1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’جوہری ہتھیاروں سے پاک جزیرہ نما کوریا‘، امریکا اور چین کا مشترکہ مقصد

14 اپریل 2013

امریکا کے بقول چین نےعہد کیا ہے کہ وہ جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور تعاون کرے گا۔ تاہم چین نے عوامی سطح پر ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے کہ وہ اپنے اتحادی ملک شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔

https://p.dw.com/p/18FX6
تصویر: Reuters

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے دن بیجنگ میں چین کے اعلیٰ ترین رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق اس دوران انہوں نے کوشش کی کہ شمالی کوریا کے غیر لچکدار مؤقف میں تبدیلی کے لیے چین سفارتکاری میں تیزی لائے۔ چینی حکام کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق شمالی کوریا کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر رضا مند کرنے کے لیے مشاورت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

بطور وزیر خارجہ چین کا پہلا دورہ کرنے والے جان کیری نے چین کے اعلیٰ ترین سفارتکار، اسٹیٹ کاؤنسلر یانگ یے چی سے ملاقات کے بعد کہا، ’’ ہم اس قابل ہیں، چین اور امریکا، کہ مذاکرات کے ذریعے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کو ظاہر کر سکیں۔‘‘ جان کیری نے مزید کہا کہ اس مخصوص وقت میں بیجنگ اور واشنگٹن کو فوری طور پر فیصلہ کرنا ہو گا کہ آگےکیسے بڑھا جا سکتا ہے۔

شمالی کوریا نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ اس کمیونسٹ ملک نے جمعے کے دن ہی کہا تھا کہ ’اس کا جوہری پروگرام خطے میں امن کی ضمانت‘ ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ تازہ پابندیوں اور اس کے بعد جزیرہ نما کوریا پر امریکا اور جنوبی کوریا کی حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد سے پیونگ یانگ نے شدید ردعمل ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس ریاست کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی اسے جنگ پر اُکسا رہے ہیں۔

Nordkorea Soldaten Hwanggumpyong Insel Yalu Fluss Nähe Grenze zu China
جزیرہ نما کوریا پر کشیدگی بڑھ رہی ہےتصویر: Reuters

’مذاکرات اور مشاورت‘

مترجم کا استعمال کرنے والے یانگ یے چی نے جان کیری کے ساتھ صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ حکومت جزیرہ نما کوریا پر استحکام کی خواہاں ہے، ’’ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔ کوریا میں پائے جانے والے جوہری مسائل کی طرف مناسب توجہ دینا تمام فریقین کے بہترین مفاد میں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں بیجنگ حکومت امریکا سمیت تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

چین کا دورہ مکمل کر کے اتوار کے دن جاپان پہنچنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ جزیرہ نما کوریا پر پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے چین کو کیا اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ چینی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات میں اس مسئلے کے حل کے لیے تمام امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

(ab/ng (AP, Reuters