1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا آغاز

افسر اعوان6 اکتوبر 2013

اقوام متحدہ کے ماہرین نے شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا آغاز آج اتوار چھ اکتوبر سے کر دیا ہے۔ طے شدہ شیڈول کے مطابق ان ہتھیاروں اور ان سے متعلق تنصیبات کی مکمل تلفی اگلے برس کے وسط تک مکمل کی جانا ہے۔

https://p.dw.com/p/19uTQ
تصویر: Reuters

اقوام متحدہ کے ماہرین کی اس ٹیم نے اندازوں کے مطابق درجنوں مختلف مقامات پر موجود ایک ہزار ٹن کے قریب خطرناک گیسوں سارین اور مسٹرڈ کے ذخیروں کے علاوہ دیگر ممنوعہ ہتھیاروں کو محفوظ انداز میں ضائع کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ان ہتھیاروں سے متعلق تنصیبات کو بھی ختم کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ اور دی ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے ادارے OPCW کے ماہرین اس خصوصی مشن پر منگل یکم اکتوبر کو شامی دارالحکومت دمشق پہنچے تھے۔ اقوام متحدہ میں شام کے حوالے سے منظور کی جانے والی ایک قرار داد کے مطابق 2014ء کے وسط تک شامی کیمیائی ہتھیار کو ناکارہ بنانے کا عمل مکمل کیا جانا ہے۔

ماہرین کی ٹیم نے درجنوں مختلف مقامات پر موجود ایک ہزار ٹن کے قریب خطرناک گیسوں سارین اور مسٹرڈ کے ذخیروں کے علاوہ دیگر ممنوعہ ہتھیاروں کو محفوظ انداز میں ضائع کرنا ہے
ماہرین کی ٹیم نے درجنوں مختلف مقامات پر موجود ایک ہزار ٹن کے قریب خطرناک گیسوں سارین اور مسٹرڈ کے ذخیروں کے علاوہ دیگر ممنوعہ ہتھیاروں کو محفوظ انداز میں ضائع کرنا ہے

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے آپریشن کے آغاز پر شامی صدر بشار الاسد نے جرمنی کے اشپیگل میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے ملک میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے بعض غلطیاں سر زد ہو ئی ہیں۔ تاہم انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس بات کی تردید کی کہ شامی فورسز نے 21 اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ اسی حملے کے تناظر میں شام کو اس کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا پابند کیا گیا ہے۔

شام میں موجود اقوام متحدہ اور OPCW کے ماہرین کے مشترکہ مشن میں شریک ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا، ’’آج تلفی کے کام پہلا دن ہے جس میں میزائل وار ہیڈز، فضا سے گرائے جانے والے بموں اور گیسوں کو مکس کرنے والے متحرک اور فِکس یونٹس کو تباہ کیا جائے گا۔‘‘

بشار الاسد نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے ملک میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے بعض غلطیاں سر زد ہوئی ہیں
بشار الاسد نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے ملک میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے بعض غلطیاں سر زد ہوئی ہیںتصویر: picture alliance/dpa

اس مشن سے منسلک ذرائع کے مطابق، ’’فیز ون، جس میں شام نے اپنے ہتھیاروں کی تفصیلات فراہم کرنا تھیں، وہ ختم ہو رہی ہے اور اب ہم فیز ٹو میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ان ہتھیاروں کی تصدیق، تلفی اور ناکارہ بنانے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔‘‘

شامی حکومت نے عالمی برداری کو اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق اپنی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے اس آپریشن میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلا رکھا ہے۔ یہ قرار داد روس اور امریکا کے درمیان شامی کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی برادری کی زیر نگرانی تلف کیے جانے کے حوالے سے ایک معاہدے کے بعد سلامتی کونسل نے منظور کی تھی۔

دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں 21 اگست کو ہونے والے کیمیائی حملے کے بعد امریکا کی طرف سے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی، تاہم روس اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد اس حملے کے امکانات ختم ہو گئے تھے۔