکت پر ہوتا ہے۔

خالد مصطفیٰ کے مطابق جونہی ادویات شام کی سرحد کے اندر پہنچتی ہیں، انہیں ’فری سیرین آرمی‘ کے جنگجو بحفاظت وہاں تک پہنچا دیتے ہیں، جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ خالد کا مزید کہنا تھا، ’’پکڑے جانے پر ادویات کو ضبط بھی کیا گیا ہے۔ کئی مرتبہ ادویات اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والی ٹیموں کے ارکان زخمی بھی ہوئے ہیں، گرفتار بھی اور ہلاک بھی۔‘‘

شام میں اسد مخالفین کے ایک حامی ڈاکٹر کے مطابق بغاوت کے آغاز کے چھ ماہ بعد ہی حکومتی کریک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے افراد کے علاج کے لیے ایک نیٹ ورک تشکیل دے دیا گیا تھا۔ خاتون ڈاکٹر Rama al-Hallak (اصلی نام ظاہر نہیں کیا گیا) کے مطابق اس طبّی نیٹ ورک کے قیام کا مقصد سرکاری ہسپتالوں سے زخمیوں کو شامی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچانا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے لیے رابطہ دفتر کا کہنا ہے کہ شام میں 1.5 ملین افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

ia / aa (AFP)