سلطنت روما کا زوال، عالمی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ
10 جنوری 2026
مغربی سلطنت روما کے زوال کو یورپی اور دنیا کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے، جس کے دور رس نتائج دنیا کے دوسرے خطوں پر بھی پڑے۔ طویل عرصے تک سلطنت فارس، ہن، جرمن اور دوسرے قبائل کے حملوں کی زد میں رہنے کے بعد مغربی سلطنت روما 476 عیسوی میں زوال پذیر ہوئی۔
اس سلطنت کے زوال کے بعد یورپ کے کئی حصوں کی سیاسی وحدت پارہ پارہ ہو گئی اور وہ چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں بٹ گیا۔ سابقہ سلطنت روما کے کچھ حصوں پر اسٹروگوتھ نے قبضہ کر لیا، کچھ فرانس کے پاس چلے گئے اور سلطنت کے دوسرے حصے یا تو چھوٹی چھوٹی بادشاہتوں میں بٹ گئے یا ان پر جرمن اور دوسرے قبائل نے قبضہ کر لیا۔
یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ سلطنت روما کو286 عیسوی میں مغربی اور مشرقی سلطنتوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا، جس میں ایک کا مرکز روم اور دوسری کا قسطننیہ تھا۔ پانچویں صدی عیسوی میں بنیادی طور پر مغربی سلطنت روما کا زوال ہوا تھا، جبکہ مشرقی سلطنت روما 15 ویں صدی عیسوی تک قائم رہی، جس کو ترکوں نے ختم کیا۔
زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ اس زوال کے بعد نہ صرف یورپ کی سیاسی وحدت پارہ پارہ ہوئی بلکہ اس کی معیشت، معاشرت، کلچر، ادب اور انفراسٹرکچر کو بھی بہت نقصان ہوا، جس نے یورپ کو مختلف جاگیروں، راجواڑوں اور چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بانٹ دیا، جن کے درمیان تواتر کے ساتھ جنگیں ہونے لگی۔ یورپ کی مختلف چھوٹی ریاستوں کی ان جنگوں نے دوسری ابھرتی ہوئی طاقتوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ نہ صرف جنوبی اسپین پر اپنا قبضہ جما لیں بلکہ اٹلی اور فرانس کے علاقوں کو بھی اپنے غلبے سے ڈرائیں۔
اس زوال کی وجہ سے طویل تجارتی راستے غیر محفوظ اور پھر ختم ہوئے۔ کئی پیشوں کا نام و نشان مٹ گیا اور شہروں کی آبادی بہت کم ہوگئی۔ سلطنت روما کی خوشحالی ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ تا ہم کچھ مورخین کا خیال ہے کہ اس زوال کے بعد بھی یورپ میں معاشی خوشحالی کی رفتار سست نہیں ہوئی لیکن یہاں یہ تذکرہ کیا جانا ضروری ہے کہ ایسے مورخین کی تعداد بہت کم ہے۔
مغربی سلطنت روما کے زوال کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ کسی دور میں سلطنت کا دارالحکومت رہنے والے روم کی آبادی 10 لاکھ سے صرف 30 ہزار کے قریب رہ گئی۔ کچھ مورخین نے دعویٰ کیا ہے کہ اپنے عروج کے مختلف مراحل میں یہ آبادی 12 لاکھ سے بھی اوپر پہنچی گئی تھی لیکن زیادہ تر مورخین عروج کے وقت کی آبادی دس لاکھ ہی بتاتے ہیں۔
گو کہ سلطنت روما کی آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت سے وابستہ تھا لیکن اس سلطنت میں شہروں کو بھی بہت عروج حاصل ہوا اور کاروباری سرگرمیوں میں بہت اضافہ ہوا۔ مثال کے طور پر شمالی افریقہ اور دوسرے علاقوں سے برتنوں سمیت کئی خوبصورت اشیاء روما شہروں میں گردش کرتی تھیں۔ سلطنت روما میں پچیس فیصد سے زیادہ حصہ غلاموں پر مشتمل تھا، جو زراعت اور کاروبار دونوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی جیسی اہمیت رکھتا تھا لیکن سلطنت کے زوال کے بعد کاروباری سرگرمیوں کو دھچکا لگا اور شہروں کی آبادی مختلف غیر متمدن قبائلیوں کے حملوں کی وجہ سے کم ہوئی۔ اس بربادی کی وجہ سے چھ سے سات کروڑ آبادی والی سلطنت کے ایک کروڑ سے زیادہ شہریوں کا روزگار متاثر ہوا جب کہ قومی امکان یہ ہے کہ چھ لاکھ پینتالیس ہزار کی تعداد والی روما فوج کے حصے میں بھی بے روزگاری اور معاشی بدحالی آئی۔
شہروں کی بربادی کی وجہ سے یورپ تاریک دور میں داخل ہوا اورطول و عرض کو جاگیرداری نے گھیر لیا۔ ہر مقامی نواب، راجہ یا حاکم نے اپنے طور پر ایک فوج تیار کر لی۔ جاگیرداری کی وجہ سے سیاسی وفاداری کا رخ مرکزی حکومت کے بجائے مقامی حاکموں کی طرف ہو گیا، جس سے یورپ صدیوں تک سیاسی استحکام اور انتظامی وحدت حاصل کرنے سے قاصر رہا۔
اس جاگیرداری، جسے ''سرفڈم‘‘ بھی کہا جاتا ہے، میں کسان اپنی زمین سے بندھ کر رہ گیا، جبکہ دوسری طرف مقامی حکمرانوں نے سامان کی رسد پر کئی طرح کے ٹیکس لگا دیے، جس کی وجہ سے یورپ کی معاشی ترقی آگے بڑھنے کے بجائے جمود کا شکار ہوگئی۔
سطلنت روما میں آرٹ و فنون، فلسفہ، مجسمہ سازی اور دوسرے علوم کو فروغ دیا گیا تھا کیونکہ یہ سلطنت اپنے جوہر میں سیکولر تھی۔ گو کہ سلطنت روما میں مسیحیت کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس عدم روادری کی وجہ کئی مورخین کے خیال میں مذہبی سے زیادہ سیاسی تھی۔ رومی سلطنت کے زوال کے بعد واحد منظم قوت مسیحی چرچ یا تنظیمیں تھیں۔ لہذا سلطنت کے زوال کے بعد عوام نے رہنمائی کے لیے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا اور یوں اس تاریک دور میں مذہبی آمریت کی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔ پوپ شہنشاہ کی طرح کام کرنے لگا جب کہ اس کے ماتحت مذہبی رہنما مقامی حکمرانوں کے مشیروں کے دور پر کام کرنے لگے۔ بعض معاملات میں مذہبی رہنما اتنے طاقت ور ہوگئے کہ مقامی حکمراں بھی ان کی حکم عدولی کرتے ہوئے ڈرتے تھے۔
اس صورت حال نے مذہبی طبقے کی اجارہ داری کا راستہ ہموار کیا، جس کی وجہ سے یورپ میں مذہبی عدم رواداری، توہمات اور دقیانوسیت بڑھی جب کہ آرٹ و فن، فلسفہ و ادب اور تنقیدی سوچ زوال پزیری کا شکارہوئی۔ مذہبی، قبائلی (خصوصا جرمن قبائل اور ان کی مختلف ریاستوں کی لڑائیاں) اور دوسرے تنازعات پر جنگیں بھی ہوئیں اور ان میں بے شمار ہلاکتیں بھی۔ مثال کے طور پر صرف برطانیہ پانچوی صدی عیسوی سے 1065ء تک ایک سوچودہ جنگوں یا عسکری چھڑپوں میں سرگرم رہا۔ کچھ محقیقین کا تو کہنا ہے کہ یورپ مغربی سلطنت روما کے زوال کے بعد سے دوسری عالمی جنگ تک تقریباﹰ تنازعات، چھڑپوں اور جنگوں کا ہی شکار رہا۔
اس بحرانی صورت حال نے یورپ کے حکمرانوں کو مجبور کیا کہ وہ سلطنت روما جیسی کوئی سیاسی وحدت حاصل کریں لیکن شہنشاہ شارلیمان، جنھیں چارلس دی گریٹ بھی کہا جاتا ہے اور کئی دوسری یورپی شخصیات کی کوششوں کے باوجود یورپ کو متحد کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور یہ خطہ ایک طویل عرصے تک بحرانی کیفیت سے دوچار رہا۔
نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے، کالم یا ایسے کسی مضمون میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔