1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بارہ اکتوبر 1999ء ایک نظر میں

12 اکتوبر 2022

بارہ اکتوبر 1999ء پاکستان کی تاریخ کا وہ دن جب دوران پرواز ملک کے آرمی چیف کے حکم پر دو تہائی اکثریت رکھنے والے وزیر اعظم کو اقتدار سے بے دخل کرکے جیل کی کال کوٹھری میں ڈال دیا تھا۔ رفعت سعید کا بلاگ

https://p.dw.com/p/4I4hh
USA Raffat Saeed
'جنرل مشرف نے مجھ سے کہا کہ آپ کے وزیراعظم معافی مانگنے امریکہ جا رہے ہیں‘تصویر: Privat

بارہ اکتوبر پے در پے رونما ہونے والے واقعات کا تسلسل تھا، جو وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان پائے جانے والے اختلاف کو اس نہج پر لے آیا کہ نواز شریف نے سری لنکا کے دورے پر گئے آرمی چیف کی واپسی کا انتظار کیے بغیر ہی انہیں برطرف کر دیا۔

ستمبر 1999ء کی بات ہے، پاکستان نیوی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے لیے جنرل پرویز مشرف بطور مہمان خصوصی کراچی آئے تھے۔ تقریب کے اختتام پر ریفریشنمنٹ کے دوران موقع پا کر میں جنرل مشرف کے قریب گیا اور ان سے پوچھا کہ ملک میں کارگل جنگ کے بعد حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی محسوس ہو رہی ہے۔ جنرل مشرف فوری طور پر مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ بولے یہ تاثر بالکل غلط ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ کارگل پر آپ کے وزیر اعظم معافی مانگنے امریکہ جارہے ہیں۔ اس موقع پر میرے ہمراہ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے نمائندے اویس توحید بھی تھے، جنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے اگر جنرل مشرف کی بات ریکارڈ کرلی ہے تو یہ ایک بڑی خبر ہے۔ جنرل مشرف نے حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی کی تردید تو کر دی تھی لیکن ان کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ کارگل کے معاملے پر حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ آخری نہج پر پہنچ چکا ہے۔

نواز شریف نے 12 اکتوبر کو جنرل پرویز مشرف کو ملازمت سے برطرف کرکے اس وقت کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا۔ پرویز مشرف سری لنکا کےدورے پر تھے اور یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں نئے آرمی چیف کو بیج لگانے کے لیے تقریب کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ لیکن یک دم کایا پلٹ گئی، فوجی جوان وزیر اعظم ہاؤس کا آہنی درواز پھلانگ کے اندر داخل ہوئے اور تقریب میں شریک لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان کے حکم پر نواز شریف، جنرل ضیاء الدین بٹ اور دیگر حکومتی شخصیات کو گرفتار کر لیا۔

پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان اور دیگر اہم تنصیات پر فوج تعینات کر دی گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف کا طیارہ واپسی کے لیے کولمبو سے پرواز کر چکا تھا، جسے فوجی بغاوت سے پہلے نواب شاہ کی جانب موڑنے کا حکم دیا جا چکا تھا لیکن فوج کے کنٹرول سنبھالتے ہی طیارے کو واپس کراچی میں لینڈ کرنے کا حکم دیا گیا۔

اس وقت کے  کور کمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل مظفر عثمانی سے میرے اس وقت سے اچھے تعلقات تھے، جب وہ 1992ء میں بطور بریگیڈیئر کراچی میں جاری فوجی آپریشن کے نگران ہوا کرتے تھے۔ میں نے جنرل عثمانی کو ایئرپورٹ پر موجود پا کر صورت حال کی بابت دریافت کیا تو جنرل عثمانی نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''اللہ سب خیر کرے گا، یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے، حالات قابو میں ہیں‘‘

جنرل پرویز مشرف نے صبح پانچ بجے قوم سے مختصر خطاب میں حکومت کی برطرفی، نواز شریف کی گرفتاری اور فوج کے اقتدار سنبھانے کا اعلان کیا۔ چند روز بعد نواز شریف، ان کے بھائی شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، سینیٹر سیف الرحمان سمیت دیگر لوگوں پر طیارہ اغوا کا مقدمہ قائم کیا گیا۔

 ہماری معلومات کے مطابق میاں نواز شریف اور شہباز شریف کو پہلی مرتبہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کرنے کے لیے راولپنڈی سے سی ون تھرٹی طیارے میں کراچی لایا گیا۔ بتایا گیا کہ پورے راستے نواز اور شہباز کو ہتھکڑیاں پہنائی گئی تھیں۔

میاں نواز شریف کی بکتر بند عدالت کے احاطہ میں آئی اور وہ گاڑی سے باہر نکلے تو تیز دھوپ سےان کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں وہ ہلکے آسمانی رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ میں صبح آٹھ بجے سے اپنا مائیکرو فون اور ٹیپ ریکارڈر لے کر درخت کے نیچے کھڑا نواز شریف کا انتظار کر رہا تھا۔

نواز شریف کے بکتر بند گاڑی سے باہر قدم رکھتے ہی سی این این کے نمائندے جان ریڈرل نے بھی بات کرنا چاہی، میں نے اسی لمحے مائیکرو فون نکال کر میاں نواز شریف کے سامنے کر دیا، پوچھا میاں صاحب کیا حال ہیں چونکہ اس وقت مجھے اپنے سامنے دیکھ کر وہ کچھ چونک گئے۔

نواز شریف نے میرا ہاتھ پکڑا بولے میں منتخب وزیراعظم ہوں، میرے ساتھ مجرموں والا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاز میں سفر کے دوران میری آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں، ہتھکڑی لگا کر بٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک غیر آئینی حکمران منتخب وزیراعظم کو جھکانا چاہتا ہے، ''میں بے گناہ ہوں میں نے کوئی جہاز اغوا نہیں کیا بلکہ فوجی آمر نے میرے اقتدار پر شب خون مارا ہے۔‘‘ یہ مشکل سے تین سے چار منٹ کی گفتگو تھی۔ سیکورٹی اہلکار نواز شریف کو کمرہ عدالت میں لے گئے۔ اب سیکورٹی پر مامور سادہ کپڑوں والے اہلکار سرگرم ہوئے وہ نواز شریف سے ریکارڈ کی گئی گفتگو کا ٹیپ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ خطرہ بھانپ کر میں کمرہ عدالت میں داخل ہو گیا۔ کیسٹ نکال کر  اے ایف پی کے نمائندے اویس توحید کے حوالے کر دی اور ایک نئی کیسٹ ٹیپ میں لگا دی۔ عدالت کی برخاستگی پر سادہ کپڑے والوں نے مجھ سے کیسٹ چھین لی۔ میں نے دکھاوے کے طور پر ان کی منت سماجت کی، لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا کہ نواز شریف کی گفتگو والی اصل کیسٹ تو احاطہ عدالت سے اے ایف پی کے دفتر پہنچ چکی ہے۔

شام کو ڈوئچے ویلے کے لیے خبر بنائی۔ اگلے روز اخبارات میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ڈوئچے ویلے (وائس آف جرمنی) سے خصوصی گفتگو ریڈیو مانیٹرنگ کے ذریعے نمایاں طور پر شائع ہوئی۔

طیارہ سازش کیس میں فردجرم عائد ہونے کا موقع آیا تو معلوم ہوا کہ عدالت میں انہی صحافیوں کو آنے کی اجازت دی گئی، جنہیں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے خصوصی اجازت نامہ جاری کیا تھا۔

شریف فیملی کے افراد جس میں کلثوم نواز اور مریم نواز کمرہ عدالت میں موجود تھے۔جج رحمت حسین جعفری کمرہ عدالت میں تاخیر سے آئے مکمل خاموشی تھی۔ جج نے فردجرم پڑھ کر سنائی۔ نواز شریف اور ان کے تمام ساتھیوں نے صحت جرم سے انکار کیا ، تمام ملزم لائن سے کمرے میں کھڑے تھے۔

ایک عجیب منظر تھا۔ شہباز شریف اور سینیٹر سیف الرحمن آہستہ آہستہ زیر لب کچھ پڑھ رہے تھے۔ نواز شریف کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے۔ میں نے جیب سے کیمرا نکالا اور تمام ملزموں کی بھری عدالت میں تصویر کھینچ لی بلاشبہ تاریخی تصویر تھی۔ جج رحمت حسین نے کیمرے کی کلک پر ایک لمحے کے لیے چشمہ نیچے کرکے میری طرف دیکھا۔

عدالت میں تصویر کھینچنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ میرے ساتھ موجود سینیئر صحاٖفیوں ادریس بختیار، قیصر محمو، مظہر عباس اور دیگر لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہیں عدالت میں تصویر لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس خطرناک کام کی کیا ضرورت تھی؟ مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ بات درست تھی اس کی وجہ میری نہ تجربہ کاری تھی۔

کچھ عرٖصہ بعد نواز شریف کے مقدمے کی سماعت پی آئی ڈی سی کلفٹن میں بلاول ہاؤس کے قریب انسداد دہشت گردی عدالت کی کشادہ عمارت میں اس اہم مقدمے کی سماعت ہونے لگی، بالآخر فیصلے کا دن آگیا سکیورٹی کے انتظامات سخت تھے۔ عدالت کے کمرے میں زیادہ تر کرسیوں پر خفیہ اداروں کے اہلکار براجمان تھے۔ حسب عادت بڑی مشکل سے میں چھوٹا سامائیکرو فون اور ٹیپ ریکارڈر عدالت میں لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اگلے حصے میں کلثوم نواز، نصرت شہباز اور ان کی صاحبزادیاں بیٹھی تھیں۔ سب خواتین تسبیح پڑھ رہی تھیں، جج رحمت حسین جعفری نےنواز شریف کو عمر قید کی سزا سنائی شریف فیملی کی خواتین کی آنکھوں میں آنسو تھے۔  مریم میاں صاحب سے گلے لگ کر زاروقطار رو رہی تھیں۔ مریم نواز کہہ رہی تھیں یہ فیصلہ جج نے نہیں کسی اورنے تحریر کیا ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان میں سول اور فوجی تعلقات میں توازن آج بھی قائم نہیں ہو سکا۔ 

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو  کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔