جاپانی تحقیق میں چین سے لاحق خطرات کی نشاندہی
30 مارچ 2013
شمال مشرقی ایشیا میں ٹیکنالوجی میں پیشرفت کے بعد اب جدید میزائل ٹیکنالوجی، بری، بحری اور فضائی فوجی طاقت میں اضافے کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ٹوکیو میں وزارت دفاع کے تحت چلنے والا National Institute for Defense Studies جاپانی قومی ادارہ برائے دفاعی علوم 1996ء سے اُن ممکنہ خطرات کا جائزہ لے رہا ہے، جو جاپان کو اس کے پڑوسیوں سے لاحق ہوسکتے ہیں۔ اس ادارے نے اپنی تازہ رپورٹ گزشتہ روز جاری کی، جس میں ممکنہ خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
پہلی بار اس رپورٹ کی تیاری میں بھارت اور آسٹریلیا کو بھی مدنظر رکھا گیا کیونکہ جاپانی ماہرین کی نظر میں یہ ممالک بھی خطے کے عسکری امور میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ توجہ چین اور شمالی کوریا کی جانب ہی مبزول رہی، جن سے زیادہ خدشات لاحق ہیں۔
اس رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا کہ بیجنگ اور ٹوکیو کے مابین جو کشیدگی اب پائی جاتی ہے، وہ اپریل میں جزائر کے تنازعے کے بعد پیدا ہوئی۔ سابقہ جاپانی حکومت میں ٹوکیو کے گورنر نے سینکاکوس نامی جزائر، جنہیں چین والے دیاویوس کہتے ہیں، کو خرید کر قومیانے کا اعلان کر دیا تھا۔ چین ان جزائر کو اپنی ملکیت مانتا ہے۔
جاپانی قومی ادارہ برائے دفاعی علوم البتہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ان جزائر کی خودمختاری پر سفارتی حملے کی تیاری بیجنگ نے پہلے سے ہی کر رکھی تھی۔ رپورٹ کے مطابق ’’ گورنر ایشی ہارا کے بیان سے قبل ہی کشیدگی میں اضافے کے اشارے مل رہے تھے، بعد میں چین نے جو اقدامات اٹھائے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سینکاکوس جزائر پر اپنے قبضے کو یقینی بنانے کے لیے ابتدائی مرحلے سے ہی منصوبہ بندی کر چکا تھا۔‘‘
اس ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آئیچی کاتھارا، جن کی زیر نگرانی یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے، کہتے ہیں کہ جاپان کے جوابی اقدامات مناسب تھے۔ ’’جاپان کا موقف رہا ہے کہ طویل المدتی باہمی اسٹریٹیجک تعلقات دونوں اطراف کے مفاد میں ہے۔‘‘ شمالی کوریا سے لاحق خطرات کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس معاملے کے ساتھ پرسکون اور پرعزم انداز سے نمٹنا چاہیے۔
ڈاکٹر کاتھارا پرامید ہیں کہ جاپان اور شمالی کوریا کے سربراہان کے مابین مذاکرات کے ذریعے ان کئی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے، جو بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس ادارے کے ماہرین نے انٹیلیجنس، نگرانی اور فوجی آپریشنز میں مزید بہتری کے ساتھ ساتھ فضائی دفاع میں مزید جدت کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔
National Institute for Defense Studies کی تحقیق کے مطابق چین دفاعی شعبے میں روس کے مزید قریب آرہا ہے۔ اس ضمن میں چین کو Sukhoi-35 طیاروں کی فراہمی کے منصوبے کی مثال دی گئی۔ ڈاکٹر کاتھارا کے بقول اگرچہ چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شمالی کوریا مخالف قرارداد کی حمایت بھی کر رکھی ہے تاہم وہ خطے میں ایسی کشیدگی نہیں چاہے گا جس سے کمیونسٹ کوریا کی سلامتی خطرے میں پڑے۔
Julian Ryall, sks/ Richard Connor, ia