1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دہلی الیکشن، کانگریس پارٹی کا مکمل صفایا کیسے ہوا؟

12 فروری 2020

کانگریس پارٹی نے پندرہ سال بھارتی دارالحکومت پر حکمرانی کی۔ لیکن ایساکیا ہوا کہ اس بار اس کے بیشتر امیدواروں کی ضمانت تک ضبط ہوگئیں؟

https://p.dw.com/p/3Xg3V
تصویر: picture-alliance/AP Photo/A. Qadri

عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال تیسری بار دہلی کے وزیر اعلی بننے کے لیے تیار ہیں۔ پارٹی نے حلف برداری کی تقریب اتوار سولہ فروری کو رام لیلا میدان میں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ 

اس الیکشن میں پہلے کے مقابلے میں بی جے پی کا ووٹ بینک بڑھا اور اس کے نصیب میں آٹھ سیٹیں آئیں ۔

لیکن کانگریس پارٹی، جو 2013 تک دہلی میں برسراقتدار تھی، کسی بھی سیٹ پر اس کا امیدوار دوسرے نمبر پر بھی نہیں آسکا۔

63 نششتوں پر اس کے امیدواروں کی ضمانت تک ضبط ہوگئیں اور پارٹی کو پانچ فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل ہوئے۔

Neu Dheli Gebete Wahlen Ergebnis
تصویر: Reuters/A. Abidi

اس بری کارکردگی کے بعد دہلی میں کانگریس پارٹی کے انچارج پی سی چاکو نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پارٹی کی اس کارکردگی کے لیے ریاست کی سابق وزیر اعلی شیلا ڈکشٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا، جو پچھلے سال جولائی میں انتقال کر چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا، " کانگریس پارٹی کا زوال 2013 میں اس وقت ہی شروع ہوگیا تھا جب وہ ریاست کی وزیراعلی تھیں۔ نئی عام آدمی پارٹی نے کانگریس کا تمام ووٹ لے لیا اور ہم اسے پھر کبھی واپس نہیں لا سکے۔ وہ ووٹ آج بھی عام آدمی پارٹی کے پاس ہی ہے۔"

سابق وزیر اعلی شیلا ڈکشٹ
تصویر: AP

لیکن کانگریس کے بعض رہنماؤں نے پی سی چاکو کے بیان پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری بار جب شیلا ڈکشٹ کے پاس پارٹی کی کمان تھی تو پارٹی کو بائیس فیصد تک ووٹ ملے تھے۔ پارٹی رہنماؤں نے دہلی میں شکست کے لیے قیادت کی کمی، پارٹی کیڈر میں کمی اور حکمت عملی نہ ہونے جیسی وجوہات کو قرار دیا ہے۔

نفرت کی سیاست کا خاتمہ؟

بھارتی میڈیا میں دہلی کے انتخابات کے مختلف پہلوؤں پر بحث اب بھی جاری ہے۔ اس کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ کیا اب بھارت میں سیاست ترقیاتی پروگراموں پر ہوگی اور نفرت کی سیاست کا دور ختم ہوگيا ہے؟

بی جے پی کے قریب سمجھے جانے والے ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر نتائج سے اس قدر برہم تھے کہ انہوں نے دہلی کی عوام کو 'مطلب پرست' قرار دے ڈالا اور کہا کہ، "اگر عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی بھی یہاں سے انتخاب لڑے اور وہ یہ وعدہ کرے کہ وہ ان کی ای ایم آئی (ماہانہ قسطیں) بھر دیں گے، حالانکہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن وہ کہیں سے بھی اس کا انتظام کرلیں گے، تو اس طرح پی ٹی آئی بھی انتخاب جیت لےگي۔

لیکن ملک کے معروف سیاسی مبصر یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ دہلی کے انتخابات میں نفرت کی شسکت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا، "سب سے بڑی راحت کی بات یہ ہے کہ دہلی میں بی جے پی کی شکست سے نفرت کی سیاست پر لگام لگےگی۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو دیگر سیاست داں بھی اسی نفرت کی سیات کو اپناتے، جہاں ہندو بمقابلہ مسلمان اور ذات پات کو اچھالا جاتا ہے۔"