1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جسم فروش خواتین اور کوکین کا نشہ، برطانوی لارڈ مستعفی

مقبول ملک28 جولائی 2015

برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا یا ہاؤس آف لارڈز کے ایک رکن کو ایک ایسی ویڈیو کی وجہ سے پارلیمان سے مستعفی ہونا پڑ گیا، جس میں وہ مبینہ طور پر جسم فروش خواتین کی موجودگی میں کوکین استعمال کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/1G6XB
Großbritannien Lord John Sewel
تصویر: picture-alliance/Photoshot

لندن سے موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق لارڈ سیوَل Lord Sewel نامی اس رکن پارلیمان کو، جن کا پورا نام جان سیوَل ہے، جسم فروش خواتین اور کوکین کے نشے سے متعلق اپنی ’مصروفیات‘ پر مبنی ویڈیو کی تفصیلات منظر عام پر آ جانے کے بعد بہت زیادہ دباؤ کا سامنا تھا۔

اس پر ہاؤس آف لارڈز یا دار الامراء کے اس رکن نے آج منگل اٹھائیس جولائی کے روز برطانوی دارالحکومت لندن میں اپنے ایک بیان میں کہا، ’’میں اس تکلیف اور شرمندگی پر معذرت کا طلبگار ہوں، جس کی میں وجہ بنا ہوں۔ میں نے پارلیمانی اہلکاروں کو مطلع کر دیا ہے کہ میں ’لارڈز‘ میں اپنی رکنیت ختم کر رہا ہوں۔‘‘

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لارڈ سیوَل نہ صرف ایوان بالا کے ایک رکن تھے بلکہ وہ اس ایوان کی حقوق اور رویوں سے متعلق کمیٹی کے سربراہ بھی تھے، جو پارلیمانی معیارات اور ضوابط کے نفاذ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ جان سیوَل نے اپنے اعلان میں کہا، ’’میں امید کرتا ہوں کہ میرا (پارلیمانی رکنیت سے مستعفی ہونے کا) فیصلہ اس ایوان کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو محدود کرنے میں مدد دے گا، جو ایک ادارے کے طور پر مجھے بہت عزیز ہے۔‘‘

انہتر سالہ جان سیوَل ایک سابقہ ماہر تعلیم ہیں، جو اسی وقت ایک بڑے سیاسی اسکینڈل کی زد میں آ گئے تھے، جب کثیر الاشاعت برطانوی روزنامے The Sun نے ان کی ایسی تصاویر شائع کی تھیں، جن میں وہ بظاہر ایک کرنسی نوٹ کے مدد سے کوکین کا نشہ کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے۔ ان تصاویر میں سے ایک میں جزوی طور پر ایک نیم برہنہ جسم فروش خاتون بھی دیکھی جا سکتی تھی جبکہ جریدے ’دا سن‘ نے لکھا تھا کہ یہ تصاویر ایک ایسی ویڈیو فوٹیج سے لی گئی تھیں، جو برطانوی پارلیمان کی عمارت کے قریب ہی لارڈ سیوَل کے اپارٹمنٹ پر بنائی گئی تھی۔ ان تصاویر کی اشاعت برطانوی پولیس کی طرف سے اس چھان بین کی وجہ بنی تھی، جس دوران پولیس نے لارڈ سیوَل کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ بھی مارا تھا۔

Palace of Westminster (UGC)
لندن میں ہاؤس آف کامنز اور ہاؤس آف لارڈز کی پیلس آف ویسٹ مِنسٹر کہلانے والی تاریخی عمارتتصویر: Mohammad Karimi

برطانوی ہاؤس آف لارڈز ایوان بالا کے طور پر ہاؤس آف کامنز یا ایوان زیریں کی طرف سے منظور کردہ قانون سازی کا جائزہ لیتا ہے اور گزشتہ نو صدیوں کے دوران زیادہ تر اس ایوان کے رکن برطانوی امراء اور اشرافیہ کے وہ نمائندے رہے ہیں، جو روایتی طور پر تاج برطانیہ کی طرف سے دیئے گئے خطابات کے حامل ہوتے ہیں۔

اس وقت ہاؤس آف لارڈز کے ارکان کی تعداد 783 ہے، جو روایتی طور پر پیئرز کہلاتے ہیں۔ ان میں امراء، سابقہ اراکین پارلیمان، وکلاء اور وہ اہم سماجی اور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں، جنہیں ملکہ برطانیہ کی طرف سے لارڈ کا خطاب دیا گیا ہو۔ اس وقت ہاؤس آف لارڈز کے ارکان کی اوسط انفرادی عمر 70 سال بنتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دار الامراء کا کوئی رکن اس برطانوی پارلیمانی ادارے کے لیے شرمندگی کا سبب بنا ہو۔ 2001ء میں جیفری آرچر نامی ناول نگار یا عرف عام میں لارڈ آرچر کو ایک عدالت کی طرف سے سزائے قید سنا دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ 2007ء میں لارڈ بلیک نامی ایک اور رکن پارلیمان کو بھی امریکا میں دھوکہ دہی کے جرم میں جیل کاٹنا پڑی تھی۔