1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سعودی عرب میں ایک ہی دن میں سات افراد کے سر قلم

12 اپریل 2026

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کے جائزے کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک ریاض حکومت 61 افراد کو سزائے موت دے چکی ہے، جن میں سے 38 کیسز منشیات سے متعلق تھے اور سزا پانے والوں میں زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی تھی۔

https://p.dw.com/p/5C3Xn
رواں سال اب تک سزائے موت پانے والوں میں سے اکثریت غیر ملکیوں کی تھی، جن کی تعداد 33 بتائی گئی ہے
رواں سال اب تک سزائے موت پانے والوں میں سے اکثریت غیر ملکیوں کی تھی، جن کی تعداد 33 بتائی گئی ہےتصویر: Cliff Owen/AP Photo/picture alliance

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے آج بروز اتوار بتایا کہ سلطنت  میں ایک ہی دن میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں سزا یافتہ سات افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق پانچ سعودی شہریوں اور دو اردنی باشندوں کو اس مملکت میں ایمفیٹامین گولیاں اسمگل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا، ''مجرمان کے خلاف بطور تعزیری سزا، سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا‘‘ اور یہ سزائیں اتوار کے روز دارالحکومت ریاض  میں دی گئیں۔

سعودی عرب کو مجرموں کے خلاف سزائے موت کے استعمال پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے
سعودی عرب کو مجرموں کے خلاف سزائے موت کے استعمال پر مسلسل تنقید کا سامنا ہےتصویر: Mahmut Atanur/AA/picture alliance

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کے ایک جائزے کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک ریاض حکومت 61 افراد کو سزائے موت دے چکی ہے، جن میں سے 38 کیسز منشیات سے متعلق تھے۔

رواں سال اب تک سزائے موت پانے والوں میں سے اکثریت غیر ملکیوں کی تھی، جن کی تعداد 33 بتائی گئی ہے۔

2025ء میں سعودی عرب میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد مسلسل دوسرے سال بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی، جب حکام نے مجموعی طور پر 356 افراد کو سزائے موت دی تھی، جن میں سے 243 کا تعلق منشیات کے مقدمات سے تھا۔

یہ تعداد انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سعودی عرب میں 1990ء سے سزائے موت کے کیسز کا دستاویزی ریکارڈ رکھنا شروع کرنے کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل 2024 ء میں 338 سزاؤں کا ریکارڈ قائم ہو گیا تھا۔

سعودی عرب نے 2022 ء کے آخر میں منشیات کے جرائم پر سزائے موت پر عمل درآمد دوبارہ شروع کر دیا تھا، جو اس سے قبل تقریباً تین سال تک معطل رہا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا تسلسل ولی عہد محمد بن سلمان کے سماجی و معاشی اصلاحاتی ایجنڈے  کے تاثر کو نقصان پہنچاتا ہے
انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا تسلسل ولی عہد محمد بن سلمان کے سماجی و معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے تاثر کو نقصان پہنچاتا ہےتصویر: Mediawan

اقوام متحدہ کے مطابق عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت غیر قانونی محرک دوا کیپٹاگون کی بڑی منڈیوں میں شامل ہے، جو معزول شامی رہنما بشار الاسد کے دور میں شام کی بڑی برآمدات میں شمار ہوتی تھی۔

سعودی عرب کو مجرموں کے خلاف سزائے موت کے استعمال پر مسلسل تنقید کا سامنا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سزا کا استعمال حد سے متجاوز قرار دیتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مملکت دنیا کے سامنے اپنا ایک جدید تشخص پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ سزائے موت کا تسلسل ولی عہد محمد بن سلمان کے سماجی و معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ایک زیادہ کھلے اور برداشت والے معاشرے کے تاثر کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ادارت: مقبول ملک

کیا موت کی سزا کو ختم کر دیا جانا چاہیے؟