1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
جرائمفرانس

’بس بہت سزا کاٹ لی‘: مگر جیل سے مفرور فرنچ قیدی پھر پکڑا گیا

مقبول ملک اے ایف پی کے ساتھ
18 دسمبر 2025

فرانس میں وہ دوسرا قیدی بھی پھر پکڑا گیا ہے، جو اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ڈرامائی حد تک فلمی انداز میں جیل سے فرار ہوا تھا۔ یہ دونوں قیدی ایک چھوٹی دستی آری کے بلیڈ سے سلاخیں کاٹ کر بستر کی چادروں کی مدد سے فرار ہوئے تھے۔

https://p.dw.com/p/55dB8
جیل کے ایک سیل میں داخل ہوتے ہوئے مجرم کی ایک علامتی تصویر
دوسرا مفرور مجرم بھی اب پھر سے جیل پہنچ گیا ہےتصویر: Felix Kästle/dpa/picture-alliance

فرانسیسی شہر لیوں سے جمعرات 18 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان دونوں قیدیوں نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں مشرقی شہر دیجوں کی ایک جیل میں پہلے اپنے سیل کی ایک کھڑکی کی سلاخیں ایک عام سی دستی آری کے چھوٹے سے بلیڈ سے کاٹی  تھیں اور پھر بستر کی چادروں سے ایک موٹی رسی بنا کر اور اس سے لٹک کر یوں فرار ہو گئے تھے، جیسا عموماﹰ فلموں کے بہت ڈرامائی مناظر میں دیکھنے میں آتا ہے۔

پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے فیملی ہومز، ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

ان میں سے ایک 32 سالہ مفرور قیدی تو فرار کے اگلے ہی روز پھر پکڑا گیا تھا جبکہ دوسرا مفرور مجرم بھی اب دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز پھر جیل پہنچ جانے والا یہ قیدی ایک ایسا 19 سالہ سزا یافتہ مجرم ہے، جس پر منشیات کے کاروبار سے جڑے اقدام قتل کے ایک جرم کا الزام تھا۔

فرانس میں پیرس کی مشہور لا سانتے جیل کی فضا سے لی گئی ایک تصویر
فرانس میں پیرس کی مشہور لا سانتے جیل کی فضا سے لی گئی ایک تصویرتصویر: ABACA/picture alliance

’بس، بہت ہو گیا، بہت سز اکاٹ لی‘

رات کی تاریکی میں مل کر فرار ہونے والے ان دونوں قیدیوں کے ان کے سیل سے غائب ہو جانے کا علم دیجوں کی جیل کے عملے کو اگلی صبح ہوا تھا۔ اب جس مفرور نوجوان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے، اس نے فرار کے وقت سیل میں چھوڑے گئے اپنے ایک تحریری پیغام میں لکھا تھا: ''بس، بہت ہو گیا، بہت سز اکاٹ لی۔‘‘

فرانسیسی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ اس مفرور قیدی کو جنوبی فرانس کے بندرگاہی شہر مارسے سے گرفتار کیا گیا اور اس کے پکڑے جانے سے کئی روز قبل بین الاقوامی پولیس انٹرپول نے اس کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس سے جاری کر دیا تھا۔

جنوبی ایشیا میں زندان میں تخلیق پانے والے ادب کی ایک خاموش روایت

ان دونوں قیدیوں کے فرار کے واقعے کی چھان بین کرنے والے جوڈیشل ماہرین کے مطابق انہوں نے اپنے سیل کی سلاخیں کاٹنے کے لیے ہاتھ سے کسی آہنی شے کو کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے ایک آری کے ''پرانی طرز کے‘‘ جس عام سے بلیڈ کا استعمال کیا تھا، وہ جیل میں ان تک غالباﹰ ایک ننھے سے ڈرون کی مدد سے پہنچایا گیا تھا۔

شمالی فرانس میں ایک جیل کا کوریڈور، دائیں طرف قیدیوں کے سیلز کے دروازے
شمالی فرانس میں ایک جیل کا کوریڈور، دائیں طرف قیدیوں کے سیلز کے دروازےتصویر: Michel Euler/AP Photo/picture alliance

بھارت: تقریباﹰ دس سال سے چلنے والا جعلی سفارت خانہ بے نقاب

انیس سالہ مفرور قیدی کو دیجوں کی جیل سے قریب 500 کلو میٹر دور اس کے آبائی شہر مارسے میں ایک ایسے علاقے سے پھر دبوچ لیا گیا، جو وہاں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے لیے کافی بدنام ہے۔

اس دوسرے مفرور قیدی کی گرفتاری اور جیل سے فرار کے اس واقعے کے ناکام انجام کی تصدیق دیجوں میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بھی کر دی ہے۔

فرانس میں جیلوں کی بری صورت حال

فرانس میں جیلوں کی عمومی صورت حال اتنی بری ہے کہ وہ گنجائش سے بہت زیادہ حد تک بھری ہوتی ہیں اور انہیں زیادہ محفوظ اور جدید بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

فرانسیسی جیلوں میں قیدیوں کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ اس شعبے میں فرانس کو یورپ کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

فرانس کا بدنام چور، جیل سے ہیلی کاپٹر پر فرار ہو گیا

فرانس میں انتہائی خطرناک مجرموں کی ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقلی کے وقت پولیس اور خصوصی کمانڈوز کی طرف سے بند کی گئی ایک سڑک
فرانس میں انتہائی خطرناک مجرموں کی ایک جیل سے دوسری جیل میں منتقلی کے وقت پولیس اور خصوصی کمانڈوز کی طرف سے بند کی گئی ایک سڑکتصویر: AFPTV Teams/Lucie Carbajal/Margaux Chauvineau/AFP

اسی لیے نومبر میں ان قیدیوں کے فرار کے بعد فرانسیسی جیلوں کے عملے کی یونین کی طرف سے حکومت پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ خطرناک مجرموں کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی نئی جیلوں میں منتقل تو کر رہی ہے، مگر ساتھ ہی بہت پرانی ہو چکی اور کھچا کھچ بھری ہوائی عام جیلوں کی بری صورت حال کو مسلسل نظر انداز بھی کر رہی ہے۔

کراچی میں ملیر جیل سے فرار متعدد قیدی دوبارہ گرفتار

قومی سطح پر فرانس میں اس سال اکتوبر تک صورت حال یہ تھی کہ جیلوں میں اوسطاﹰ ہر سو قیدیوں کو رکھنے کی جگہ پر 135 قیدیوں کو رکھا جا رہا تھا۔

فرانسیسی وزارت انصاف کے مطابق 1853 میں تعمیر کردہ دیجوں کی جیل میں صرف 180 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے مگر ان دونوں قیدیوں کے وہاں سے فرار کے وقت وہاں قید مجرموں اور ملزموں کی مجموعی تعداد 311 بنتی تھی۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔