بشار الاسد دو صدارتی امیدواروں کا سامنا کریں گے
5 مئی 2014
اعلیٰ آئینی عدالت کے ترجمان ماجد خضرہ نے اتوار کو حتمی نامزدگیوں کا اعلان کیا۔ تاہم اس حوالے سے انہوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔ جون کے انتخابات کے نتیجے میں بشار الاسد تیسری سات سالہ مدت کے لیے صدر بننا چاہتے ہیں۔
ان انتخابات میں انہیں دمشق سے تعلق رکھنے والے 54 سالہ رکنِ پارلیمنٹ عبداللہ النوری اور شمالی شہر حلب سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ رکن پارلیمنٹ ماہر عبدالحفیظ حجار کا سامنا ہو گا۔ قومی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ ان انتخابات میں اسد ہی فاتح رہیں گے۔
شام میں گزشتہ تین برس سے زائد عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے اور صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہی متوقع ہے۔ اس تناظر میں اپوزیشن اور مغربی ممالک آئندہ انتخابی عمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کر چکے ہیں۔
بشار الاسد نے اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد 2000ء میں صدارتی منصب سنبھالا تھا۔ قبل ازیں صدر کا انتخاب ریفرنڈم کے نتیجے میں ہوتا رہا ہے جس میں ووٹروں کو ایک ہی امیدوار کے لیے ہاں یا نہیں کا فیصلہ دینا ہوتا تھا۔
رواں برس مارچ میں شام کی پارلیمنٹ نے انتخابی قانون کی منظوری دی تھی جس کے نتیجے میں دیگر امیدواروں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کا راستہ کھلا تھا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس نئے قانون میں اس بات کو مؤثر طور پر یقینی بنایا گیا ہے کہ کوئی اپوزیشن امیدوار انتخاب نہ لڑ سکے۔ قانون کے تحت امیدوار گزشتہ دس برس سے شام میں مقیم ہو اور کسی اور ملک کی شہریت نہ رکھتا ہو۔
گو کہ اسد کے لیے عوامی حمایت کے حوالے سے قابلِ بھروسہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ شامی عوام کی ایک بڑی تعداد حریف جماعتوں کے بارے میں بھی بداعتمادی کا شکار ہے۔
شام میں جاری مسلح بغاوت میں وہاں کے سنی مسلمانوں کی اکثریت پیش پیش ہے۔ اس کے برعکس مسیحی اور مسلم اقلیتیں بشار الاسد کی حمایت کرتی ہیں۔ ان میں اسد کی اپنی علوی کمیونٹی بھی شامل ہے۔ اقلیتی گروپوں کو خدشہ ہے کہ سنی شدت پسند اقتدار میں آئے تو ان کے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔
شام میں تین سالہ لڑائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ بشار الاسد کے خلاف کھڑے مسلمان شدت پسندوں میں مقامی باغیوں کے ساتھ ساتھ غیرملکی بھی جا ملے ہیں۔ انہوں نے دہشت گرد گروہ القاعدہ کے نقشِ قدم پر چلنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے شام میں اسد مخالف بغاوت کے لیے مغربی ملکوں کی حمایت کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔