1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

امریکا نے شام کی اپوزیشن کے دفاتر کو سفارتی درجہ دے دیا

ندیم گِل6 مئی 2014

امریکا نے شام کے مرکزی اپوزیشن اتحاد سیریئن نیشنل کولیشن کے دفاتر کو غیر ملکی سفارتی مشن کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ واشنگٹن حکام نے شام کے باغیوں کے لیے غیرمہلک امداد میں اضافے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1BuH5
تصویر: picture-alliance/dpa

واشنگٹن انتظامیہ کا یہ اعلان شام کی اپوزیشن کے ایک وفد کے دورہ امریکا کے آغاز پر سامنے آیا ہے۔ اس وفد کی قیادت کولیشن کے صدر احمد جربا کر رہے ہیں۔ وہ جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کریں گے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہیرف نے کہا ہے کہ شام کی اپوزیشن کے اتحاد کے نمائندہ دفاتر کو امریکی قانون کے تحت اب ’غیرملکی مشن‘ خیال کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اس اتحاد اور واشنگٹن انتظامیہ کے درمیان تعلقات کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے یہ ایک نیا قدم ہے۔ ابھی تک شام کی اس اپوزیشن کے امریکی شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں رابطہ دفاتر تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے میری ہیرف کے حوالے سے بتایا کہ یہ تبدیلی بڑی حد تک علامتی ہے اور اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ امریکا نے اپوزیشن کو اب شام کی حکومت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

Ahmad Jarba bei Sergej Lawrow 04.02.2014 in Moskau
احمد جرباتصویر: Reuters

ہیرف نے یہ بھی کہا کہ اوباما انتظامیہ شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کے لیے غیر مہلک امداد میں 27 ملین ڈالر کے اضافے کے لیے امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

احمد جربا نے کہا ہے کہ امریکا میں ان کے دفاتر کی نئی حیثیت بشار الاسد کی قانونی حیثیت کے لیے ایک سفارتی دھچکا ہے۔ شام میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں جن کے ذریعے بشار الاسد مسلسل تیسری سات سالہ مدت کے لیے صدر بننا چاہتے ہیں۔

شام میں گزشتہ تین برس سے زائد عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے اور صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہی متوقع ہے۔ اس تناظر میں اپوزیشن اور امریکا سمیت مغربی ممالک آئندہ انتخابی عمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کر چکے ہیں۔

قبل ازیں صدر کا انتخاب ریفرنڈم کے نتیجے میں ہوتا رہا ہے جس میں ووٹروں کو ایک ہی امیدوار کے لیے ہاں یا نہیں کا فیصلہ دینا ہوتا تھا۔

رواں برس مارچ میں شام کی پارلیمنٹ نے انتخابی قانون کی منظوری دی تھی جس کے نتیجے میں دیگر امیدواروں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کا راستہ کھلا تھا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس نئے قانون میں اس بات کو مؤثر طور پر یقینی بنایا گیا ہے کہ کوئی اپوزیشن امیدوار انتخاب نہ لڑ سکے۔ قانون کے تحت امیدوار گزشتہ دس برس سے شام میں مقیم ہو اور کسی اور ملک کی شہریت نہ رکھتا ہو۔