امریکا نے شام کی اپوزیشن کے دفاتر کو سفارتی درجہ دے دیا
6 مئی 2014
واشنگٹن انتظامیہ کا یہ اعلان شام کی اپوزیشن کے ایک وفد کے دورہ امریکا کے آغاز پر سامنے آیا ہے۔ اس وفد کی قیادت کولیشن کے صدر احمد جربا کر رہے ہیں۔ وہ جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کریں گے۔
محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہیرف نے کہا ہے کہ شام کی اپوزیشن کے اتحاد کے نمائندہ دفاتر کو امریکی قانون کے تحت اب ’غیرملکی مشن‘ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اس اتحاد اور واشنگٹن انتظامیہ کے درمیان تعلقات کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے یہ ایک نیا قدم ہے۔ ابھی تک شام کی اس اپوزیشن کے امریکی شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں رابطہ دفاتر تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے میری ہیرف کے حوالے سے بتایا کہ یہ تبدیلی بڑی حد تک علامتی ہے اور اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ امریکا نے اپوزیشن کو اب شام کی حکومت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
ہیرف نے یہ بھی کہا کہ اوباما انتظامیہ شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کے لیے غیر مہلک امداد میں 27 ملین ڈالر کے اضافے کے لیے امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
احمد جربا نے کہا ہے کہ امریکا میں ان کے دفاتر کی نئی حیثیت بشار الاسد کی قانونی حیثیت کے لیے ایک سفارتی دھچکا ہے۔ شام میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں جن کے ذریعے بشار الاسد مسلسل تیسری سات سالہ مدت کے لیے صدر بننا چاہتے ہیں۔
شام میں گزشتہ تین برس سے زائد عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے اور صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہی متوقع ہے۔ اس تناظر میں اپوزیشن اور امریکا سمیت مغربی ممالک آئندہ انتخابی عمل کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کر چکے ہیں۔
قبل ازیں صدر کا انتخاب ریفرنڈم کے نتیجے میں ہوتا رہا ہے جس میں ووٹروں کو ایک ہی امیدوار کے لیے ہاں یا نہیں کا فیصلہ دینا ہوتا تھا۔
رواں برس مارچ میں شام کی پارلیمنٹ نے انتخابی قانون کی منظوری دی تھی جس کے نتیجے میں دیگر امیدواروں کے لیے انتخابات میں حصہ لینے کا راستہ کھلا تھا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس نئے قانون میں اس بات کو مؤثر طور پر یقینی بنایا گیا ہے کہ کوئی اپوزیشن امیدوار انتخاب نہ لڑ سکے۔ قانون کے تحت امیدوار گزشتہ دس برس سے شام میں مقیم ہو اور کسی اور ملک کی شہریت نہ رکھتا ہو۔