ایٹمی توانائی کی عالمگیر صورتحال، خصوصی انٹرویو
11 مارچ 2013
ڈوئچے ویلے: شنائیڈر صاحب! آپ ہر سال پوری دنیا میں ایٹمی توانائی کی صورتحال کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کرتے ہیں۔ فوکوشیما کی ایٹمی تباہی کے بعد سے دنیا بھر میں کیا تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں؟
مائیکل شنائیڈر: حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ایٹمی توانائی کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں اس توانائی کے زوال کی رفتار تیز تر ہو گئی ہے۔
ڈوئچے ویلے: وہ کس طرح؟
مائیکل شنائیڈر: پوری دنیا میں فعال ایٹمی بجلی گھروں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ جس سال ایٹمی بجلی گھروں کی تعداد سب سے زیادہ تھی، وہ تھا 2002ء یعنی دَس سال سے بھی زائد عرصہ پہلے۔ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی میں ایٹمی توانائی کا تناسب بھی کم ہوتا جا رہا ہے: بیس سال پہلے 1993ء میں یہ شرح سب سے زیادہ یعنی سترہ فیصد تھی جبکہ آج کل یہ شرح صرف گیارہ فیصد کے لگ بھگ ہے۔
ڈوئچے ویلے: تو آپ کے خیال میں کمی کے اس رجحان کی وجہ کیا ہے؟
مائیکل شنائیڈر: اس کی وجہ بدلی ہوئی رائے عامہ اور اقتصادی حقائق ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ایٹمی توانائی مہنگی ہوتی جا رہی ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے کے دیگر ذرائع میں مقابلہ بازی کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت دکھائی دے رہی ہے۔
ڈوئچے ویلے: ایٹمی توانائی کیوں وقت کے ساتھ ساتھ مہنگی ہو گئی ہے؟
مائیکل شنائیڈر: ایک طرف تو ایٹمی تنصیبات زیادہ سے زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہیں، اُن کی سلامتی بھی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے اور اُنہیں حملوں اور حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ رائے عامہ کے دباؤ کی وجہ سے بھی حفاظتی انتظامات زیادہ سخت کرنا پڑ رہے ہیں۔ اس وقت کئی ممالک میں جس طرح سے ایٹمی بجلی گھر چلائے جا رہے ہیں، آج کل کے حالات میں سرے سے اُن کی تعمیر کی بھی اجازت نہ دی جاتی۔
ڈوئچے ویلے: تمام اخراجات شامل کر لیے جائیں تو ایٹمی بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی بجلی کی فی کلو واٹ آور قیمت کیا ہو گی؟
مائیکل شنائیڈر: اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انتہائی تابکار فضلے کو حتمی طور پر ذخیرہ کرنے کی کوئی قطعی قیمت مقرر نہیں کی گئی ہے۔ دنیا بھر میں کوئی ایک بھی ایسا فائنل ڈپو موجود ہی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایٹمی توانائی سے استفادے کے پچاس سال بعد بھی ابھی مجموعی اخراجات کا اندازہ نہیں ہے۔
پھر ایک سوال یہ بھی ہے کہ کسی حادثے کی صورت میں کسی ایٹمی بجلی گھر کی کتنی مالیت کی انشورنس کروائی گئی ہے۔ فوکوشیما ایٹمی تباہی سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 130 اور 650 ارب ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے۔ اتنی بڑی رقوم کی انشورنس کروائی جائے تو آج کل ایک کلو واٹ آور کی قیمت غالباً ایک یورو پڑے گی۔
ڈوئچے ویلے: آپ کی مرتب کردہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ مالیاتی منڈیاں ایٹمی توانائی سے استفادے کی حامی کمپنیوں کو کم درجے پر رکھتی ہیں۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟
مائیکل شنائیڈر: اخراجات کا پہلے سے اندازہ لگا لینا سب سے بڑی مشکل ہے۔ تاہم کئی ارب یورو مالیت کا قرضہ لینے کے لیے آپ کو پہلے سے قطعی طور پر بتانا پڑتا ہے کہ آپ کو کب کب کتنے سرمایے کی ضرورت پڑے گی۔ تاہم کوئی بھی شخص یہ نہیں بتا سکتا کہ نئے ایٹمی بجلی گھر بالآخر کتنے میں پڑیں گے۔ مثلاً فن لینڈ اور فرانس میں زیر تعمیر ایٹمی بجلی گھروں کے تعمیراتی اخراجات ابتدائی تخمینوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں مالیاتی منڈیوں کے لیے بہت زیادہ خطرات ہوتے ہیں، جو وہ مُول نہیں لینا چاہتیں۔
ڈوئچے ویلے: لیکن پھر بھی ایسی بہت سی حکومتیں ہیں، جو ابھی اور بھی زیادہ ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کی خواہاں ہیں، مثلاً حکومتِ برطانیہ۔ اگر اقتصادی طور پر اس میں نقصانات ہیں تو حکومتیں اپنے اس طرح کے منصوبوں پر ڈٹی کیوں ہوئی ہیں؟
مائیکل شنائیڈر: اس میں بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ ایک مثلاً یہ ہے کہ کئی برسوں سے کوئی اور پالیسی ہی اختیار نہیں کی گئی ہوتی، حکومتوں کے پاس اور کوئی متبادل ہی نہیں ہوتا۔ جرمنی کی پوزیشن برطانیہ کے مقابلے میں بہت بہتر ہے کیونکہ یہاں دو عشرے پہلے سے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دیے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
ڈوئچے ویلے: شنائیڈر صاحب! آپ ایک طویل عرصے سے فرانس میں مقیم ہیں، جو کہ یورپی یونین میں ایٹمی توانائی سے استفادے کے حوالے سے سب سے بڑا ملک ہے۔ وہاں ایک عرصے سے ایک ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر جاری ہے۔ کیا وہاں ایسی مزید تعمیرات کا بھی پروگرام ہے؟
مائیکل شنائیڈر: فلامن وِیل کے نئے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر صنعتی پالیسیوں کے حوالے سے ایک بڑی تباہی ہے۔ وہاں تعمیری اخراجات کا تازہ ترین تخمینہ 8.5 ارب ڈالر ہے، جو کہ ابتدائی اندازوں سے چار گنا زیادہ ہے۔ مستقبل قریب میں نئی تعمیرات کا کوئی پروگرام نہیں ہے بلکہ اُلٹا صدر فرانسوا اولاند نے ایٹمی توانائی کے تناسب کو تین چوتھائی کی موجودہ شرح سے کم کر کے سن 2025ء تک پچاس فیصد تک لانے کا اعلان کیا ہے۔
ڈوئچے ویلے: ماضی میں چین اور بھارت بہت بڑے بڑے توسیعی منصوبوں کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ کیا ابھی بھی ویسا ہی ہے؟
مائیکل شنائیڈر: چین وہ واحد ملک ہے، جو اتنے بڑے پیمانے پر اپنے ایٹمی بجلی گھروں کے شعبے کو توسیع دے رہا ہے۔ وہاں آج کل 29 ری ایکٹرز زیر تعمیر ہیں۔ دوسری طرف چین متبادل توانائیوں کے شعبے میں بھی بھاری رقوم لگا رہا ہے۔ فوکوشیما سے بھی پہلے چین متبادل توانائیوں میں ایٹمی توانائی کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ سرمایہ کاری کر رہا تھا۔ ایک اندازہ ہے کہ غالباً 2012ء ہی میں چین میں ایٹمی توانائی کے مقابلے میں ہوا کی توانائی سے زیادہ بجلی پیدا کی گئی ہے۔
G.Rueter/aa/aba