شام: اپوزيشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ليے شرائط طے کرليں
15 فروری 2013
جمعرات کی رات مصر کے دارالحکومت قاہرہ ميں منعقدہ سيريئن نيشنل کوليشن کی ايگزيکٹو کميٹی کے ايک اجلاس کے بعد اس کميٹی کے ايک رکن وليد بنی نے بتايا کہ ليڈرشپ معاذ الخطيب کے اقدام کی توثيق کرتی ہے تاہم مذاکرات کے ليے شرائط طے کی گئی ہيں، جنہيں منظوری کے ليے 70 رکنی اسمبلی ميں پيش کيا جائے گا۔ واضح رہے کہ شامی اپوزيشن اتحاد سيريئن نيشنل کوليشن کے سربراہ معاذ الخطيب نے گزشتہ ماہ کوليشن کے ديگر ارکان سے مشاورت کيے بغير بشار الاسد کی حکومت سے عليحدگی پر مذاکرات کے سلسلے ميں يہ موقف اختيار کر ليا تھا۔
وليد بنی نے قاہرہ سے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسد اور ملکی انٹيليجنس اور ملٹری ميں ان کے حامی اہلکاروں ميں سے کسی سے بھی مذاکرات نہيں کيے جائيں گے۔ کوليشن کی ايگزيکٹو کميٹی کے اس رکن نے اسد کی سياسی جماعت کے ارکان کے ساتھ بھی اس شرط پر مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا کہ ان ارکان کے ہاتھ وہاں جاری خونريزی سے پاک ہوں۔
مصر ميں جمعرات کی رات ہونے والے ان مذاکرات کی تفصيلات بتاتے ہوئے بنی نے کہا کہ بات چيت کے دوران رواں ماہ جرمن شہر ميونخ کی سکيورٹی کانفرنس کے موقع پر الخطيب کی ايرانی اور روسی وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کے تناظر ميں يہ بات بھی زير بحث آئی کہ اسد کے حامی ان دونوں ممالک سے کيسے بات چیت کی جائے۔ ماسکو ميں اپوزيشن کے سربراہ الخطيب اور شامی وزير خارجہ وليد المعلم کی ممکنہ ملاقات کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں پر ايک سوال کے جواب ميں بنی نے بتايا کہ انہيں ايسی کسی ممکنہ ملاقات کے بارے ميں نہيں معلوم اور نہ ہی الخطيب کے ماسکو کے دورے کی تاريخ طے ہے۔
دوسری جانب رواں ہفتے ہی شام کے وزير برائے قومی مفاہمت علی حيدر يہ کہہ چکے ہيں کہ وہ الخطيب سے بيرون ملک ملاقات کے ليے تيار ہيں تاہم شامی وزير کا يہ بھی کہنا تھا کہ ايسے کوئی بھی مذاکرات خارج ازامکان ہيں جن کا مقصد ’ايک فريق سے دوسرے فريق تک طاقت کا تبادلہ‘ ہو۔
واضح رہے کہ اسی ماہ شام کے وزير خارجہ وليد المعلم بھی روس کا دورہ کريں گے۔
ادھر لبنان کے سابق وزير اعظم رفيق حريری کے بيٹے اور لبنان ميں اپوزيشن رہنما سعد حريری نے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کی پيشن گوئی کی ہے۔ حريری کا کہنا تھا کہ اسد کے خاتمے کے اثرات نہ صرف شام ميں بلکہ پوری کی پوری عرب دنيا ميں محسوس کيے جائيں گے۔ سعد حريری کے والد رفيق حريری سن 2005 ميں ہونے والے ايک بم دھماکے ميں ہلاک ہو گئے تھے۔ سعد حريری اپنے والد کی ہلاکت کا الزام بشار الاسد پر عائد کرتے ہيں۔
دوسری جانب امريکا کے نئے منتخب کردہ وزير خارجہ جان کيری نے گزشتہ روز ديے گئے اپنے ايک بيان ميں يہ امکان ظاہر کيا ہے کہ شام ميں جاری مسلح تنازعے کے نتيجے ميں ہلاک شدگان کی تعداد 90 ہزار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے يہ بات اپنے سعودی ہم منصب سعود الفيصل کے حوالے سے بتائی ہے۔
شام ميں لڑائی جاری، ايک ايرانی کمانڈر ہلاک
دريں اثناء شام ميں حکومتی فوج اور باغيوں کے درميان لڑائی جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق باغيوں نے جمعرات کو حکومت کے دو لڑاکا طياروں کو مار گرايا۔ يہ واقعہ ملک کے شمال مغربی حصے ميں رونما ہوا۔ اسی طرح گزشتہ روز ہی مسلح حملہ آوروں نے ايک ايرانی کمانڈر کو ہلاک کر ديا۔ ايران کے ريولوشنری گارڈز نے اس ہلاکت کی تصديق کرتے ہوئے بتايا کہ دمشق اور بيروت کو ملانے والی شاہراہ پر پيش آنے والے اس واقعے ميں باغيوں نے ايرانی کمانڈر کو ہلاک کيا۔ ايرانی وزير خارجہ علی اکبر صالحی نے سخت الفاظ ميں اس ہلاکت کی مذمت کی ہے۔
سيريئن آبزويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق شام ميں گزشتہ روز ہونے والی جھڑپوں ميں مجموعی طور پر 126 افراد ہلاک ہوئے، جن ميں 23 سويلين شامل تھے۔
as/ng (Reuters, AFP)