1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
مہاجرتاسپین

اسپین لاکھوں غیرقانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دے گا

صلاح الدین زین اے پی، ڈی پی اے کے ساتھ
28 جنوری 2026

اسپین کی حکومت نے اپنے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے کم از کم پانچ لاکھ تارکین وطن کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

https://p.dw.com/p/57ZoG
اسپین میں تارکین وطن
حکومت کے اس اقدام کے تحت مستفید ہونے والوں کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا، جس کے بعد اس میں توسیع بھی ممکن ہو گیتصویر: picture alliance / abaca

اسپین کی بائیں بازو کی حکومت کی ترجمان اور سینیئر وزیر ایلما سائز نے منگل کے روز اعلان کیا کہ کابینہ کے ایک اہم فیصلے کے بعد تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی طور پر رہائشی حیثیت دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

اس کے تحت قانونی حیثیت اُن غیر ملکی شہریوں کو دی جائے گی، جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہو گا اور جو یہ ثابت کر سکیں گے کہ وہ 31 دسمبر 2025 سے قبل کم از کم پانچ ماہ تک اسپین میں ہی مقیم رہے ہیں۔

اسپین کی وزیر برائے شمولیت، سماجی تحفظ اور ہجرت، ایلما سائز نے کہا، "یہ ہمارے ملک کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔"

اس اقدام کے تحت مستفید ہونے والوں کو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا، جس کے بعد اس میں توسیع بھی ممکن ہو گی۔ قانونی حیثیت کے لیے درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور یہ عمل جون کے آخر تک جاری رہے گا۔

حکومت اس پر مزید کیا کہا؟

وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے تارکینِ وطن کو اسپین کے لیے "دولت، ترقی اور خوشحالی" قرار دیتے ہوئے سماجی تحفظ کے نظام میں ان کی شراکت کا حوالہ دیا ہے۔

ایلما سائز نے کہا، "ہم انسانی حقوق، انضمام، باہمی ہم آہنگی پر مبنی مہاجرت کے ایک ایسے ماڈل کو مضبوط کر رہے ہیں جو معاشی ترقی اور سماجی یکجہتی کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔"

حکومت اور بائیں بازو کی جماعتوں نے تارکینِ وطن کے ساتھ انسانی سلوک کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

انتہائی بائیں بازو کی پوڈیموس پارٹی کی رہنما اور سابق وزیر آئرینے مونتیرو نے کہا، "حقوق فراہم کرنا نسل پرستی کا جواب ہے۔"

اسپین میں تارکین وطن کی آمد
اس وقت اسپین میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کی سب سے بڑی تعداد کولمبیا، پیرو اور ہونڈوراس سے تعلق رکھتی ہےتصویر: IMAGO/ABACAPRESS

اسپین کی سوشلسٹ قیادت والی اتحادی حکومت، بڑے یورپی ممالک کے مقابلے میں اس معاملے پر ایک منفرد مؤقف رکھتی ہے، اور معیشت کے لیے تارکینِ وطن کی اہمیت پر زور دیتی رہی ہے۔

اسپین میں تارکین وطن

حالیہ برسوں کے دوران اسپین میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد پہنچی ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق لاطینی امریکہ سے ہے۔

ایک قدامت پسند تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق، 2017 میں اسپین کے اندر غیر قانونی تارکینِ وطن کی تعداد 107,409 تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 837,938 ہو گئی، یعنی اس میں آٹھ گنا کا اضافہ ہوا۔

اس وقت اسپین میں مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کی سب سے بڑی تعداد کولمبیا، پیرو اور ہونڈوراس سے تعلق رکھتی ہے۔

حالیہ برسوں میں اسپین کی معیشت یورپی یونین کی دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے، اور 2025 میں تقریباً تین فیصد کی معاشی نمو کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

منگل کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بے روزگاری، جو طویل عرصے سے اسپین کی معیشت کی ایک کمزوری رہی ہے، 2008 کے بعد پہلی بار 10 فیصد سے نیچے آ گئی۔

مختلف رہنماؤں کا رد عمل

انتہائی بائیں بازو کی پوڈیموس پارٹی سے تعلق رکھنے والی اور سوشلسٹوں کے ساتھ مخلوط حکومت میں سابق وزیر آئرین مونٹیرو نے کہا، "حقوق فراہم کرنا نسل پرستی کا جواب ہے۔"

انہوں نے اس اقدام کے لیے مہم چلائی تھی، جس کے بعد ہی پارٹی اور حکومت کے درمیان اس پر ایک معاہدہ طے پایا تھا۔

اس سے قبل تارکینِ وطن کی بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت کے لیے پیش کی گئی ایک عوامی قانون سازی کی تجویز کو تقریباً 7 لاکھ افراد کی حمایت حاصل ہوئی تھی، لیکن وہ طویل عرصے سے پارلیمان میں زیرِ التوا ہے۔

تازہ ترین اقدام شاہی فرمان کے ذریعے منظور کیا جائے گا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے لیے پارلیمان کی منظوری درکار نہیں ہو گی۔

اسپین میں غیر قانونی تارکین وطن
سن 1986 سے 2005 کے درمیان، سوشلسٹ اور قدامت پسند پیپلز پارٹی دونوں کی حکومتوں نے ایسے ہی اقدامات کیے تھے، جن کے تحت اندازاً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دی گئی تھیتصویر: picture-alliance/dpa

 گزشتہ بیس برسوں کے دوران اسپین میں تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا یہ سب سے بڑا اقدام ہے۔

اس سے قبل 1986 سے 2005 کے درمیان، سوشلسٹ اور قدامت پسند پیپلز پارٹی دونوں کی حکومتوں نے ایسے اقدامات کیے تھے، جن کے تحت اندازاً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دی گئی تھی۔

تاہم، پیپلز پارٹی کے رہنما البرتو نونیز فیخو نے کہا کہ بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت دینے کے اس تازہ ترین اقدام سے لوگ اور زیادہ ہجرت کی طرف مائل ہوں گے، جس سے عوامی خدمات پر بوجھ بڑھ جائے گا۔

انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی کی ترجمان پیپا میلیان نے کہا کہ یہ اقدام "ہماری شناخت پر حملہ ہے"، اور زور دیا کہ پارٹی اسے روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی۔

ادارت: جاوید اختر

اسپین میں پاکستانی نوجوان کا ان کی زندگی بدل دینے والا بکری فارم

صلاح الدین زین صلاح الدین زین اپنی تحریروں اور ویڈیوز میں تخلیقی تنوع کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔