1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بوسٹن حملے: تیمرلان کے لیے قبر کی تلاش

9 مئی 2013

اپریل میں دو چیچن نژاد بھائیوں نے امریکی شہر بوسٹن کی میراتھن کے دوران بم حملے میں تین افراد کو ہلاک اور 260 سے زیادہ کو زخمی کر دیا تھا۔ پولیس کے ساتھ فائرنگ میں مرنے والے تیمرلان کو ابھی تک دفن نہیں کیا جا سکا ہے۔

https://p.dw.com/p/18UqA
تصویر: picture-alliance/dpa

چھبیس سالہ تیمرلان زرنائیف کی موت کے اُنیس روز بعد اُس کی تدفین کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ وورچیسٹر کے پولیس چیف Gary Gemme نے کہا: ’’ہم وحشی نہیں ہیں۔ ہم مرنے والوں کو دفن کرتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ کسی کو بھی آگے آنا چاہیے اور قبرستان میں تدفین کے لیے جگہ کی پیشکش کرنی چاہیے۔

ابھی ایک روز پہلے اسی پولیس چیف نے یہ کہا تھا کہ تیمرلان کی میت کو ایک ریاستی جیل میں دفن کرنے سے متعلق پیر کو طے کیا جانے والا سمجھوتہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جیلوں کے نگران سرکاری محکمے ڈیپارٹمنٹ آف کریکشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جیل کے اندر تدفین کی سہولت صرف اُن قیدیوں کے لیے مخصوص ہے، جن کا حراست کے دوران انتقال ہوتا ہے۔

19 سالہ جوہر زرنائیف جیل کے ہسپتال میں زیر علاج ہے
19 سالہ جوہر زرنائیف جیل کے ہسپتال میں زیر علاج ہےتصویر: picture-alliance/dpa

پولیس کا کہنا ہے کہ جس مقام پر تیمرلان زرنائیف کی میت اِس وقت پڑی ہوئی ہے، وہاں سکیورٹی فراہم کرنے پر دَسیوں ہزار ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ پولیس چیف Gemme کے مطابق تیمرلان کی میت کو اُس کے آبائی وطن روس بھیجنا ’زیر غور نہیں‘ ہے۔

بوسٹن شہر کے میئر تھامس مینینو نے اپنے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے کہلوایا ہے، وہ نہیں چاہتے کہ بم حملے کے مشتبہ ملزم کو اِس شہر میں دفن کیا جائے۔ وورچیسٹر کے ’فیونرل ہوم‘ کے ڈائریکٹر پیٹر اسٹیفن کے مطابق امریکا اور کینیڈا سے اب تک قبروں کی جتنی بھی پیشکشیں آئی ہیں، وہ اس لیے قابل عمل نہیں ہیں کیونکہ متعلقہ شہروں اور قصبوں کے حکام نے بھی تیمرلان زرنائیف کی اپنے ہاں تدفین سے انکار کر دیا ہے۔

جہاں تیمرلان زرنائیف پولیس کے ساتھ فائرنگ میں ہلاک ہو گیا تھا، وہاں اُس کے چھوٹے بھائی جوہر زرنائیف کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُنیس سالہ جوہر زرنائیف آج کل جیل کے ہسپتال میں ہے اور اُسے ایسے الزامات کا سامنا ہے، جن میں اُسے موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

بوسٹن میں 15 اپریل کو میراتھن کے دوران دو پَے در پَے دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے
بوسٹن میں 15 اپریل کو میراتھن کے دوران دو پَے در پَے دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھےتصویر: Reuters

امریکا میں تدفین کے قوانین کی ایک ماہر اور ویک یونیورسٹی کی پروفیسر تانیا مارش کے مطابق تیمرلان زرنائیف کی تدفین کے خلاف مزاحمت ایک ایسے ملک میں ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جہاں صدر جان ایف کینیڈی کے قاتل لی ہاروے اوسوالڈ سے لے کر گزشتہ برس کنیٹیکٹ میں بیس طلبا اور چھ اساتذہ کو ہلاک کرنے والے ایڈم لینزا جیسے بدنامِ زمانہ قاتلوں کو بھی دفن کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لیا جاتا رہا ہے۔

امریکی حکام یہ جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا تیمرلان زرنائیف نے 2012ء میں روسی علاقے داغستان کے ایک دورے کے دوران وہاں عسکریت پسندوں سے تربیت حاصل کی تھی۔ دونوں چیچن نژاد بھائیوں کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات میں امریکی اور روسی حکام مل کر کام کر رہے ہیں۔

تیمرلان زرنائیف کی بیوہ کیتھرین رسل کو بھی تفتیشی حکام کے سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چوبیس سالہ کیتھرین رسل نے تیمرلان کے ساتھ 2010ء میں شادی کی تھی اور اُن کی ایک دو سالہ بیٹی بھی ہے۔

aa/mm(ap)