شامی باغيوں کا پہلی مرتبہ ایک صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا دعویٰ
5 مارچ 2013خبر رساں ادارے روئٹرز کی عمان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق شام ميں حکومت مخالف تحريک ميں شامل مسلح باغيوں نے پير کے روز دریائے فرات پر واقع الرقة نامی شہر پر قبضہ کر لینے کا دعویٰ کيا۔ باغیوں کے مطابق شہر سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع الرقة کا صوبائی ہوائی اڈہ تاحال اسد حکومت کی وفادار افواج کے کنٹرول میں ہے۔ اس پيش رفت کی اپوزیشن ذرائع کے علاوہ مقامی باشندوں نے بھی تصديق کر دی ہے۔ شامی حکومت کی طرف سے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا۔
الرقة پر باغيوں کے قبضے کو اس ليے خاصی اہميت دی جا رہی ہے کہ شام میں قريب دو سال سے جاری مسلح بغاوت کے دوران اب سے پہلے باغيوں نے کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضے کا کبھی کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا۔ خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں نے الرقة پر قبضے کے بعد وہاں موجودہ شامی صدر بشار الاسد کے والد اور پیش رو صدر حافظ الاسد کا ایک مجسمہ بھی منہدم کر دیا۔
متحدہ شامی اپوزيشن سيريئن نيشنل کوليشن میں شامل ايک اہم اپوزیشن گروپ سيريئن نيشنل کونسل نے پیر کے روز باغیوں کی اس نتیجہ خیز اور اہم قرار دی جانے والی پیش قدمی کے بارے میں کہا کہ اپوزیشن باغيوں کا الرقة پر قبضہ بشار الاسد کے خلاف جاری مسلح تحريک ميں ایک بڑی کاميابی کی حيثيت رکھتا ہے۔
کل پير ہی کے روز عراق کے مغربی صوبے انبار میں ایک فوجی قافلے پر کیے جانے والے ایک حملے میں کم از کم 40 شامی اور عراقی فوجی مارے گئے جبکہ مزيد 15 فوجيوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہيں۔ مسلح افراد کی طرف سے یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب عراقی فوج ایک قافلے کی صورت میں درجنوں شامی فوجیوں کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک مشترکہ سرحدی چوکی کی طرف لے جا رہی تھی۔ شامی فوج کے یہ ارکان گزشتہ ہفتے اپنی جانیں بچاتے ہوئے اس وقت عراق میں داخل ہو گئے تھے جب شمالی عراق کے شہر موصل کے قریب ایک شامی سرحدی چوکی پر دمشق حکومت کے مخالف باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ ان شامی فوجیوں میں سے کئی زخمی بھی تھے۔ بغداد میں عراقی وزارت دفاع کے مطابق شامی اور عراقی فوجیوں پر یہ حملہ ایسے دہشت گردوں نے کیا جو شام سے عراق میں داخل ہوئے تھے۔
اسی دوران شام میں خونریز تر ہوتی جا رہی خانہ جنگی کے پس منظر میں اسرائيل نے متنبہ کيا ہے کہ شام کا مسلح تنازعہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی متاثر کر رہا ہے اور بات شامی سرحدوں سے باہر تک پھیل جانے کے باعث اسرائيل خاموش تماشائی بنا کھڑا نہیں رہے گا۔ يہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ميں اسرائيلی سفير نے پير کی شام کہی۔ اس موقع پر انہوں نے یہ شکایت بھی کی کہ شامی علاقے سے اسرائيلی سرحدی علاقوں ميں گولہ باری کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
as / mm (Reuters)