1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن: روزگار کی سخت شرائط میں نرمی

4 نومبر 2020

سعودی عرب نے اپنے ہاں کئی ملین غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کی سخت اور متنازعہ شرائط میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اب وہاں مہمان کارکن باآسانی ملازمتیں بدل سکیں گے۔ اس فیصلے سے ایک کروڑ سے زائد کارکنوں کو فائدہ ہو گا۔

https://p.dw.com/p/3krE3
خلیجی عرب ریاستوں میں تعمیراتی شعبے میں بھی لاکھوں تارکین وطن کام کرتے ہین، جن میں بہت بڑی تعداد جنوبی ایشیائی ممالک کے مزدوروں کی ہوتی ہےتصویر: Kamran Jebreili/AP Photo/picture-alliance

سعودی دارالحکومت ریاض سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق افرادی قوت کے نائب وزیر عبداللہ بن ناصر ابوثنین نے بدھ چار نومبر کے روز اعلان کیا کہ یہ نرمی ملک میں مہمان کارکنوں سے متعلق روزگار کے شعبے میں اصلاحات کے ایک وسیع تر عمل کا حصہ ہو گی، جس کے ذریعے روزگار کی ملکی منڈی کو مزید پرکشش بنایا جائے گا۔

یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کی طرف سے جنگی جرائم کا ارتکاب

اس نرمی کا مقصد خاص طور پر ان کئی ملین غیر ملکیوں کے لیے پیشہ وارانہ زندگی کے حالات بہتر بنانا ہے، جن کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں اور جو غیر مقامی باشندے ہونے کی وجہ سے اکثر اپنے آجرین کے ہاتھوں بدسلوکی اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

کفالت کے نظام کے تحت استحصال

خلیج کی اس قدامت پسند عرب بادشاہت اور تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک میں غیر ملکی کارکن اکثر اپنی ملازمتوں سے متعلق 'کفالت‘ کے نظام کے تحت کیے جانے والے ان معاہدوں کے باعث ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں، جن میں اصلاحات کے انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کی کئی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے عرصے سے مطالبے کیے جاتے رہے تھے۔

سعودی عرب: خاکوں کی مذمت، پیرس کے خلاف مطالبے کی حمایت نہ کی

Arabische Gastarbeiter in den Golfstaaten | Vereinigte Arabische Emirate
تصویر: K. Sahib/AFP/Getty Images/AFP

عبداللہ بن ناصر ابوثنین نے صحافیوں کو بتایا کہ ملکی لیبر مارکیٹ میں ان قانونی اصلاحات کا نفاذ 14 مارچ 2021ء سے ہو گا۔ ان اصلاحات کے تحت سعودی عرب میں آئندہ نہ صرف مہمان کارکن اپنی ملازمتیں آسانی سے بدل سکیں گے بلکہ اپنے آجرین کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر بھی جا سکیں گے۔

اب تک کی صورت حال

سعودی عرب میں ابھی تک نافذ قوانین کے تحت کوئی بھی غیر ملکی کارکن اپنے آجر کی مرضی کے بغیر اپنی ملازمت تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ اسے دوران ملازم کو آجر کی تحریری رضا مندی کے بغیر ملک سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی اور مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد کوئی بھی کارکن اپنے آجر کی اجازت کے بغیر ملک سے مستقل طور پر رخصت بھی نہیں ہو سکتا۔ اب لیکن یہ صورت حال بالکل تبدیل ہو جائے گی۔

عمرے کی دوبارہ اجازت، سات ماہ بعد خانہ کعبہ کی رونق واپس

فائدہ کتنے تارکین وطن کو ہو گا؟

ان قانونی اصلاحات سے تقریباﹰ 10.5 ملین یا ایک کروڑ سے زائد مہمان کارکن فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہ تعداد سعودی عرب کی قومی آبادی کے تقریباﹰ ایک تہائی کے برابر بنتی ہے۔

Bangladesch Dhaka Wanderarbeiter warten auf Flugtickets nach Saudi-Arabien
مقامی عرب کفیلوں کی سرپرستی میں کام کرنے والے اکثر تارکین وطن کے لیے استحصال سے بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں ہوتاتصویر: Sazzad Hossain/SOPA Images/ZUMA Wire/picture-alliance

ان لیبر اصلاحات کے حوالے سے بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ ان کا اطلاق سعودی عرب میں گھروں میں کام کرنے والے ان ملازمین پر نہیں ہو گا، جن کی تعداد تقریباﹰ 3.7 ملین بنتی ہے۔

ایسے ملازمین میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ اقتصادی جریدے 'عریبین بزنس‘ کے مطابق گھریلو ملازمین کے حالات کار کے حوالے سے ریاض حکومت ان دنوں ایک علیحدہ قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔

سعودی عرب کے صحرا میں انسانی قدموں کے ایک لاکھ بیس ہزار سال پرانے نشانات کی دریافت

خلیجی ریاستوں میں تارکین وطن کے بہت مشکل حالات کار

خلیج کی عرب ریاستوں میں گزشتہ کئی عشروں سے بیرون ملک سے آنے والے مجموعی طور پر بیسیوں ملین کارکنوں کے لیے ایسے قوانین نافذ رہے ہیں، جن میں سے سب سے زیادہ تنقید 'کفالہ‘ کے نظام پر کی جاتی رہی ہے۔

اس نظام کے تحت ہر مہمان کارکن عموماﹰ کسی نہ کسی 'کفیل‘ کی سرپرستی میں کام کرتا ہے اور اس وجہ سے اکثر تارکین وطن کے لیے استحصال سے بچنے کا کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ کہ کفیل ہی متعلقہ غیر ملکی کارکن کے حوالے سے تمام قانونی امور میں فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

سعودی عرب، امام کعبہ اور اسرائیل سے متعلق بدلتا موقف

قطر نے یہی فیصلہ پہلے کیا

چند خلیجی ممالک میں حکومتیں 'کفالت‘ کا نظام یا تو بدل رہی ہیں یا اسے بہتر بنا رہی ہیں اور روزگار سے متعلق شرائط کو زیادہ انسان دوست بنایا جا رہا ہے۔ مہمان کارکنوں کے لیے شرائط کار میں نرمی کی اس لہر میں بیرونی حکومتوں اور انسانی حقوق کی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بڑی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے تنقید کا بھی ہاتھ رہا ہے۔

قطر: کارکنوں کی تنخواہوں میں اضافہ، نوکری بدلنے کی بھی اجازت

سعودی عرب سے کچھ عرصہ قبل خلیجی ریاست قطر نے بھی اپنے ہاں ایسی ہی اصلاحات کا اعلان کر دیا تھا۔ ان اصلاحات کا مقصد بھی وہاں روایتی 'کفالہ‘ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا تھا۔ قطر کو 2022ء میں فٹ بال کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنا ہے اور وہاں مہمان کارکنوں کے استحصال کی رپورٹیں ماضی میں بار بار ذرائع ابلاغ کی سرخیوں کا موضوع بنتی رہی ہیں۔

م م / ع ا (روئٹرز، اے پی)