1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

برطانیہ: مردانہ کمزوری کے نام پر ہارمونز تھیراپی کا کاروبار

شکور رحیم اے ایف پی
1 فروری 2026

سوشل میڈیا پر پروموشنل اشتہارات ٹیسٹوسٹیرون تھیراپی کے غیر ضروری مہنگے علاج کی جانب مردوں کو کیسے راغب کر رہے ہیں؟ ماہرین کے مطابق غیر ضروری تھیراپی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

https://p.dw.com/p/57lLu
ماہرین کے مطابق  اشتہارات میں بتایا جاتا ہے کہ 40 سال سے کم عمر کے چار میں سے ایک مرد میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہے، جو بالکل درست نہیں
ماہرین کے مطابق اشتہارات میں بتایا جاتا ہے کہ 40 سال سے کم عمر کے چار میں سے ایک مرد میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہے، جو بالکل درست نہیںتصویر: NDR

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور آسٹریلیا میں مردوں کے جسمانی ڈھانچے اور موڈ بہتر بنانے کے لیے پرائیویٹ کلینکس کی جانب سے ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھیراپی (ٹی آر ٹی) کے لیے پروموشنل اشتہارات دیے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان اشتہارت کے ذریعے مردوں کو اس غیر ضروری مہنگے علاج کی جانب راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مردوں کے ہارمونز کی سطح ان کے روزہ مرہ زندگی کے طرز عمل کی وجہ سے عارضی طور پر کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، مگر بہت سے مردوں کو کسی حقیقی طبی ضرورت کے بغیر ہی ٹی آر ٹی تجویز کی جا رہی ہے۔ یہ رجحان اب برطانیہ میں ریاستی  نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر بھی اثر ڈال رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ مفت علاج کے لیے وہاں رجوع کر رہے ہیں۔

برطانیہ میں کچھ کلینکس ہارمون کی نارمل سطح والے مردوں کو بھی ٹی آر ٹی مہیا کر رہے ہیں
برطانیہ میں کچھ کلینکس ہارمون کی نارمل سطح والے مردوں کو بھی ٹی آر ٹی مہیا کر رہے ہیںتصویر: Reuters/S. Swaty

ہارمونل تھیراپی کے ماہر چنا جےسینا نے کہا کہ وہ مردوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد کو این ایچ ایس کے ماہرین سے رجوع کرتے دیکھ کر پریشان ہیں، کیونکہ اس سے دیگر مریضوں کا علاج متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ٹی آر ٹی واقعی صرف ان مردوں کے لیے ضروری ہے، جو ہائپوگونادیزم کا شکار ہوں، یا وہ مرد جو بلوغت تک نہیں پہنچے یا رہے یا ٹیسٹیکل کینسر کا شکار ہوئے ہوں۔

لیکن کچھ کلینکس ہارمون کی نارمل سطح والے مردوں کو بھی ٹی آر ٹی مہیا کر رہے ہیں، جس سے بانجھ پن، خون گاڑھا ہونا اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ جےسینا کے مطابق برطانیہ میں ''سینکڑوں ہزاروں‘‘ مردوں نے پرائیویٹ طور پر مہنگی ٹی آر ٹی تھیراپیز کروائیں اور زیادہ تر کو واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔

آسٹریلیا میں مقیم اسی شعبے کی ایک ماہر ایسوبیلے اسمتھ نے انسٹاگرام ویڈیوز کے ذریعے ٹی آر ٹی سے متعلق دعووں کی تردید کی اور کہا کہ اشتہارات میں بتایا جاتا ہے کہ 40 سال سے کم عمر کے چار میں سے ایک مرد میں ٹیسٹوسٹیرون کی کمی ہے، جو بالکل درست نہیں۔ اسمتھ کے مطابق یہ ''درحقیقت پرفارمنس بڑھانے والی دوا‘‘ ہے۔

یہ رجحان''مینوسفیئر‘‘ کلچر سے بھی جڑا ہوا ہے، جو طویل زندگی میں پٹھوں کی نمائش اور عمر میں پر توجہ دیتا ہے۔ مشہور مگر متنازعہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اینڈریو ٹیٹ نے اپنے ''ہائی ٹی‘‘ کے بارے میں دعویٰ  کرتے ہوئے ''کم ٹی‘‘ والے مردوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک انجیکشن
مردوں میں ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک انجیکشن تصویر: dpa/PA

پرائیویٹ کلینکس سوشل میڈیا پر خون کے ٹیسٹ کروانے کی ترغیب دے کر اشتہارات کے قوانین کو چکمہ دیتے ہیں، جیسے کہ ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ٹی آر ٹی سے متعلق ایک اشتہار کہتا ہے، ''اگر آپ تھکے ہوئے، فوکس نہیں کر پاتے یا ورزش کے بعد زیادہ دیر تک ریکوری نہیں کر پا رہے تو یہ وقت ہے کہ اپنے ٹیسٹوسٹیرون کی سطح چیک کروائیں۔‘‘

ہر مریض کلینک کے لیے اوسطاً  تقریباﹰ دو ہزار ڈالر تک کا سالانہ منافع لاتا ہے۔ اس سلسلے میں انسٹاگرام اور میٹا پر پروموشنز کے ذریعے نوجوان مردوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

ادارت: عدنان اسحاق