امريکہ: شام کے ليے ايک نئی حکمت عملی کی تلاش
15 اگست 2012
امريکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوريا نولينڈ نے ايک پريس کانفرنس ميں صحافيوں کو بتايا کہ امريکی وزارت خزانہ نے شام کے سابق وزير اعظم رياض حجاب پر پابندياں اٹھا لينے کا فيصلہ کيا ہے۔ اس پر صحافيوں ميں بد مزگی پيدا ہو گئی کيونکہ اوباما نے بار بار يہ مطالبہ کيا تھا کہ اسد حکومت کا آلہء کار بننے والوں کا احتساب ہونا چاہيے اور انہيں بيرون ملک جمع رقوم تک رسائی کا موقع بھی نہيں ملنا چاہيے۔ شامی وزير اعظم رياض حجاب اردن فرار ہونے سے پہلے اسد حکومت کے آلہء کار تھے۔ اس ليے واشنگٹن کی اس پريس کانفرنس ميں شريک صحافيوں کو تعجب تھا کہ عوام کا خون بہانے والی اسد حکومت کے اس سابق معتمد کو نہ صرف یہ کہ کوئی سزا نہيں مل رہی ہے بلکہ وہ اپنے ڈالروں کے اکاؤنٹ تک بھی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
وزارت خارجہ کی ترجمان نو لينڈ نے کہا کہ شامی عوام اس کے باوجود بھی بعد ميں رياض حجاب کا احتساب کر سکتے ہيں اور امريکہ کو اسد حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزيشن سے جا ملنے والے ہر فرد پر خوشی ہے۔ ليکن ايک صحافی نے کہا کہ اگر اچانک بشار الاسد نے بھی مستعفی ہونے کا فيصلہ کر ليا تو کيا ان پر عائد پابندياں بھی اٹھا لی جائيں گی۔ نولينڈ نے جواب ميں کہا کہ وہ مفروضوں ميں دلچسپی نہیں رکھتيں۔
انہوں نے کہا کہ اوباما حکومت اسد پر دباؤ بڑھانے کے ليے کسی نئی حکمت عملی کی تلاش ميں ہے اور وزير خارجہ ہليری کلنٹن نے برطانيہ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ سے اس بارے ميں بات چيت کی ہے۔
اگرچہ جرمنی، اٹلی اور فرانس نے اب شام سے تيل خريدنا بند کر ديا ہے ليکن امريکہ پريشانی سے يہ ديکھ رہا ہے کہ اسد حکومت روس کو تيل فروخت کر کے کافی پيسہ حاصل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے سے اسد کو ايرانی فوجی تربيت کاروں کی طرف سے بھی زيادہ مدد مل رہی ہے۔ امريکی وزير دفاع ليون پنيٹا نے کہا: ’’ايران کئی اعتبار سے شام ميں مسلسل زيادہ مداخلت کر رہا ہے۔ اس بات کی علامات مل رہی ہيں کہ ايران کے فوجی تربيت کار اسد کی حامی ایک مليشيا تيار کر رہے ہيں۔‘‘
امريکا کو يہ فکر بھی ہے کہ اسد کے کيميائی ہتٰھيار انتہا پسندوں کے ہاتھوں ميں پہنچ سکتے ہيں۔ ليکن پنيٹا نے کہا کہ امريکہ فی الحال نو فلائی زون قائم کرنے کے ليے اپنے بمبار طيارے شام بھيجنے کو تيار نہيں ہے۔
R. Sina,sas/J.Andreas,as