1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

فلسطین کی صورتحال پر سعودی عرب کی ترکی اور ایران سے بات چیت

12 اکتوبر 2023

سعودی عرب، ترکی اور ایران کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں 'فلسطین کے خلاف جنگی جرائم کے خاتمے کی ضرورت' پر زور دیا گیا۔ ایران سعودی تعلقات کی بحالی کے بعد محمد بن سلمان اور ابراہیم رئیسی کے درمیان یہ پہلی بات چیت ہے۔

https://p.dw.com/p/4XQuh
محمد بن سلمان
چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے اور تہران و ریاض کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر یہ پہلی بات چیت تھیتصویر: Balkis Press/abaca/picture alliance

حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کی وجہ سے مشرقی وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی صورت حال پر سعودی عرب کے عملاً حکمراں ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے بات چیت کی ہے۔ تینوں رہنماؤں نے عام شہریوں پر حملوں کو ناقابل قبول بتایا ہے۔

اسرائیل اور حماس میں لڑائی جاری، تقریباً ڈھائی ہزار افراد ہلاک

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق فلسطین کی تازہ صورتحال پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی بات چیت ہوئی، جس میں ''فلسطین کے خلاف جنگی جرائم کے خاتمے کی ضرورت'' پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیل اور حماس کی لڑائی میں ہلاکتیں اب دو ہزار سے زائد

چین کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے اور تہران و ریاض کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فون پر یہ پہلی بات چیت تھی۔

حزب اللہ کا راکٹ حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر گولہ باری

دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر ایسے وقت رابطہ ہوا ہے، جب حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے جواب میں غزہ پٹی کے علاقے میں اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں۔

کیا مودی حکومت نے بھارت کی دیرینہ فلسطین پالیسی ترک کر دی؟

 دونوں میں کیا بات چیت ہوئی؟

ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ''فلسطین کے خلاف جنگی جرائم کے خاتمے کی ضرورت'' پر تبادلہ خیال کیا۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ''فلسطین کے خلاف جنگی جرائم کے خاتمے کی ضرورت'' پر تبادلہ خیال کیاتصویر: Seth Wenig/AP/dpa/picture alliance

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کی اطلاع کے مطابق مملکت کے ولی عہد نے اپنی طرف سے، ''اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مملکت سعودی عرب فی الوقت جاری کشیدگی کو روکنے کے لیے تمام بین الاقوامی اور علاقائی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔'' 

ایس پی اے نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے عام شہریوں کو کسی بھی طرح سے نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔

سعودی عرب اور ایران نے سات برس کی دشمنی کے بعد چین کی طرف سے طے شدہ معاہدے کے تحت گزشتہ مارچ میں تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں ملکوں کی کشیدگی سے خلیج میں استحکام اور سلامتی کو خطرہ لاحق تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر رئیسی کے درمیان فون کال کے بارے میں جب امریکہ سے سوال کیا گیا، تو امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن ''سعودی رہنماؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں '' ہے۔

واضح رہے کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی لڑائی میں امریکہ اسرائیل کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔

حماس کیا ہے؟

ترک صدر اور محمد بن سلمان میں بات چیت

بدھ کے روز ترک صدر طیب ایردوآن کی بھی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر بات ہوئی۔

ترکی کے سرکاری میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران ایردوآن نے محمد بن سلمان کو بتایا کہ ترکی نے اسرائیل-فلسطینی تنازعہ سے متاثرہ شہریوں کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

ایردوآن نے ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی ایک پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ شہری بستیوں پر بمباری کرنا ناقابل قبول ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ '' تنازعات کے خاتمے کے لیے خطے کے ممالک کے لیے تعمیری پیغامات دینا ضروری ہے۔''

سعودی خبر رساں ایجنسی نے اس بات چیت کے حوالے سے اطلاع دی کہ سعودی ولی عہد نے فلسطینی کاز کی حمایت پر مملکت کے مضبوط موقف کا اعادہ کیا اور ''جامع اور اس منصفانہ امن، جو فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق تک رسائی کی ضمانت دیتا ہو'' کے حصول کے لیے کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

فون کال کے دوران ولی عہد نے کہا کہ مملکت اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری کے مقصد سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

ص ز / ج ا (روئٹڑز، ایس پی اے)

اسرائیل کا غزہ پٹی کے مکمل محاصرے کا اعلان