سعودی عرب علاقے ميں اپنا اثر قائم رکھنا چاہتا ہے
7 اگست 2012
سعودی عرب کا شاہی خاندان اپنے مفادات کے تحفظ کے ليے بيرون ملک اپنے اتحاديوں کی بھی فراخدلی سے مدد کرتا ہے۔
جرمنی کی سياسی علوم کی فاؤنڈيشن کے سعودی عرب کے امور کے ماہر گيڈو اشٹائن برگ برگ نے کہا: او ٹون۔ ’’سعودی عرب روايتی طور پرپيسے کے ذريعہ اپنے اثر کو پھيلاتا ہے۔ اس کا اندازہ مصر سے ہوجاتا ہے۔ سعودی عرب سابق صدر مبارک کی حکومت کی نمائندگی کرنے والی مصر کی اعلٰی فوجی کونسل کو کثير رقوم دے رہا ہے۔‘‘
سابق مصری صدر حسنی مبارک عشروں تک مشرق وسطٰی ميں سعودی عرب کے اہم ترين اتحادی رہے۔ بہت سے مصری سعودی عرب ميں ملازمت کر رہے ہيں۔ دوسری طرف سعودی چھٹياں گذارنے کے ليے مصر کو پسند کرتے ہيں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب نے مصر کی معيشت ميں اربوں کی رقم لگائی ہے۔ اگرچہ مبارک حکومت کے زوال کے بعد مصر ميں نئے سرے سے بساط بچھی ہے ليکن سعودی سب سے زيادہ آبادی والے اس عرب ملک ميں اپنے اثر کو قائم رکھنا چاہتے ہيں۔
سعودی عرب کی آبادی ميں شيعوں کا تناسب تقريباً 10 فيصد ہے۔ سنی اکثريت يہ سمجھتی ہے کہ اُن کے ايران سے روابط ہيں۔ اس ليے سعودی حکومت ملک کے مشرق ميں اپنی شيعہ اقليت سے خوفزدہ رہتی ہے۔
سعودی عرب ميں سنی اکثريت کو غلبہ حاصل ہے۔ وہ محمد بن عبد الوہاب کے نظريات سے متاثر ہے اور يہ کہا جاتا ہے کہ يہی اسلامی نظريات سعودی عرب کا رياستی مذہب ہيں۔ يہ اثرات سعودی عرب کی سرحدوں سے دور دور تک دوسرے ممالک ميں بھی منتقل ہو چکے ہيں، مثلاً مصر اور تيونس ميں۔ يورپ ميں انہيں سلفی نظريات کہا جاتا ہے۔ سعودی عرب کے وہابی نظريات اور اسلام کی وہاں رائج تشريحات مغربی افريقہ، جنوب مشرقی ايشيا اور جنوبی ايشيا کے علاوہ مغربی دنيا اور يورپ میں بھی پھيلی ہيں۔ مکہ مکرمہ اور مدينہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب کو اسلامی دنيا ميں ايک خاص مقام اور وقعت حاصل ہے۔
شام ايران کا اہم ترين عرب اتحادی ہے۔ اس ليے وہاں سعودی اثر محدود ہے۔ يہ کوئی تعجب انگیز بات نہيں کہ سعودی عرب شامی باغيوں کو مالی مدد دے رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب اور قطر باغيوں کو اسلحہ بھی فراہم کر رہے ہيں۔ شام کی خانہ جنگی اس دوران بظاہر سنيوں کے قائد سعودی عرب اور شيعوں کے قائد ايران کے درميان علاقائی تنازعہ بھی بن چکی ہے۔
ايران مبينہ طور پر ايٹمی طاقت بننا چاہتا ہے اور سعودی عرب امريکہ کے حفاظت کے وعدوں اور اسلحے کی خريداری پر بھروسہ کر رہا ہے۔ تيل کی دولت نے اُسے سياست، اقتصاديت اور مذہب کے ميدان ميں بہت زيادہ اثر انداز ہونے کے مواقع ديے ہيں۔
A.Allmeling,sas/R.Bosen, at