شام کے نائب وزیر اعظم برطرف
30 اکتوبر 2013
برطرف کیے جانے والے وزیر اعظم قادری جمیل کا تعلق بقول شامی صدر بشار الاسد ’’محب وطن حزب اختلاف‘‘ سے ہے۔ یہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو صدر اسد کی مخالف تو ہیں تاہم انہوں نے ڈھائی برس سے اسد حکومت کے خلاف جاری تحریک میں حصہ نہیں لیا۔
شام کے سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ ایک حکومتی بیان میں کہا گیا ہے، ’’جمیل کو اس لیے برطرف کیا گیا کہ وہ اپنے سرکاری فرائض درمیان میں چھوڑ کر کر باہر چلے گئے اور اس کے علاوہ وہ ملک سے باہر حکومت کی مشاورت کے بغیر کچھ کام کرتے رہے۔‘‘
امریکی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے بعض عہدیداروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ جمیل ہفتے کے روز جنیوا میں امریکا کے شام کے لیے سابق سفیر رابرٹ فورڈ سے ملے تھے، جس کا مقصد مجوزہ ’جنیوا ٹو‘ کانفرنس پر بات کرنا تھا، جس کے ذریعے شام میں جاری بحران کا حل تلاش کیے جانے کی امید کی جا رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ کے ایک ملک کے عہدیدار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ یہ ملاقات ’’طویل مگر بے سود‘‘ رہی۔ ’’جمیل نے جو تجاویز پیش کیں وہ بقول فورڈ کے ناقابل عمل تھیں۔‘‘ اس عہدیدار کے مطابق جمیل نے ناکام طور پر یہ کوشش کی کہ امریکا ان کی بھی حزب اختلاف کے نمائندے کے طور پر حمایت کرے۔
شامی باغيوں کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے روز جاری کردہ ايک تحريری بيان ميں کہا گیا تھا کہ ’’کوئی بھی ايسا حل جو صدر اسد کی حکومت، فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور ان تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے ميں کھڑا نہ کرے جنہوں نے رياستی دہشت گردی ميں حصہ ليا، وہ ہميں نا قابل قبول ہوگا۔‘‘ بيان ميں اس کے سوا کسی بھی صورت ’جنيوا ٹو‘ کانفرنس ميں شرکت کو خارج از امکان قرار ديا گيا ہے۔ اس اعلاميے پر باغيوں کے مجموعی طور پر بائيس سينئر اہلکاروں نے دستخط کيے، جن ميں سے زيادہ تر کا تعلق اسلام پسند گروہوں سے ہے۔
امریکا اور روس امن مذاکرات کے انعقاد پر اصرار کر رہے ہیں۔
شام میں دو برس سے جاری خانہ جنگی کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور بیس لاکھ کے قریب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔