1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افریقی باشندوں کو وہیں چھوڑا تو یوکرین سے یکجہتی ناقص، تبصرہ

3 مارچ 2022

دنیا اس وقت یوکرین سے فرار ہوتے انسانوں سے اظہار یکجہتی میں مصروف ہے، مگر وہاں افریقی باشندوں کے ساتھ امتیازی سلوک نے عالمی برادری کو اتنا مجبور کر دیا کہ ’یوکرین میں افریقی‘ ایک ہیش ٹیگ کے ساتھ ساتھ ایک چیخ بھی بن گیا۔

https://p.dw.com/p/47xmK
یوکرین میں زیر تعلیم بہت سے افریقی طلبا بھی جنگ کے باعث فرار ہو کر ہمسایہ ممالک کی طرف جانے پر مجبور ہو گئےتصویر: ROBERT GHEMENT/EPA-EFE

اظہار یکجہتی کو کسی انسان کی جلد کا رنگ نہیں دیکھنا چاہیے۔ یہ عمل تو تمام متاثرہ انسانوں سے ہمدردی اور ان کی عملی مدد کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس بارے میں ڈی ڈبلیو کی تبصرہ نگار وفا البدری لکھتی ہیں:

یوکرین پر روس کی چونکا دینے والی فوجی چڑھائی نے کئی ملین انسانوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔ ایک ہفتے کے اندر اندر ایک ملین سے زائد یوکرینی باشندے ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین اور لاکھوں اندرون ملک ہی بے گھر ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر عورتوں اور بچوں نے دیگر ممالک میں پناہ ڈھونڈی تو یوکرینی مرد اس لیے اپنے وطن ہی میں موجود رہے کہ روسی فوجی یلغار کا مقابلہ کر سکیں۔ اس عمل نے لاکھوں خاندانوں کو تقسیم کر دیا۔

جنگیں انسانی کردار کا امتحان ہوتی ہیں

کہتے ہیں کہ جنگ سے انسانی وجود کے خوفناک ترین اور بہترین دونوں طرح کے پہلو سامنے آ جاتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک اور ان کے باشندوں نے اپنے ہاں آنے والے یوکرینی پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں، اپنے گھر اور بازو کھلے رکھے۔ امدادی تنظیمیں،عام شہری اور دنیا بھر کے سیاست دان یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ پناہ گزینوں کی تعداد لاکھوں میں ہے تو مدد کرنے والے بھی کم نہیں۔ یہ منظر نامہ واقعی متاثر کن ہے۔

لیکن اسی پرجوش اور متاثر کن منظر نامے کا ایک مختلف اور تکلیف دہ پہلو بھی ہے، جو ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ یوکرین میں مدد کے ضرورت مند اور سیاہ اور گندمی رنگت کی جلد والے غیر ملکیوں کو محفوط مقامات اور دیگر ممالک تک رسائی دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ ایسا صرف گہری سیاہ رنگت والے افریقی باشندوں کے ساتھ ہی نہیں کیا جا رہا۔ ان میں مشرق وسطیٰ کی ریاستوں، پاکستان اور بھارت جیسے ممالک اور کئی دیگر خطوں کے شہری بھی شامل ہیں۔ یہ وہ غیر ملکی ہیں، جو قانونی طور پر یوکرین میں مقیم تھے لیکن ان کا اس طرح خیر مقدم نہیں کیا جا رہا، جیسے یوکرین کے مقامی باشندوں کا۔

بسوں اور ٹرینوں میں سفر کی اجازت سے انکار

ایسے بہت سے افراد کو تو ان بسوں اور ریل گاڑیوں میں سوار ہونے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، جو مہاجرین کو یوکرین کے اندر ہی لیکن مقابلتاﹰ محفوظ مقامات پر پہنچا رہی تھیں۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ بسیں اور ٹرینیں صرف یوکرینی شہریوں کے لیے تھیں۔ کئی واقعات میں جب ایسے غیر ملکی پیدل چل کر ہی پولینڈ کی سرحد تک پہنچے، تو چند پولستانی سرحدی گزرگاہوں سے انہیں واپس بھیج دیا گیا۔

یہ سب انسان بھی خطرے میں تھے، ڈرے ہوئے تھے، اور اتنے ہی ناامید جتنے کہ خود یوکرینی شہری۔ سوال یہ ہے کہ انہیں اظہار یکجہتی کے اس عمل سے خارج کیوں کیا گیا؟ کئی ایسے بین الاقوامی طلبا جنہوں نے پولینڈ کی سرحدوں کے قریب کئی راتیں گزاریں، ان کا شکوہ ہے کہ انہیں خوراک، پینے کا پانی اور دیگر سامانِ ضرورت تک بھی فراہم نہ کیا گیا۔ انہیں واپس ان علاقوں کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا، جہاں بمباری ہو رہی تھی اور انہیں کہا گیا کہ وہ اپنے لیے 'متبادل امکانات‘ تلاش کریں۔

یوکرین میں غیر ملکیوں کی تعداد

یوکرین میں چند روز پہلے تک مجموعی طور پر تقریباﹰ 76 ہزار غیر ملکی طلبا تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ یا تو بھارتی تھے یا مختلف افریقی ممالک کے شہری، جن میں نائجیریا، مراکش اور مصر بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں تارکین وطن اور غیر ملکی کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ ایسے انسانوں کو بھی مدد اور محفوظ مقامات پر منتقلی کی ضرورت تھی۔

یوکرائن پر روسی حملہ، دنیا بھر میں احتجاج

دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں ایسے غیر ملکیوں کے اہل خانہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اس لیے کہ اگر وہ روسی بمباری سے بچ بھی گئے، تو کئی دنوں تک واپس دھکیلے جانے والے اور مدد کے ضرورت مند یہ انسان زندہ کیسے رہیں گے؟ سب سے زیادہ المناک پہلو تو یہ ہے کہ مدد کے ضروت مند جو غیر ملکی سفید فام نہیں تھے، انہیں یہ سارا معاملہ جنگ اور نسل پرستی کا مسئلہ محسوس ہوا۔

انسان دوستی میں بھی انتخاب؟

سوشل میڈیا پر اب تک ایسی کئی ویڈیوز دیکھنے میں آ چکی ہیں، جن میں یوکرین میں افریقی باشندوں نے اپنے لیے مدد کی درخواستیں تو کیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی دکھائی دیا کہ انہیں کس طرح کے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ چند ویڈیوز میں تو ریاستی اہلکار اپنے ہتھیاروں کا رخ غیر ملکی طلبا کی طرف کر چکے تھے اور یہ غیر سفید فام طلبا چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ وہ تو غیر مسلح ہیں۔ اس دوران ایسے غیر یورپی باشندوں کے لیے آن لائن نفرت کا اظہار بھی کیا گیا۔

کئی مواقع پر تو سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ یوکرین میں رہنے والے رنگ دار جلد کے حامل یہ افراد اتنے مہذب نہیں تھے کہ انہیں بھی ریسکیو کیا جاتا۔ کئی صارفین نے کھل کر حمایت کی کہ پہلے سفید فام باشندوں کو ریسکیو کیا جانا چاہیے۔ یہ سب کچھ نسل پرستانہ رویوں کی قابل مذمت اور قطعی ناقابل قبول مثالیں ہی تو ہیں۔ مزید شرم کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ یوکرین میں ایک ایسے وقت پر اور جنگی ماحول میں دیکھنے میں آیا، جب یوکرین روسی فوجی حملوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی قوم کے مستقبل کے لیے فوجی کارروائی شروع کی ہے، پوٹن

اب یہ کہنا لازمی ہو گیا ہے: کسی بھی جنگ زدہ خطے میں پھنس کر رہ جانا بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اور اگر انسانی جلد کا رنگ سیاہ یا گندمی ہو تو پھر تو جنگ زدہ خطے سے فرار اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر کسی کو ایک ہی طرح کے خطرے کا سامنا ہے، تو سب کی مدد کرتے ہوئے ہر کسی کے ساتھ ایک ہی طرح کا سلوک کیوں نہیں کیا جا سکتا؟

سوال موجود، جواب ناپید

اب شاید یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ آیا اس طرز عمل کو یورپ میں امتیازی سلوک کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی سمجھا جانا چاہیے؟ اگر یہ سوال پوچھا گیا، تو اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں ہے۔ لیکن تمام تر خوف اور انتشار کے باوجود میں یہ کہو‌ں گی کہ اگر کوئی مقامی اہلکار مدد کے لیے یا بسوں اور ٹرینوں میں بٹھائے جانے کے وقت یہ فیصلہ ناانصافی سے کرتا ہے کہ کس کی فوری مدد کی جانا چاہیے اور کس کی نہیں، تو یہ اس کی طرف سے دراصل یہ اعلان ہو گا کہ انسانیت، ہاں، مگر سب کے لیے نہیں۔

یہی موقف، سوچ اور رویے سب سے برے ہیں۔ انسانیت اور انسانوں سے یکجہتی کا اظہار سب کے لیے ہوتے ہیں، صرف منتخب کردہ یا خاص قسم کے ضرورت مندوں کے لیے نہیں۔ یورپی یونین کے رکن ممالک کی حکومتوں نے تو یوکرین سے فرار ہونے والے انسانوں کی شفاف اور بلاامتیاز مدد کا فیصلہ کرتے ہوئے ضرورت مندوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا۔

اب لیکن ضروت اس امر کو یقنینی بنانے کی ہے کہ جہاں اس یکجہتی کا عملی اظہار کیا جا رہا ہے، وہاں کوئی بھی ضرورت مند اور حقدار اس یکجہتی سے محروم نہ رہے۔ آج کے یورپ میں یوکرین سے فرار کے خواہش مند انسانوں کی مدد کرتے ہوئے اگر اندرون ملک یا یوکرین کی قومی سرحدوں پر متاثرین کی مدد کے فیصلے ان کی جلد کی رنگت، نسل، قومیت یا شہریت کی بنیاد پر کیے گئے، تو یہ اس دنیا کی بہت بڑی ناکامی ہو گی، جسے 'مہذب دنیا‘ کہا جاتا ہے۔

وفا البدری (م م / ع ا)

بے گھر يوکرائنی شہری، پولش سرحد پر پناہ لينے پر مجبور