براہیمی کا دورہء شام، آج اسد سے ملاقات
30 اکتوبر 2013
براہیمی آج کل مشرقِ وُسطیٰ کے مختلف ملکوں کے دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ جنیوا میں مجوزہ شام امن کانفرنس کے لیے تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوششں کر رہے ہیں۔ اُن کا دورہء شام اس لحاظ سے زیادہ نازک ہے کیونکہ ایک طرف ایسی حکومت ہے، جو بہت ہی زیادہ محتاط ہے اور دوسری جانب اپوزیشن گروپ ہیں، جن میں اس کانفرنس میں شرکت کے معاملے پر اختلافات بڑھتے نظر آتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے ایک سفارت کار کا کہنا تھا کہ براہیمی آج صبح ہی اسد کے ساتھ ملاقات کرنے والے تھے۔ بعد ازاں صحافیوں نے کہا کہ براہیمی کو آج شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد کے ہمراہ اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے ایک قافلے میں دمشق میں اپنے ہوٹل سے نکلتے دیکھا گیا تھا۔
دسمبر 2012ء کے بعد سے اسد کے ساتھ براہیمی کی یہ پہلی ملاقات ہے۔ اس موقع پر دمشق حکومت نے اسد کے مستعفی ہونے سے متعلق مغربی ممالک اور عرب دنیا کے مطالبات کو رَد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف شامی عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے براہیمی سے ملاقات کے دوران وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا:’’شام جنیوا ٹو کانفرنس میں اپنے اس خصوصی استحقاق کے شرکت کرے گا کہ صرف شامی عوام ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے، اپنے رہنماؤں کو چننے اور ہر طرح کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔‘‘
شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کے ملک کے مستقبل کے حوالے سے دیے جانے والے تمام بیانات، بالخصوص ’لندن سے آنے والا پیغام‘ شامی عوام کے حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں اور اُس مکالمت کے لیے پیشگی شرائط کی حیثیت رکھتے ہیں، جو ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ ولید المعلم کا اشارہ بائیس اکتوبر کو منعقدہ اُس کانفرنس کی جانب تھا، جس میں اسد کے مخالفین اور ان مخالفین کے اُن حامی ممالک نے، جن میں امریکا بھی شامل ہے، یہ اعلان کیا تھا کہ شام کے مستقبل میں اسد کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔
شام کی سرکانری نیوز ایجنسی SANA کے مطابق براہیمی نے زور دے کر کہا کہ جنیوا مذاکرات درحقیقت ’شامی فریقوں کے مابین‘ ہوں گے ا ور بلاشبہ شامی ہی اپنے مستقبل سے متعلق فیصلے کریں گے۔ مزید یہ کہ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ تشدد اور دہشت گردی ختم ہونی چاہیے اور شام کی حاکمیت اعلیٰ کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اُدھر بڑا اپوزیشن گروپ نیشنل کولیشن یہ کہہ چکا ہے کہ جب تک اسد کی طرف سے استعفے کا اعلان نہیں کیا جاتا، وہ کسی طرح کے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔ کچھ باغی گروپ یہ انتباہ کر چکے ہیں کہ جو بھی جنیوا کانفرنس میں شرکت کرے گا، اُسے غدّار تصور کیا جائے گا۔
رواں مہینے کے اوائل میں اپنے ایک نشری انٹرویو میں بشار الاسد نے ان مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں یہ کہتے ہوئے شک و شبے کا اظہار کیا تھا کہ وہ کسی ایسے گروپ کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے، جس کا باغیوں یا پھر بیرونی طاقتوں سے کوئی تعلق ہو گا۔
آئندہ ماہ جنیوا میں جنیوا ٹو کانفرنس کے انعقاد کے مسلسل معدوم ہوتے ہوئے امکانات کے دوران اسد نے اپنے نائب وزیر اعظم قادری جمیل کو چھٹی لیے بغیر غیر حاضر رہنے اور اجازت حاصل کیے بغیر ملاقاتیں کرنے کے الزام میں اُن کے عہدے سے رخصت کر دیا ہے۔ قادری جمیل نے گزشتہ ہفتے کے روز جنیوا میں امریکی مندوب برائے شام رابرٹ فورڈ کے ساتھ جنیوا ٹو مذاکرات کے موضوع پر تبادلہء خیال کیا تھا۔