1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

روس میں پولنگ جاری، ’پوٹن کی جیت یقینی‘

18 مارچ 2018

روس میں آج بروز اتوار صدارتی الیکشن کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ اس الیکشن میں ولادیمیر پوٹن کی کامیابی یقینی ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس مرتبہ ووٹ ڈالنے کی شرح کیا رہتی ہے۔

https://p.dw.com/p/2uXVC
Russland Wahlen
تصویر: picture-alliance/Mikhail Metzel/TASS/dpa

وفاق روس میں آج اتوار کے دن صدارتی الیکشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اقتدار پر مضبوط گرفت کے باعث یہ امر یقینی ہے کہ سابق خفیہ ایجنٹ ولادیمیر پوٹن چوتھی مرتبہ بھی اس منصب پر فائز ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

’مضبوط صدر، مضبوط روس‘، پوٹن کا انتخابی نعرہ

روسی اپوزیشن لیڈر کی عارضی رہائی

روس کے صدراتی انتخابات، مظاہرے اور عالمی ردعمل

تاہم ناقدین کے مطابق اس انتخابی عمل میں ووٹ ڈالے جانے کی شرح اہم ہو گی کیونکہ اسی سے معلوم ہو گا کہ عوامی سطح پر پوٹن کی مقبولیت کیا ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق پوٹن کو ستر فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

رقبے کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس میں گیارہ مختلف ٹائم زونز ہیں۔ اس لیے روس کے مشرقی علاقوں میں ووٹنگ کا عمل عالمی وقت کے مطابق ہفتے کی شب آٹھ بجے شروع ہوا۔ اس انتخابی عمل کا اختتام کالینن گراڈ میں اتوار کی شام چھ بجے ہو گا۔ اس الیکشن میں پوٹن کے مقابل سات امیدوار ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اتنی سیاسی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ پوٹن کو سخت مقابلہ دے سکے۔

پوٹن کے اہم اور مرکزی سیاسی حریف الیکسی ناوالنی کو ان صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ملی۔ اس لیے اس الیکشن کا نتیجہ پوٹن کے حق میں ہی جائے گا اور گزشتہ اٹھارہ برس سے برسر اقتدار 65 سالہ ولادیمیر پوٹن مزید چھ سال کے لیے صدر کے عہدے پر براجمان ہو جائیں گے۔

اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے بعد پوٹن نے کہا کہ کوئی بھی ایسا نتیجہ جو انہیں ملکی صدر چننے کے لیے سامنے آئے گا، وہ اسے اپنی کامیابی تصور کریں گے۔

دوسری طرف الیکسی ناوالنی نے روسی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس الیکشن کا بائیکاٹ کر دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر عائد کردہ الزامات سیاسی ہیں، جس کی وجہ سے وہ اس الیکشن میں حصہ لینے کے اہل نہیں رہے ہیں۔

پوٹن سن انیس سو ننانوے سے ملکی اقتدار پر براجمان ہیں۔ اس دوران وہ تین مرتبہ صدر اور ایک مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ گزشتہ صدارتی انتخابات میں پوٹن کو 65 فیصد ووٹ ملے تھے۔

سن دو ہزار بارہ میں ہوئے اس الیکشن کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ پوٹن نے اس انتخابی عمل میں دھاندلی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی۔

روس میں یہ الیکشن ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں، جب ماسکو اور لندن حکومتوں کے مابین کشیدگی نمایاں ہو چکی ہے۔ برطانیہ میں سابق روسی جاسوس سیرگئی اسکریپل اور ان کی بیٹی پر کیمیکل حملے کے نتیجے میں اتحادی ممالک بھی برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ اس تناظر میں روس تنہا دکھائی دیتا ہے۔ برطانیہ کی حکومت کہہ چکی ہے کہ صدر پوٹن نے اس حملے کا حکم دیا تھا۔ تاہم کریملن ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

 

ع ب / ش ح / اے ایف پی