شام کے تنازعے پر شيعہ سنی اختلافات کے سايے
16 اگست 2012
اسلامی کانفرنس تنظيم اوآئی سی کی مکہ ميں ہونے والی کانفرنس نے شام کے مسئلے پر منعقدہ دوسری کانفرنسوں کی طرح يہ مطالبہ کيا کہ خونريزی بند کی جائے۔ ليکن اس کانفرنس نےدرپردہ ايک اور پيغام بھی ديا اور وہ يہ کہ شام کا تنازعہ زيادہ سے زیادہ ايک مذہبی تنازعہ بنتا جا رہا ہے۔ چنانچہ يہ کوئی اتفاق نہيں تھا کہ شيعہ عقيدے کے پيروکار ايران نے شام کی رکنيت عارضی طور پر معطل کرنے کی مخالفت کی جبکہ سنی اکثريت والے ممالک نے اس کی حمايت کی۔
اسی طرح يہ بات بھی قابل غور ہے کہ شيعہ حکومت والے عراق نے مکہ کانفرنس ميں شرکت نہيں کی۔ شيعہ ممالک اسلامی دنيا ميں تنہا رہ گئے ہيں اور ان کے ساتھ ہی علوی شيعہ عقيدے کے حامل اسد خاندان کے زير حکومت شام بھی نماياں طور پر الگ تھلگ نظر آتا ہے۔ اسد حکومت کا ابھی تک خاتمہ نہيں ہوا ہے ليکن اس بات کی تمام علامات دکھائی دے رہی ہيں کہ مستقبل ميں شام کی سنی عقيدے کی حامل آبادی کو ملک کے حالات و معاملات پر اثر انداز ہونے کا پہلے سے زيادہ موقع ملے گا۔
ايران، روس اور چين کے سوا اسد حکومت کا کوئی اور حامی نہيں ہے اور ايسا معلوم نہيں ہوتا کہ يہ تينوں اسد حکومت کے خاتمے کو روک سکيں گے۔ ليکن اُس کے تمام مخالف سنی ہيں جنہیں اُن مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے، جو خود بھی اسد حکومت کا خاتمہ چاہتے ہيں۔
1969ء ميں قائم ہونے والی اسلامی تعاون تنظيم کے مکہ کے اجلاس سے شام کی خانہ جنگی کا مسلسل بڑھتا ہوا مذہبی پہلو واضح ہو گيا ہے۔ يہ بات طے ہے کہ سعودی عرب کے کئی نجی ادارے شام ميں اُن سنيوں کی مدد کر رہے ہيں جو جمہوريت کے ليے نہيں بلکہ شامی شيعوں کے خلاف لڑ رہے ہيں۔
تاہم شام کے سنی ہمسايہ ممالک اور مغربی ملکوں کو شامی تنازعے ميں شيعہ اور سنی کی بنياد پر مزيد شدت اور مخالفت پيدا ہونے ميں حقيقی دلچسپی نہيں ہو سکتی کيونکہ يہ تنازعہ سنی ملکوں تک بھی پھيل سکتا ہے۔ سعودی عرب ميں شيعہ آبادی 15 فيصد، کويت ميں 35 فيصد اور بحرين ميں 60 فيصد ہے۔
اس کا سب سے زيادہ اثر ايران پر پڑے گا جسے اسد خاندان سے کوئی دلچسپی نہيں ليکن اُس کے زوال سے ايران لبنان کی شيعہ حزب اللہ کے ساتھ براہ راست رابطے سے محروم ہو جائے گا اور اسرائيل کے سخت ترين مخالف کے طور پر اُس کی شہرت بھی متاثر ہو گی جسے وہ بہت اہميت ديتا ہے۔
K.Knipp,sas/A.Rosenberg,aa