چین: ’سونے سے بھی زیادہ قیمتی‘ ڈیجیٹل ڈیٹا کی ذخیرہ اندوزی
25 اپریل 2026
مستقبل میں جب زیادہ سے زیادہ صنعتیں ڈیجیٹل سطح پر کام کر رہی ہوں گی، تو ڈیجیٹل انڈسٹریل ڈیٹا اس لیے آنے والے برسوں کا ڈیجیٹل خام مادہ بن جائے گا کہ اس ڈیٹا کو ہی ماہرین کافی عرصے سے مستقبل کے اہم ترین خام مادوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔
چین اب اہم صنعتی ڈیٹا کو اس لیے وسیع پیمانے پر اسٹور کر رہا ہے کہ مستقبل میں اس کے ساتھ اہم ترین صنعتی اقتصادی خام مادوں پر اپنے بالواسطہ کنٹرول کو یقینی بنا سکے۔
ہینوور میں دنیا کا سب سے بڑا صنعتی تجارتی میلہ
شمالی جرمنی کے شہر ہینوور میں رواں ہفتے 20 سے لے کر 24 اپریل تک جس کسی نے بھی دنیا کے سب سے بڑے صنعتی تجارتی میلے کی سیر کی، اس نے دیکھا کہ ہر طرف ایسے بے شمار روبوٹس موجود تھے، جو مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے ذریعے کام کر رہے تھے۔
آسٹریلیا سے یورپ تک حکومتیں بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر قدغن بڑھا رہی ہیں
یہ روبوٹس ایسی مشینیں تھیں، جو مہمانوں سے ہاتھ ملا رہی تھیں، انٹرنیٹ سرچ انجنوں کی مدد سے عام لوگوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے بہت سی مختلف زبانوں میں جوابات دے رہی تھیں اور ساتھ ہی مختلف دھاتی ٹکڑوں کو ویلڈنگ کے ذریعے جوڑ کر مختلف مصنوعات بھی بنا رہی تھیں۔
لیکن دنیا کے اس سب سے بڑے انڈسٹریل ٹریڈ فیئر کے اصلی فاتح کو تو عام مہمان نہ دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی چھو سکتے تھے۔ یہ فاتح مختلف کمپیوٹرز کے سرورز یا کلاؤڈز میں محفوظ وہ ڈیٹا تھا، جس کے بغیر مستقبل کی صنعتی دنیا کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
ڈیجیٹل نیشن کا قانون، خدشات کیا ہیں؟
بہت سے ماہرین اس ڈیٹا کو مستقبل کا ڈیجیٹل خام مال قرار دیتے ہیں۔ اتنا ہی اہم جتنی آج کل بجلی، قدرتی گیس یا خام تیل ہیں۔ یہی ڈیٹا آنے والے برسوں میں صنعتی پیداواری دنیا میں مقابلے اور اس میں کسی بھی ملک کے حصے اور طاقت کے تعین میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہو گا۔
چین میں ڈیٹا کی ریاستی نگرانی میں ذخیرہ اندوزی
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک چین میں یہی ڈیجیٹل ڈیٹا بشمول پرائیویٹ ڈیٹا عوامی سطح پر باقاعدہ جمع کیا جاتا ہے۔ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر ہر انسان کی ایسی درجہ بندی اور پوزیشننگ کی جاتی ہے، جسے 'سوشل کریڈٹ سسٹم‘ کہا جاتا ہے۔
بیجنگ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس نظام کے ذریعے چینی معاشرے میں عام لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ رویوں میں بہتر اخلاقی حالت اور انصاف پسندانہ سوچ کو یقینی بنانا چاہتی ہے، اور ساتھ ہی کرپشن اور دھوکہ دہی کے خاتمے کے لیے بھی اس سسٹم سے مدد لینا چاہتی ہے۔
چین میں ہونان کی ویمنز یونیورسٹی کی ریسرچر چی ہے کہتی ہیں، ''گزشتہ کئی برسوں سے چینی حکومت نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو اپنی ترجیح بنا رکھا ہے۔ اس کے لیے وہ انفارمیشن انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل اکانومی اور زیادہ ذہین پیداواری طریقوں کی ترویج کے لیے کئی طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔‘‘
نئی دہلی میں اسکولوں کی ڈیجیٹل نگرانی پر سلامتی کے خدشات
چی ہے نے کہا، ''بیجنگ حکومت اس ٹرانسفارمیشن یا تبدیلی کے لیے کئی طرح سے عملی تعاون بھی کر رہی ہے، جیسے مالی اعانتوں، ٹیکسوں میں چھوٹ اور خاص نوعیت کے علاقائی سرمایہ کاری فنڈز کے ذریعے، تاکہ قومی زندگی کے کئی متنوع شعبوں، مثلاﹰ صنعتوں، معیشت اور تحقیق کو آپس میں مربوط بنایا جا سکے۔‘‘
چینی ڈیٹا اتھارٹی کا قیام
عوامی جمہوریہ چین میں اب یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ریاستی ڈھانچہ اور حکومتی اہلکار ڈیجیٹل ڈیٹا کی اسٹریٹیجک اہمیت کو اچھی طرح جان چکے ہیں۔ اکتوبر 2023ء میں تو حکومت نے قومی سطح کا ایک نیا ادارہ بھی قائم کر دیا تھا، جو نیشنل ڈیٹا ایڈمنسٹریشن کہلاتا ہے۔
اس قومی ڈیٹا اتھارٹی کی کارکردگی کی نگرانی چین کا سیاسی اقتصادی معاملات کا ذمے دار ریاستی کمیشن برائے اصلاحات و ترقی کرتا ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹا پر تحقیق اور اس کے تجزیوں سے جو نتائج حاصل ہوتے ہیں، وہ بھی براہ راست حکومت کی نگرانی میں رہتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے خود پسند حکمران اے آئی کی مدد سے تنازعات کو پیدا ہونے سے پہلے روکنے کے راستے پر
اسی نقطہ نظر سے بیجنگ حکومت نے 2022ء میں ہی ایسے قوانین بنا دیے تھے، جن کے تحت ایسے ڈیٹا کی بیرون ملک منتقلی کو مشکل تر بنا دیا گیا تھا اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا گیا تھا کہ اس ڈیٹا کا ہمیشہ اس کی قومی سلامتی کے حوالے سے اہمیت کا بھی جائزہ لیا جاتا رہنا چاہیے۔
چین اپنی 'ڈیٹا برتری‘ کا خواہش مند
چین مستقبل کے حوالے سے ڈیجیٹل انڈسٹریل ڈیٹا کے بارے میں جو کچھ بھی کر رہا ہے، اس کی اصل وجہ کیا ہے؟ اس سوال کا جواب سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی کے محقق جی وے چیان نے اپنی نئی کتاب میں بھی دیا ہے۔
ان کی اس کتاب کا عنوان ہے: ''چین میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی ریگولیشن۔‘‘ جی وے چیان نے اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے، ''چین اپنے ہاں ڈیجیٹل ڈیٹا اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کو جس طرح ریگولیٹ کر رہا ہے، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹا کے میدان میں چین کی برتری آئندہ بھی قائم رہے۔‘‘
عالمی معیشت 2026ء میں کیسے چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہے؟
جی وے چیان کے مطابق، ''چین میں اس ڈیٹا کے تحفظ کی ایک وجہ بیجنگ کے قومی سلامتی سے متعلق خدشات بھی ہیں۔ لیکن اسی وجہ سے ان اداروں کے لیے کافی مشکلات بھی پیدا ہو چکی ہیں، جن کا قومی سرحدی رکاوٹوں کے آر پار ڈیٹا کے بہاؤ اور تبادلے پر اپنی بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کے باعث انحصار بہت زیادہ ہے۔‘‘
ڈیجیٹل ڈیٹا بھی بیش قدر اثاثہ
ڈیجیٹل ڈیٹا دراصل اپنی قدر میں سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے، اس بارے میں چین میں سیاسی اور اقتصادی دونوں شعبوں کی سوچ بالکل یکساں ہے۔
جرمن دارالحکومت برلن میں قائم تھنک ٹینک 'میرکس‘ (MERICS) کی چینی امور کی ماہر ریبیکا آرسیساٹی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''چین میں ڈیجیٹل سطح پر آٹومیٹڈ انفراسٹرکچر اور اے آئی انفراسٹرکچر کو بہت زیادہ وسعت دی جا رہی ہے۔ اے آئی انفراسٹرکچر کو تو بہت تیز رفتاری سے لیکن ایسے وسعت دی جا رہی ہے کہ اس کا غیر ملکی ٹیکنالوجیز پر انحصار مسلسل کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
قطر کا اے آئی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا پلان
عوامی جمہوریہ چین میں تو مستقبل میں یہ ہونا بھی بالکل طے ہے کہ حکومت کی طرف سے تصدیق شدہ ادارے یا مراکز ایسے ڈیجیٹل ڈیٹا کا باقاعدہ جائزہ لے کر اس کی مالی قدر تک بھی طے کر سکیں گے۔
ڈیجیٹل ڈیٹا کی اس 'فنانشل ویلیو‘ کو آئندہ مختلف مالیاتی ادارے قرض مہیا کرتے وقت مالی ضمانت کے طور پر بھی اپنے سامنے رکھا کریں گے۔
ادارت: شکورر حیم