’بس بہت سزا کاٹ لی‘: مگر جیل سے مفرور فرنچ قیدی پھر پکڑا گیا
18 دسمبر 2025
فرانسیسی شہر لیوں سے جمعرات 18 دسمبر کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ان دونوں قیدیوں نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں مشرقی شہر دیجوں کی ایک جیل میں پہلے اپنے سیل کی ایک کھڑکی کی سلاخیں ایک عام سی دستی آری کے چھوٹے سے بلیڈ سے کاٹی تھیں اور پھر بستر کی چادروں سے ایک موٹی رسی بنا کر اور اس سے لٹک کر یوں فرار ہو گئے تھے، جیسا عموماﹰ فلموں کے بہت ڈرامائی مناظر میں دیکھنے میں آتا ہے۔
پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے فیملی ہومز، ایک دیرینہ خواب کی تعبیر
ان میں سے ایک 32 سالہ مفرور قیدی تو فرار کے اگلے ہی روز پھر پکڑا گیا تھا جبکہ دوسرا مفرور مجرم بھی اب دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جمعرات کے روز پھر جیل پہنچ جانے والا یہ قیدی ایک ایسا 19 سالہ سزا یافتہ مجرم ہے، جس پر منشیات کے کاروبار سے جڑے اقدام قتل کے ایک جرم کا الزام تھا۔
’بس، بہت ہو گیا، بہت سز اکاٹ لی‘
رات کی تاریکی میں مل کر فرار ہونے والے ان دونوں قیدیوں کے ان کے سیل سے غائب ہو جانے کا علم دیجوں کی جیل کے عملے کو اگلی صبح ہوا تھا۔ اب جس مفرور نوجوان کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے، اس نے فرار کے وقت سیل میں چھوڑے گئے اپنے ایک تحریری پیغام میں لکھا تھا: ''بس، بہت ہو گیا، بہت سز اکاٹ لی۔‘‘
فرانسیسی پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ اس مفرور قیدی کو جنوبی فرانس کے بندرگاہی شہر مارسے سے گرفتار کیا گیا اور اس کے پکڑے جانے سے کئی روز قبل بین الاقوامی پولیس انٹرپول نے اس کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس سے جاری کر دیا تھا۔
جنوبی ایشیا میں زندان میں تخلیق پانے والے ادب کی ایک خاموش روایت
ان دونوں قیدیوں کے فرار کے واقعے کی چھان بین کرنے والے جوڈیشل ماہرین کے مطابق انہوں نے اپنے سیل کی سلاخیں کاٹنے کے لیے ہاتھ سے کسی آہنی شے کو کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے ایک آری کے ''پرانی طرز کے‘‘ جس عام سے بلیڈ کا استعمال کیا تھا، وہ جیل میں ان تک غالباﹰ ایک ننھے سے ڈرون کی مدد سے پہنچایا گیا تھا۔
بھارت: تقریباﹰ دس سال سے چلنے والا جعلی سفارت خانہ بے نقاب
انیس سالہ مفرور قیدی کو دیجوں کی جیل سے قریب 500 کلو میٹر دور اس کے آبائی شہر مارسے میں ایک ایسے علاقے سے پھر دبوچ لیا گیا، جو وہاں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کے لیے کافی بدنام ہے۔
اس دوسرے مفرور قیدی کی گرفتاری اور جیل سے فرار کے اس واقعے کے ناکام انجام کی تصدیق دیجوں میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے بھی کر دی ہے۔
فرانس میں جیلوں کی بری صورت حال
فرانس میں جیلوں کی عمومی صورت حال اتنی بری ہے کہ وہ گنجائش سے بہت زیادہ حد تک بھری ہوتی ہیں اور انہیں زیادہ محفوظ اور جدید بنانے کی بھی ضرورت ہے۔
فرانسیسی جیلوں میں قیدیوں کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ اس شعبے میں فرانس کو یورپ کی بدترین مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
فرانس کا بدنام چور، جیل سے ہیلی کاپٹر پر فرار ہو گیا
اسی لیے نومبر میں ان قیدیوں کے فرار کے بعد فرانسیسی جیلوں کے عملے کی یونین کی طرف سے حکومت پر یہ الزام بھی لگایا گیا تھا کہ وہ خطرناک مجرموں کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات والی نئی جیلوں میں منتقل تو کر رہی ہے، مگر ساتھ ہی بہت پرانی ہو چکی اور کھچا کھچ بھری ہوائی عام جیلوں کی بری صورت حال کو مسلسل نظر انداز بھی کر رہی ہے۔
کراچی میں ملیر جیل سے فرار متعدد قیدی دوبارہ گرفتار
قومی سطح پر فرانس میں اس سال اکتوبر تک صورت حال یہ تھی کہ جیلوں میں اوسطاﹰ ہر سو قیدیوں کو رکھنے کی جگہ پر 135 قیدیوں کو رکھا جا رہا تھا۔
فرانسیسی وزارت انصاف کے مطابق 1853 میں تعمیر کردہ دیجوں کی جیل میں صرف 180 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش ہے مگر ان دونوں قیدیوں کے وہاں سے فرار کے وقت وہاں قید مجرموں اور ملزموں کی مجموعی تعداد 311 بنتی تھی۔
ادارت: کشور مصطفیٰ