شام: حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ جاری
18 اگست 2012
شام کے صدر بشار الاسد کے نائب صدر اور قریبی ساتھی فاروق الشرح کے منحرف ہو کر ہمسایہ ملک اردن پہنچنے کی شامی حکومت نے تردید کر دی ہے۔ اردن کی حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ فاروق الشرح اس وقت اردن میں نہیں ہیں۔ اپوزیشن نے اپنی ابتدائی اطلاع میں بتایا تھا کہ فاروق الشرح کے منحرف ہونے کی ایک کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ الشرح کی عمر تہتر برس ہے اور وہ سنی العقیدہ ہيں۔ وہ سن 2006 سے شام کے نائب صدر چلے آ رہے ہیں۔
اس سے قبل عرب میڈیا نے بتایا تھا کہ وزیراعظم ریاض حجاب کے بعد اسد حکومت کے ایک اور اہم ساتھی فاروق الشرح منحرف ہو کر اردن پہنچ گئے ہیں۔ شام کے حکومت مخالف سرگرم رہنما ناجی طیارہ نے العربیہ نشریاتی ادارے کو بتایا کہ تاحال اس کی تصدیق کرنا مشکل ہے کہ فاروق الشرح کیا واقعی اردن پہنچے ہیں یا نہیں۔ طیارہ کا یہ ضرور کہنا ہے کہ فاروق الشرح گزشتہ دس روز سے حکومتی منظر سے غائب ہیں۔ فاروق کے ایک قریبی کزن یارب کے پہلے ہی منحرف ہو کر اپوزیشن میں شامل ہونے کے بعد فاروق الشرح کے منحرف ہونے کی خبروں کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ اب تک اسد حکومت کے وزیر اعظم، دو وزراء اور کئی سفارت کار منحرفین میں شامل ہو چکے ہیں۔
مغربی اور خلیجی سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ دمشق میں گزشتہ ماہ ہونے والے ایک بم دھماکے کے دوران شام کے صدر بشار الاسد کے بھائی مہر اسد کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی ہے۔ یہ خودکش بم دھماکا، انیس جولائی کے روز ہوا تھا۔ اسد حکومت کے قریبی لبنانی سیاستدان حلقوں نے بھی بتایا ہے کہ مہر اسد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی بم دھماکے میں اسد حکومت کے چار اعلیٰ سکیورٹی حکام مارے گئے تھے۔ ان ہلاک شدگان میں بشارالاسد کی بہن کا شوہر بھی شامل تھا۔ اس بم دھماکے کے بعد سے مہر اسد کو کسی بھی پبلک مقام پر نہیں دیکھا گیا ہے۔ بشار الاسد کا بھائی شامی فوج کے انتہائی جدید اسلحے سے لیس ری پبلکن گارڈز اور فورتھ ڈویژن کا کمانڈر ہے۔ اپوزیشن کے مطابق حالیہ خونی تحریک میں مہر اسد ایک انتہائی سخت مزاج حکومتی اہلکار کے طور پرابھرا تھا۔ اس نے اب تک اپوزیشن پر ظلم وجبر روا رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے دو روز قبل اپنی حکومت کی فتح کے حوالے سے کہا کہ وہ قوتیں جو یہ محسوس کرتی ہیں کہ شام کے اندر اپوزیشن کو کامیابی حاصل ہو کر رہے گی وہ سراب اور واہموں کی دنیا میں ہیں۔ المعلم کا یہ بھی کہنا تھا کہ حَلب کی جنگ جاری ہے اور باغیوں کو مکمل طور پر کرش کرنا بھی باقی ہے۔ اس وقت مغربی طاقتیں اور خلیج کی عرب ریاستیں کھل کر شام کی اپوزیشن کی حمایت کر رہی ہیں۔
شام کے دارالحکومت دمشق کے مغربی نواحی ضلع المزۃ پر بھی حکومت کے گن شپ ہیلی کاپٹر باغیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ المزہ میں بھی حکومت اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاع ہے۔ آج ہفتے کی صبح بھی اسد کی وفادار فوج باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں مصروف رہی ہے۔ اسی طرح دارالحکومت کے دوسرے نواحی علاقوں التضامن اور حجر الاسود میں باغیوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور حکومتی فوج ان کے ساتھ وقفے وقفے سے لڑائی میں مصروف ہے۔ ادھر حلب میں بھی اسد حکومت نے جنگی طیاروں کے ذریعے باغی لشکریوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ حَلب میں اسد کی فوج اور باغیوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
شام کی اندرونی صورت حال کے بعد متاثرین کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی نے جمعے کے روز تک مزید 23 ہزار افراد کی رجسٹریشن کو مکمل کر لیا ہے۔ اس طرح شام سے کل ایک لاکھ 70 ہزار مہاجرین ہمسایہ ممالک میں پناہ لے چکے ہیں۔ ان میں 61 ہزار ترکی میں ہیں جب کہ اردن کے علاوہ لبنان پہنچنے والے شامیوں کی تعداد47 ہزار ہے۔ عراق میں داخل ہونے والے شام کے مہاجرین پندرہ ہزار کے قریب ہیں۔
(ah/as (dpa, Reuters