شام کی رکنیت معطل:اسلامی ملکوں کی تنظیم کا فیصلہ
16 اگست 2012
مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی (OIC) نے شام کی رکنیت معطل کر دی ہے اور اس کی وجہ حکومت مخالف تحریک پر بشار الاسد حکومت کا پرتشدد جبر ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں تنظیم کے ساتھ وابستہ شام کے تمام ذیلی اور منسلک اداروں کو بھی معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شام کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ پیر کے روز وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی کیا گیا تھا۔ کانفرنس روزوں کی وجہ سے عشاء کی نماز کے بعد شروع کی جاتی تھی۔
یہ فیصلہ سعودی عرب کے شہر مکہ میں او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں جمعرات کو علی الصبح کیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اجلاس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق شرکاء شام میں پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکے جانے کی ضرورت اور او آئی سی کے لیے اس کی رکنیت معطل کرنے پر متفق ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسلامی ملکوں کی تنظیم کے فیصلے کے بعد شامی صدر بشار الاسد کا عالمی منظر پر مرکزی دھارے سے کٹنے کا عمل مزید تیز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے خیال میں اسلامی ملکوں کی تنظیم کا اجلاس ایک طرح سے سفارتی محاذ پر سعودی اور ایرانی اثر و رسوخ کا مظاہرہ تھا۔
یہ اجلاس منگل کو شروع ہوا تھا اور اس میں شام کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ ایران ابتداء ہی سے اس تجویز کا سخت مخالف تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ ایران کھلے عام شامی صدر کی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم کے اس اجلاس کے شروع ہونے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے شام کا دورہ بھی کیا تھا۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم کی چوتھی غیر معمولی سمٹ کے اجلاس کی صدارت سعودی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کر رہے تھے۔ پاکستانی صدر آصف زرداری اور ایران کے صدر احمدی نژاد کے علاوہ ستاون ملکوں کے رہنما اس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس میں میزبان سعودی شاہ نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو اپنے پہلو میں نشست دی تھی۔
اسلامی ملکوں کی تنظیم میں سعودی شاہ نے مختلف فرقوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کے لیے مکالمت کے مرکز کی تجویز بھی پیش کی اور اس کی بھی منظوری دی گئی۔ اختتامی اعلان کے مطابق یہ مرکز مختلف مکاتب فکر کے درمیان پیدا شدہ خلیج اور دوری کو بھی کم کرنے کے لیے مناسب اور عملی کاوشیں کرے گا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق او آئی سی نے میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے جانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ بات مکہ میں ہونے والے اس تنظیم کے اجلاس میں سامنے آئی ہے۔ اختتامی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھایا جائے گا۔ میانمار کے صوبے راکھین میں نسلی فسادات کے باعث روہنگیا کمیونٹی کے ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
آج جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل شام کے لیے مبصر مشن کے باضابطہ خاتمے کا فیصلہ کرے گی۔ مبصر مشن کا مینڈیٹ اتوار کو نصف شب ختم ہو رہا ہے۔ شام میں اس وقت تین سو غیر مسلح مبصرین صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے موجود ہیں۔ مغربی طاقتوں کا خیال ہے کہ مبصرین کا شام میں موجود رہنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ah/ng (AFP, Reuters)