1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان کو 2024ء تک مالی امداد کی ضرورت رہے گی، بون کانفرنس

6 دسمبر 2011

افغانستان کے موضوع پرمنعقد کی گئی بون کانفرنس میں شریک ملکوں کا کہنا ہے کہ 2014ء سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں تبدیلی کا عمل شروع ہو گا، جو دس سال جاری رہے گا۔

https://p.dw.com/p/13NH7
تصویر: dapd

عالمی برادری 2024ء تک افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ یہ وعدہ ہے افغان کانفرنس میں شریک دنیا کے 85 سے زائد ممالک کے نمائندوں کا۔

افغان حکام کو خدشہ تھا کہ 2014ء میں نیٹو دستوں کے انخلاء کے بعد عالمی برادری کی توجہ ان پر سے ہٹ جائے گی۔ تاہم اب بون کانفرنس میں دی جانے والی ضمانتوں کے بعد انہیں یہ علم ہو گیا ہے کہ انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایک روزہ کانفرنس کے اختتام پر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا: ’’یہ افغانستان کی تاریخ کا سنہرا دن تھا۔‘‘

بون کانفرنس نے افغانستان اور مغربی ممالک کے باہمی تعلقات کی مضبوطی کو بھی واضح کیا ہے۔ صدر کرزئی نے تمام امیر صنعتی ممالک سے امداد ایپل کی: ’’ہمیں2024ء تک مالی تعاون درکار ہو گا۔‘‘

یہ ممالک ابھی تک اربوں ڈالر افغانستان کو بطور امداد دے چکے ہیں۔ جواب میں عالمی برادری نے کہا ہے کہ افغان حکام کو ملک میں جمہوری اقدار کو فروغ دینا ہو گا، انسداد منشیات کے اقدامات کو جاری رکھنا ہو گا اور سب سے اہم بات یہ کہ افغانستان کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہو گی۔

کابل حکام نے عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام شعبوں میں بہتری لانے کے لیے سنجیدگی سے کوششیں جاری رہیں گی۔ افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے کہا کہ یہ وعدہ اپنے ساتھیوں کو صرف خوش کرنے کے لیے نہیں کیا جا رہا بلکہ یہ افغان عوام کے مفاد میں ہے اور کابل حکومت اس تناظر میں اپنے ہی عوام کی قرض دار ہے۔

امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا: ’’ہم ماضی کی غلطی کو دہرا نہیں سکتے اور فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز نہیں بننے دیا جائے گا۔‘‘

اس حوالے سے یہ بات خاصی اہم ہے کہ مالیاتی بحران کے دور میں امیر صنعتی ممالک کی اقتصادی صورتحال بھی بہت زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہے تو افغانستان کو مالی امداد کس طرح فراہم کی جائے گی۔ ساتھ ہی ایک لاکھ سے زائد فوجی اہلکار افغانستان میں امن اور استحکام لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اس پر بھی بہت زیادہ اخراجات آ رہے ہیں۔ 2002ء سے جرمن فوج پر اٹھنے والے اخراجات پانچ ارب یورو سے زیادہ بنتے ہیں۔

Afghanistan Konferenz 2011 Bonn
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹنتصویر: dapd

2024ء تک کون سا ملک کتنی رقم فراہم کرے گا، اس بات کا فیصلہ اگلے برس ٹوکیو میں ہونے والی ڈونر کانفرنس میں ہو گا۔ ایک دلچسپ امر بون کانفرنس میں یہ سامنے آیا کہ کسی بھی ملک نے افغانستان کے حوالے سے ان مشکلات پر بات نہیں کی، جو اگلے سالوں کے دوران اس ملک کو گھیر سکتی ہیں۔ نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پر امن علاقوں میں بھی لڑائی شروع ہو سکتی ہے۔

بون کانفرنس میں وزرائے خارجہ کے بیانات سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ 2014ء میں انخلاء کا عمل کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ اس امر پر بھی بات ہوئی کہ اگر پاکستان افغانستان میں امن عمل سے دور رہتا ہے تو یہ کام آسان نہیں ہو گا۔ تاہم اس حوالے سے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بائیکاٹ سے بون کانفرنس پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

دوسری جانب افغانستان سے تعلق رکھنے والی شہری حقوق کی تنظیمیں بون کانفرنس کے نتائج سے مطمئن نہیں دکھائی دیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں امید تھی کہ اس حوالے سے واضح فیصلے کیے جائیں گے مثال کے طور پر انسانی حقوق کے تناظر میں تاہم بون کانفرنس میں اس بارے میں کوئی آواز سنائی نہیں دی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق / نینا ویرک ہوئزر

ادارت: ندیم گِل

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں