1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی، جسم فروشی کی صنعت کو مزید تحفظ دیا جائے گا

عاطف بلوچ11 مارچ 2015

جرمنی میں جسم فروشی کی صنعت سے منسلک افراد کی روزمرہ زندگی بہتر بنانے اور شعبے کو زیادہ بہتر طریقے سے ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک نیا قانون بنانے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1EoeM
تصویر: AFP/Getty Images

تیرہ برس قبل جرمنی میں جسم فروشی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، ایک اچھی نیت کے ساتھ بنائے گئے پراسٹیٹیوشن ایکٹ 2002ء ‘ کے عملدرآمد میں لیکن کئی پیچیدگیاں حائل رہی ہیں۔ ان میں انسانوں (سیکس ورکرز) کی اسمگلنگ اور غلامی جیسے مسائل سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ تاہم اب جرمن حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس شعبے میں خرابیوں اور پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے ایک نیا قانون بنایا جائے گا۔

جرمن میں برسراقتدار کرسچن ڈیمویٹک یونین اور کرسچن سوشل یونین کے پارلیمانی گروپ کے ترجمان مارکوس وائنبرگ نے خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا ہے، ’’بہت جلد جرمنی قحبہ خانوں کے حوالے سے یورپ کی ایک بے قابو صنعت نہیں رہے گی۔‘‘ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ جرمنی کی وسیع تر مخلوط حکومت ملک کی ریڈ لائٹ انڈسٹری کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے متفق ہو چکی ہے۔

Steindamm in Hamburg
یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں اگرچہ قحبہ خانوں کو قانونی حیثیت دیے گئے تیرہ برس ہو گئے ہیںتصویر: AP

یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں اگرچہ قحبہ خانوں کو قانونی حیثیت دیے گئے تیرہ برس ہو گئے ہیں لیکن اس قدامت پسند معاشرے میں ابھی تک سیکس ورکرز کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ایک عشرے سے بھی پہلے اٹھائے جانے والے اُن اقدامات کے تحت جسم فروش خواتین کو ان کی خدمات کے عوض باقاعدہ اجرتیں دینے کے علاوہ انہیں ٹیکس کا بھی پابند بنایا گیا تھا تاکہ وہ بے روزگاری فنڈ اور پینشن کی مختلف اسکیموں سے بھی استفادہ حاصل کر سکیں۔ ’پراسٹیٹیوشن ایکٹ 2002ء ‘ کے بعد جرمنی میں قحبہ خانے بنانے کا عمل بھی قدرے آسان ہو گیا تھا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جسم فروشی کی صنعت کے لیے بنائے جانے والے نئے قانون کا مقصد خواتین کو تشدد اور استحصال سے نجات دلانا بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ جرمنی میں جسم فروشی کے لیے دیگر ممالک سے خواتین کی اسمگلنگ کی روک تھام ، ’جنسی غلامی‘ کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں تمام ایسی جسم فروش طوائفوں کو متعلقہ ادارے سے رجسٹر کرانا ہو گا اور اُس کے بعد ہی وہ جسم فروشی کا پیش اپنا سکیں گی۔ مختلف بیماریوں کے تدارک کے لیے کنڈوم کا استعمال ضروری ہو گا اور سیکس ورکرز کے باقاعدہ طبی معائنے بھی کیے جائیں گے۔

نئے اقدامات کے تحت نیا قحبہ خانہ کھولنے کے لیے خصوصی اجازت درکار ہو گی جبکہ اس کے منتظمین کے ماضی کے حوالے سے بھی تفتیش کی جائے گی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس انڈسٹری کی مؤثر نگرانی ایک مشکل امر اہم ہے۔ ابھی تک یہی معلوم نہیں ہے کہ جرمنی میں سیکس ورکرز کی تعدد کتنی ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق جسم فرشوں کی تعداد دو لاکھ تک ہے، جو روزانہ ایک ملین افراد کو خدمات مہیا کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جرمنی میں قحبہ خانوں کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔

برلن میں سیکس ورکرز کے حقوق کے لیے سرگرم ایک ادارے Hydra کے مطابق دارالحکومت میں جسم فروش افراد کی تعدد چھ تا آٹھ ہزار ہے، جن میں سے زیادہ تر تارکین وطن پس منظر کے حامل ہیں۔ اس ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ برلن میں چھ سو کے قریب ایسے اڈے بھی ہیں، جو قحبہ خانے کی طرز پر بنائے گئے ہیں لیکن وہ باقاعدہ رجسٹر نہیں ہیں۔ جرمن میں بیشتر جسم فروش خواتین کا تعلق بلغاریہ اور رومانیہ جیسے قدرے غریب یورپی ممالک سے ہے، جو جعلی نوکری کے بہانے جرمنی میں جسم فروشی کا کام کرتی ہیں۔