بھارت میں کم تنخواہوں کے خلاف احتجاج کے بعد اجرتوں میں اضافہ
14 اپریل 2026
حکومتی ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ایسا قدم اٹھانے والی اتر پردیش دوسری ریاست ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کی ریاستی حکومت نے بھی کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔
ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے متصل صنعتی علاقے نوئیڈا میں جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ الیکٹرانکس سمیت متعدد ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے صنعتی یونٹ موجود ہیں۔ وہاں مظاہرین نے پیر کو زیادہ تنخواہوں کے مطالبے پر گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور اس کارروائی کے دوران متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
گزشتہ ہفتے آٹو موبائل صنعت کے مرکز ریاست ہریانہ میں بھی اسی طرح کے احتجاج ہوئے تھے، جس کے بعد وہاں کی حکومت نے کم از کم اجرت میں 35 فیصد اضافہ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
تین سو سے زائد افراد گرفتار
یہ احتجاج ایسے وقت پر سامنے آیا جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے سے دنیا بھر میں اخراجات زندگی بڑھ گئے ہیں۔
گوتم بدھ نگر پولیس کے مطابق نوئیڈا کے احتجاج میں تقریباً 40 ہزار مزدور شریک تھے۔ مظاہروں کے سلسلے میں سات مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ہفتے اعلان کردہ اجرتوں میں اضافہ یکم اپریل سے نافذ العمل ہو گا، جس کے بعد نوئیڈا میں غیر ہنرمند مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 121 ڈالر کے برابر سے بڑھ کر 147 ڈالر کے برابر ہو جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ نیم ہنرمند اور ہنرمند مزدوروں کی تنخواہوں میں بھی اسی طرح اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ریاست کے دیگر حصوں میں بھی مختلف شرحوں سے اجرتیں بڑھائی گئی ہیں۔
بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش کی حکومت نے اس معاملے پر روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔
بے چینی برقرار
نوئیڈا میں ایک آٹو موبائل کمپنی میں کام کرنے والی مزدور شیتل دکشت نے بتایا کہ کارکنوں کو نئی کم از کم اجرت کے بارے میں معلوم ہو گیا ہے، تاہم انہوں نے اسے ''غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ''ہم بڑھائی گئی تنخواہوں سے مطمئن نہیں ہیں۔‘‘
منگل کو نوئیڈا کی کئی فیکٹریاں بند رہیں کیونکہ بعض مقامات پر احتجاج جاری رہا۔ مظاہرین سڑکوں پر مارچ کرتے اور نعرے لگاتے رہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں تعینات رہی۔ ایک موقع پر پولیس کی ایک گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔
نیوز ایجنسی روئٹرز کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا تھا کہ بدامنی کی روک تھام کے ذمے دار خصوصی پولیس اہلکار سڑک پر موجود درجنوں مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
دیگر تصاویر میں جلی ہوئی اور الٹا دی گئی گاڑیاں بھی دکھائی دیں، جو ایک دن پہلے ہونے والے تشدد اور آتش زنی کی شدت کو ظاہر کرتی تھیں۔
ادارت: مقبول ملک