1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستشمالی امریکہ

روسی یوکرینی جنگ: کلسٹر بموں سے کس طرح کی تباہی ہوتی ہے؟

2 مارچ 2022

انسانی اور شہری حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کے مطابق یوکرین کے خلاف جنگ میں روسی فوج کلسٹر بموں کا استعمال کر رہی ہے جبکہ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اہم بات یہ جاننا ہے کہ کلسٹر بم کس طرح کی تباہی کا باعث بنتے ہیں؟

https://p.dw.com/p/47t6B
Infografik Streubombe Englisch

اگر روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف کلسٹر بموں کے استعمال کا الزام ثابت ہو گیا تو گزشتہ کئی عشروں کے دوران یورپ کی اس سب سے بڑی زمینی جنگ میں ایسے ہتھیاروں کا گنجان آباد شہری علاقوں میں استعمال ایک نئے انسانی بحران کی وجہ بن سکتا ہے۔

کلسٹر بموں کا استعمال آج بھی

کلسٹر بموں پر پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیار شہریوں کی بلاامتیاز ہلاکتوں کا سبب اور کسی بھی دشمن کے خلاف استعمال کے طویل عرصے بعد تک بھی شدید خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ شام سے لے کر یمن تک، بلقان کے خطے، افغانستان اور جنوب مشرقی ایشیا تک میں گرائے جانے کے بعد نہ پھٹنے والے ایسے کلسٹر بم کئی دہائیوں بعد بھی انسانوں کی جان لیتے اور انہیں معذور بنا دیتے ہیں۔

روسی صدر پوٹن یورپی سیاست کو کیسے بدلتے جا رہے ہیں، تبصرہ

کلسٹر بموں کی ہلاکت خیزی کی وجہ سے دنیا کے بہت سے ممالک اب تک اس عالمی کنوینشن میں شامل ہو چکے ہیں، جس کا مقصد ایسے ہتھیاروں کے استعمال کو محدود بنانا ہے۔ لیکن یہ بم آج بھی مختلف براعظموں کے بہت سے بحران زدہ علاقوں میں جاری خونریز تنازعات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

کلسٹر بم کہتے کس کو ہیں؟

کلسٹر بم ایسے ہتھیاروں کو کہتے ہیں، جن سے گرائے جانے کے بعد فضا میں ہی بہت سے ایسے چھوٹے چھوٹے بم یا bomblets نکلتے ہیں، جو وسیع تر علاقے میں گرتے ہیں۔ ان کے استعمال کا مقصد بہت سے اہداف کو بیک وقت تباہ کن حملوں کا نشانہ بنانا ہوتا ہے۔

Streubomben
حزب اللہ کے خلاف کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران اسرائیل نے لبنان پر چار ملین کلسٹر بم پھینکے تھےتصویر: Getty Images/AFP/R. Haidar

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق کلسٹر بم جنگی ہوائی جہازوں سے بھی گرائے جا سکتے ہیں، توپوں سے فائر بھی کیے جا سکتے ہیں اور انہیں میزائلوں کے ذریعے بھی ان علاقوں میں گرایا جا سکتا ہے، جنہیں ہدف بنانا مقصود ہو۔

روس کا 60 کلومیٹر طویل فوجی قافلہ کییف کی جانب بڑھ رہا ہے

انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق کلسٹر بموں سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے بموں کے ایسے حملوں کے فوری بعد نہ پھٹنے کی شرح کافی زیادہ ہوتی ہے، جو 40 فیصد تک بھی ہو سکتی ہے۔ یوں یہ چھوٹے چھوٹے لیکن بہت ہلاکت خیز بم وسیع تر علاقوں میں پڑے رہتے ہیں اور تنازعے کے بعد بھی متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی کی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔

کلسٹر بموں کا استعمال جنگی جرم؟

کسی بھی جنگ میں کلسٹر بموں کا استعمال تو بین الاقوامی قانون کے منافی نہیں ہوتا لیکن ان کا عام شہریوں کے خلاف استعمال بین الاقوامی قانون کے منافی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ایسے کسی ہلاکت خیز حملے کی چھان بین اور ممکنہ جنگی جرم کے تعین میں فیصلہ کن بات یہ ہوتی ہے کہ آیا جس جگہ کو ہدف بنایا گیا تھا، وہ جائز عسکری ہدف تھا اور آیا شہری ہلاکتوں سے بچنے کی بھی پوری کوشش کی گئی تھی۔

مہاجرین کی آمد اور یورپ کا ’دوہرا معیار‘

انسان حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ہتھیاروں سے متعلق ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر مارک ہِزنے نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا، ''بین الاقوامی قانون کا یہ حصہ اس وقت کلیدی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے، جب یہ طے ہو جائے کہ ایسے بموں کو شہری آبادی کو بلادریغ نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘‘ ان کے بقول، اس طرح اہم بات یہ نہیں رہتی کہ ایسے ہتھیار استعمال کیے گئے، بلکہ یہ کہ یہ بم کس طرح استعمال ہوئے۔

Streubomben
شامی خانہ جنگی میں ملکی فوج نے اپوزیشن کے خلاف روسی ساختہ کلسٹر بم استعمال کیے تھےتصویر: Getty Images/AFP/B. Kilic

کلسٹر بموں پر پابندی کا بین الاقوامی کنوینشن

کلسٹر بموں کے استعمال پر پابندی کے بین الاقوامی کنوینشن میں اب تک دنیا کے 120 سے زائد ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں، جو اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ان ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے، انہیں تیار بھی نہیں کریں گے، ذخیرہ بھی نہیں کریں گے اور کسی دوسرے ملک کو منتقل بھی نہیں کریں گے۔

پوٹن کی جارحیت، جرمنی نے اپنی اسلحے کی پالیسی تبدیل کر دی

اس کے علاوہ یہ ممالک خود کو اس امر کا پابند بھی بنا چکے ہیں کہ ماضی میں کسی بھی موقع پر ان کے استعمال کے بعد وہ ایسے بموں کی باقیات کا صفایا بھی کریں گے۔ اس کنوینشن میں اب تک روس اور یوکرین بھی شامل نہیں ہوئے اور امریکہ بھی اس کا رکن نہیں ہے۔

کلسٹر بم کہاں کہاں استعمال ہو چکے؟

ایسے بم کئی حالیہ تنازعات میں استعمال ہو چکے ہیں۔ خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں حکومتی دستوں نے یہ بم ملکی اپوزیشن کی مسلح فورسز کے مراکز پر حملوں میں استعمال کیے۔ شامی فوج کو یہ بم روس نے مہیا کیے تھے۔ دمشق حکومت کے دستوں نے یہ بم کئی مرتبہ شہری اہداف پر اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے گرائے۔

ایٹمی جنگ کا خطرہ: کونسے ممالک جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں؟

اسرائیل نے بھی جنوبی لبنان کے شہری علاقوں پر کلسٹر بم پھینکے تھے، بشمول 1982ء کی اس فوجی مداخلت کے جب اسرائیلی فوجی لبنانی دارالحکومت بیروت تک پہنچ گئے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ اور اقوام متحدہ دونوں کا الزام ہے کہ 2006ء میں حزب اللہ کے خلاف کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران اسرائیل نے لبنان پر چار ملین کلسٹر بم فائر کیے تھے۔ ان میں سے بہت سے آج تک نہیں پھٹے اور لبنانی شہریوں کی زندگیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

اس کے علاوہ یمن کی جنگ میں سعودی عرب کی قیادت میں عسکری اتحاد نے ایرانی نواز حوثی باغیوں کے خلاف بھی کلسٹر بم استعمال کیے تھے۔ 2003ء میں عراق پر فوجی حملے میں خود پینٹاگون کے مطابق امریکہ نے بھی ان بموں کا استعمال کیا تھا۔ یہی نہیں ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2001ء میں افغانستان پر امریکی فوجی حملے کے دوران اور اس کے تین سال بعد تک بھی امریکی قیادت میں فوجی اتحاد نے ہندوکش کی اس ریاست پر ڈیڑھ ہزار سے زائد کلسٹر بم پھینکے تھے۔

یوکرین میں کیا ہو رہا ہے؟

ہیومن رائٹس واچ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہِنزے کے مطابق روسی فوج نے یوکرین میں 'یقینی طور پر‘ کلسٹر بم استعمال کیے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے دو ایسی یقینی مثالیں دیں، جن میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ ان میں سے ایک واقعے میں تو ایسے بم روسی فوجی حملے کے پہلے ہی روز وُہلیدار نامی قصبے میں ایک ہسپتال کے سامنے ایک میزائل حملے میں گرائے گئے۔ کلسٹر بموں سے روس نے دوسرا یقینی حملہ جنگ شروع ہونے کے پانچویں روز کیا، جب یوکرین کے 1.4 ملین کی آبادی والے اور دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف کو میزائلوں کے ذریعے ایسے بموں سے نشانہ بنایا گیا۔

یوکرائن کی فوری فوجی مدد کی جائے، یورپی یونین کے مشرقی ارکان

روسی یوکرینی جنگ میں کلسٹر بموں کے استعمال سے متعلق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کہا ہے، ''روس کا سول آبادی والے علاقوں میں کلسٹر بموں کے استعمال کا ریکارڈ بہت شرم ناک ہے۔‘‘

روس کی طرف سے اپنے خلاف یوکرین میں کلسٹر بموں کے استعمال کے الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔ لیکن لندن میں قائم ایک ڈیفنس تھنک ٹینک کے ریسرچ فیلو جسٹن برونک نے اے پی کو بتایا، ''خارکیف کے رہائشی علاقوں میں روسی حملوں کے بعد جمع کردہ گولہ بارود کی باقیات کی تصاویر اس امر کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرین میں کلسٹر بم استعمال کر رہا ہے۔‘‘

م م / ب ج (اے پی)