1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی میوزک کمپنی نے پاکستانی گلوکارکا گانا ہٹادیا

جاوید اختر، نئی دہلی
25 جون 2020

ہندو شدت پسند تنظیم مہاراشٹر نو نرمان سینا(ایم این ایس) کی جانب سے انتقامی کارروائی کے خو ف سے بھارت کی معروف میوز ک کمپنی ٹی سریز نے اپنے یو ٹیوب چینل سے پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا گانا ہٹا دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3eK9Y
Pakistan Wohi Khuda Hai Coke Studio
تصویر: Coke Studio

ٹی سریز نے ایم این ایس سے باضابطہ تحریری معافی مانگتے ہوئے آئندہ اس طرح کی ’غلطی‘ نہیں کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

پاکستانی فن کاروں کے خلاف بھارت میں ہندو شدت پسندوں کی منافرت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ حتی کہ پاکستانی فن کاروں کو اپنے طے شدہ پروگراموں کوبھی عین وقت پرمنسوخ کرنا پڑا ہے۔

میوز ک کمپنی ٹی سریز نے فلم ’مرجاواں‘ کا ایک گیت ’کنّا سونا‘ اپنے یو ٹیو ب چینل پر پچھلے دنوں اپ لوڈ کیا تھا۔ اسے پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے گایا ہے۔ لیکن ہندو شدت پسند تنظیم مہاراشٹر نو نرما سینا(ایم این ایس) کو ٹی سریزکی یہ پہل راس نہیں آئی اور وہ سخت ناراض ہوگئی۔  ایم این ایس کے کلچرل ونگ ’چتر پٹ سینا‘ کے صدر امیا کھوپکر نے میوزک کمپنی کو وارننگ دی کہ اگر اس نے اس گانے کو یو ٹیو ب سے نہیں ہٹایا تو اس کے خلاف اپنے انداز میں کارروائی کرے گی اور وہ ہر طرح کے نتائج بھگتے کے لیے تیار رہے۔


ٹی سریز کے مالکان نے ایم این ایس کی دھمکی کے آگے جھکتے ہوئے نہ صرف یہ کہ عاطف اسلم کے گائے ہوئے گانے کو یو ٹیوب سے ہٹادیا بلکہ اس ’غلطی‘ کے لیے تحریری طور پرمعافی بھی طلب کی۔

ٹی سریز نے ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکر ے کے نام تحریر کردہ ایک خط میں لکھا ہے ”عاطف اسلم کا گایا ہوا گانا یو ٹیوب چینل پر ہمارے ایک ملازم نے غلطی سے اپ لوڈ کردیا تھا۔ اسے ان سب باتوں کااندازہ نہیں تھا جس کی وجہ سے غلطی ہوئی۔ ہمیں اس غلطی پر انتہائی افسوس ہے اور ہم اس کے لیے معافی مانگتے ہیں۔ ہم آپ کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ یہ گانا ہمارے پلیٹ فارم پر ریلیز نہیں کیا جائے گا اور ہم اس کی تشہیر بھی نہیں کریں گے۔ ہم اس گانے کو ہٹا رہے ہیں اور آپ کو یہ یقین دہانی بھی کراتے ہیں کہ ہم کسی بھی پاکستانی گلوکار کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔“

مہاراشٹرا نونرمان سینا نے ٹی سریز کو مراٹھی زبان میں معافی نامہ لکھنے کا حکم دیا تھا

خیال رہے کہ گزشتہ برس کشمیر میں پلوامہ حملے، جس میں بھارتی نیم فوجی دستے (سی آر پی ایف) کے 40جوان مارے گئے تھے، کے بعد ایم این ایس نے میوزک کمپنیوں کو پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ کام نہیں کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی پاکستانی فن کاروں کو  2016میں اسی طرح کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اڑی میں بھارتی فوج کے کیمپ پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔بھارت نے اس حملے کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

اس وقت فلم ساز کرن جوہر کو اپنی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کو ریلیز ہونے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا کیوں کہ اس میں پاکستانی اداکار فواد خان نے اداکاری کی تھی۔  کرن جوہر کے معافی مانگنے اور آئندہ کسی پاکستانی فن کار کے ساتھ کام نہیں کرنے کے وعدے کے بعدہی فلم ریلیز ہوسکی تھی۔

بھارت میں پاکستانی فن کاروں پر پابندی عائد کرنے کے معاملے پر خاصا اختلاف پایا جاتا ہے۔اس موضوع پر لوگوں کی رائے منقسم ہے۔ ایک طبقہ فن اور فنکاروں کوسرحدوں کے حدود میں تقسیم کرنے کے خلاف ہے جب کہ دوسرا طبقہ قوم پرستی کو تما م چیزو ں سے بالا ترقرار دیتا ہے۔ اس درمیان ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو خاموش رہنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ ثقافتی منافرت شاید اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی ہے جب تک دونوں ممالک کے رہنما اپنے مفادات کوتاک پر رکھ کر سیاسی قوت ارادی اور وسیع القلبی کا مظاہر ہ نہ کریں۔ لیکن مستقبل قریب میں اس کی امید نظر نہیں آتی ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں