1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ریپ کا مطلب ریپ، خواہ شوہر ہی کیوں نہ کرے، بھارتی عدالت

جاوید اختر، نئی دہلی
24 مارچ 2022

بھارتی صوبے کرناٹک کے ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ ریپ، ریپ ہے، خواہ ریپ کرنے والا مرد متاثرہ خاتون کا شوہر ہی کیوں نہ ہو۔ اس فیصلے سے میریٹل ریپ پر جاری بحث کو قطعی شکل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/48yHX
Indien l Proteste gegen Vergewaltigungen
تصویر: picture alliance/NurPhoto/S. Pal Chaudhury

کرناٹک ہائی کورٹ کے جج ایم ناگا پرسنّا نے ایک شخص کے خلاف اپنی بیوی کی طرف سے عائد کردہ ریپ کے الزامات کو مسترد کرنے سے انکار کردیا اورقانون سازوں سے ''خاموشی کی آوازوں‘‘ پر کان دھرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا،''ایک مرد ایک مرد ہے، ایک عمل ایک عمل ہے، ریپ ریپ ہے،خواہ یہ کام مرد کی شکلگ میں 'شوہر' ہی اپنی خاتون 'بیوی' کے ساتھ کیوں نہ کرے۔‘‘

جسٹس ناگاپرسنّا کا کہنا تھا کہ ایک شخص صرف اس لیے ریپ کے مقدمے سے بچ نہیں سکتا کیوں کہ متاثرہ اس کی بیوی ہے۔ یہ مساوات کے حق کے خلاف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک قدامت پسند خیال ہے کہ ''شوہر اپنی عورتوں کے مالک ہوتے ہیں، ان کے جسم، ذہن اور روح کے مالک ہوتے ہیں۔‘‘ اس رجعت پسند خیال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کے ساتھ ناانصافی کے معاملے میں سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اور ممبران پارلیمان کو چاہیے کہ میریٹل ریپ کے حوالے سے جلد از جلد قانون سازی کریں۔

 معاملہ کیا تھا ؟

عدالت نے یہ فیصلہ ایک 43 سالہ شخص کی طرف سے اپنے خلاف ریپ اور ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات سے بری کرنے کے لیے سن 2018 میں دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران سنایا۔ مذکورہ شخص کی بیوی نے شادی کے گیارہ برس بعد بنگلور پولیس کے پاس مارچ 2017 ء میں شکایت درج کرائی تھی کہ اس کے شوہر نے اس کے ساتھ ریپ کیا اور اس کے بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

پولیس نے تفتیش کے بعد مذکورہ شخص کے خلاف ریپ، غیر فطری جنسی عمل، بیوی کے ساتھ تشدد اور جہیز کے لیے جنسی ہراسانی کے الزامات میں بھارتی تعزیرات کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا۔ نچلی عدالت میں اپنا کیس ہارنے کے بعد مذکورہ شخص نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ اس نے اپنے خلاف الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ کسی بیوی کی طرف سے اپنے شوہر کے خلاف ریپ کے الزامات قابل قبول نہیں۔ ہائی کورٹ نے تاہم اس دلیل کو مسترد کردیا۔

Protest gegen sexuelle Gewalt in Indien
تصویر: Reuters/R. de Chowdhuri

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

بھارت میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 375 کے تحت، جبری سیکس کو صرف اس صورت میں جرم سمجھا جاتا ہے جب بیوی کی عمر 18 سال سے کم ہو یعنی 18 سال کی عمر کے بعد کوئی بھی عورت جبری جنسی تعلقات قائم کیے جانے پر شکایت درج نہیں کر سکتی۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سب عورت کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک پدر شاہی سوچ ہے جس کو بہرحال ختم ہونا چاہیے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم 'آل انڈیا پروگریسیو وومنز ایسوسی ایشن‘  کی سکریٹری کویتا کرشنن نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا بھارت میں جب کوئی عورت یہ کہتی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے تو لوگ اسے جھوٹ قراردیتے ہیں اور متاثرہ خاتون پر ہی انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت میں عورتوں کے ساتھ ریپ کے بڑے پیمانے پر واقعات کی رپورٹنگ نہیں ہوپاتی۔

سینٹر فار سوشل ریسرچ انڈیا کی ڈائریکٹر ڈاکٹر رنجنا کماری کا کہنا ہے کہ،''پورے بھارت میں بیوی کے ساتھ ریپ کے واقعات بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں، بالخصوص چائلڈ میرج کے پس منظرمیں جہاں کم عمر بچیوں کی شادیاں کردی جاتی ہیں اور وہ اپنے ساتھ ہونے والی 'زیادتیوں‘  کو کسی کے سامنے بیان بھی نہیں کرپاتیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ عورت کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک پدر شاہی سوچ ہے۔

جنسی زیادتی کے لحاظ سے بھارت خطرناک ترین ملک

ایشیا کے بیشتر ممالک میں اپنی بیوی کی مرضی کے خلاف جنسی تعلق قائم کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ بھارت بھی ان میں سے ایک ہے۔

سن 2016 میں بھارت سرکار کی طرف سے پانچ ریاستوں میں کرائے گئے سروے کے مطابق چھ لاکھ سے زائد خواتین میں سے 30 فیصد  نے بتایا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار ہوچکی ہیں۔ کرناٹک اور بہار میں یہ تعداد بالترتیب 44 اور 40 فیصد تھی۔

تھامسن روئٹرز فاونڈیشن نے سن  2018 میں اپنے ایک سروے میں بھارت کو خواتین  کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک قرار دیا تھا۔اس نے اس کے اہم اسباب میں سے ایک خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کا بہت زیادہ خطرہ بتایا تھا۔

کرناٹک ہائی کورٹ نے جس کیس کا فیصلہ سنایا ہے اسی طرح کا ایک کیس سن 2018 میں گجرات ہائی کورٹ میں بھی آیا تھا۔ اس کیس پر طویل جرح کے بعد ہائی کورٹ نے گوکہ شوہر کے خلاف ریپ کے الزامات کو منسوخ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم اسی کے ساتھ میرٹل ریپ کو قابل سزا جرم قرار دینے کی اشد ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ اس وقت دہلی ہائی کورٹ اور گجرات ہائی کورٹ دونوں ہی عدالتوں میں میریٹل ریپ کے جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

'پاکستانی معاشرہ تیار ہے ڈھکے چھپے موضوعات پر گفتگو کرنے کو'

 

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں