1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتروس

ایک ہی حملے میں کم از کم 63 روسی فوجی اہلکار ہلاک

2 جنوری 2023

روسی وزارت دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی فورسز کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں اس کے کم از کم بھی تریسٹھ فوجی اہلکار مارے گئے ہیں۔ اسے روس کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/4LeRx
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ روس یوکرین میں ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق کرے
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ روس یوکرین میں ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق کرےتصویر: Yelena Afonina/TASS/dpa/picture alliance

روسی وزارت دفاع نے پیر کے روز اپنے تریسٹھ فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ روس کے یہ فوجی یوکرینی شہر 'ماکئی فیکا‘ کی ایک عمارت میں موجود تھے۔ اس یوکرینی شہر پر روسی فورسز قبضہ کر چکی ہیں۔

روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ''ایک عارضی تعیناتی کے مقام پر ایک ساتھ انتہائی دھماکا خیز چار میزائلوں کے حملے کے نتیجے میں تریسٹھ روسی فوجی مارے گئے ہیں‘‘۔

دوسری جانب یوکرینی فورسز نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کیے بغیر کہا ہے کہ ڈونیٹسک کے اس علاقے میں تقریباﹰ 400 روسی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

روسی وزارت دفاع کی جانب سے مزید کہا گیا ہے، ''مرنے والے فوجیوں کے لواحقین اور پیاروں کو تمام ضروری معلومات اور مدد فراہم کی جائے گی‘‘۔ روسی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب رونما ہوا ہے؟ دوسری جانب یوکرینی حکام نے کہا ہے کہ یہ کارروائی نئے سال کے آغاز پر کی گئی ہے۔

یوکرینی صدر کا سال نو کا پرجوش عوامی خطاب، ’فتح تک لڑیں گے‘

ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ روس یوکرین میں ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق کرے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو خفیہ رکھتا ہے یا اس بارے میں بہت ہی کم معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

سابق روسی علیحدگی پسند رہنما ایگور اسٹریلکوف کے مطابق انہیں یکم جنوری کی صبح تقریباً ایک بجے اس حملے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یوکرینی فورسز نے روس کے متحرک فوجیوں پر حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ''سینکڑوں اہلکار ہلاک یا زخمی‘‘ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب روس نے بھی تازہ ڈرون حملوں میں ایک بار پھر یوکرین کے اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں ہنگامی الارم بجتے رہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق ایک بڑی تعداد میں ایرانی ساختہ کامیکازے ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔

 یوکرینی صدر ولوودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ان حملوں کے ذمہ دار 'قابل رحم دہشت گرد‘ ہیں۔ تاہم زیلنسکی نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج ڈرونز اور راکٹوں کے ساتھ بھی کچھ فتح نہیں کر سکے گی کیوں کہ یوکرینی متحد ہیں۔

ا ا / ر ب (اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز)